پرویز الٰہی کو بحفاظت گھر نہ پہچانے پر توہین عدالت ، اعلیٰ پولیس افسران کو پیش ہونے کیلیے 2بجے تک کی مہلت

28

لاہور: ہائیکورٹ نے پرویز الٰہی کو بحفاظت گھر نہ پہچانے پر قیصرہ الٰہی کی توہین عدالت کی درخواست پر ڈی آئی جی آپریشنز اور ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کو پیش ہونے کے لیے دو بجے تک کی مہلت دے دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے پرویز الٰہی کی اہلیہ قیصرہ الہیٰ کی درخواست پر سماعت کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ پرویز الٰہی کو عدالتی حکم کے باوجود بحفاظت گھر نہیں پہنچایا گیا، عدالتی حکم عدولی پر پولیس افسران کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے۔

دوران سماعت ڈی آئی جی سیکیورٹی کامران عادل لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے۔ جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دیے کہ آپ تو اس کیس میں فریق ہی نہیں ہیں۔
ڈی آئی جی نے کہا کہ عدالت نے طلب کس کو کیا اس متعلق کنفیوزن تھی اس لیے میں حاضر ہوا ہوں۔

لاہور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست پر دو بجے تک تمام افسران کو ہی پیش ہو کے جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔دوسری جانب، پرویز الٰہی کی رہائی اور کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف نیب نے اپیل دائر کر دی۔ نیب نے اپنی انٹرا کورٹ اپیل میں پرویز الٰہی سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے۔

نیب اپیل میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سنگل بینچ نے نیب کا پورا موقف سنے بغیر پرویز الٰہی کی رہائی کا حکم دیا، پرویز الٰہی کی گرفتاری قانونی تھی پرویز الٰہی ریمانڈ پر تھے۔ سنگل بینچ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا اور رہائی کا حکم جاری کر دیا، پرویز الٰہی کو کسی بھی کیس میں گرفتار نہ کرنے کا حکم بھی قانونی طور پر درست نہیں۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ لاہور ہائیکورٹ سنگل بینچ کا پرویز الٰہی کو رہا کرنے اور کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے اور اپیل کے حتمی فیصلے تک سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں