سوشل میڈیا پر وائرل منگلا ڈیم کی تعمیر کا معاہدہ نہیں بلکہ مکتوب ہے۔ترجمان توانائی و آبی وسائل

17

مظقر آباد(سٹاف رپورٹر) محکمہ توانائی و آبی وسائل کے ترجمان نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے مبینہ معاہدے منگلا ڈیم کی تصاویر کے حوالے سے ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہیکہ جن تصاویر کو سوشل میڈیا میں اس تاثر کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہیکہ یہ حکومت پاکستان اور حکومت آزاد جموں و کشمیر کے مابین طے پانے والے معاہدے کی ہیں ، یہ حقیقت کے بر عکس ہے۔ ان تصاویر میں شامل ایک غیر دستخط شدہ مکتوب اور اُس پر درج تاریخ (10.10.1962) سے یہ حقیقت بخوبی عیاں ہوجاتی ہے کہ یہ ناقابلِ انحصار ہے اور اس کے ہمراہ دکھائے گئے چند صفحات منگلا ڈیم معاہدہ کی عکاسی نہیں کرتے۔

سندھ طاس کے معاہدہ کے تحت عالمی بینک کے تعاون سے دریائے سندھ اور دریائے جہلم پر تعمیر ہونے والے دو بڑے کثیر المقاصد آبی منصوبوں میں سے ایک کے آزاد جموں و کشمیر میں واقع ہونے کے باعث اس پر دونوں حکومتوں کے درمیان بات چیت و خط و کتابت 1962، جب اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا، سےلیکر 1967 میں منصوبے کی تکمیل تک جاری رہی۔ سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے صفحات بظاہر ۱۹۶۲ میں ترتیب دئیے گئے ابتدائی مسودے اور اس کے ہمراہ ارسال کئے گئے کورنگ لیٹر کی بعد میں بنائی گئی نقل ہے۔

جس میں دوران مشاورت بہت سی تبدیلیاں عمل میں لائی گئیں۔ اس منصوبے کے حوالہ سے دونوں حکومتوں کے حقوق و فرائض کے تعین کیلئے حتمی معاہدہ 1967 میں طے پایا۔اس معاہدے کی مصدقہ دستاویزات آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے متعدد محکمہ جات کے پاس موجود ہیں، جنہیں ریاست کے مفاد میں وقتاً فوقتاً ضرورت پڑنے پر اس معاہدے کی متعلقہ دفعات کے حوالے سے معاملات کو اٹھایا اور طے کیا جاتا رہا ہے۔ یہ معاہدہ نہ تو خفیہ دستاویز ہے اور نہ ہی اس کے بارے میں ذرائع ابلاغ بالخصوص سوشل میڈیا میں پائے جانے والے تاثرات حقیقت سے مطابقت رکھتے ہیں۔

اسی معاہدے کے تسلسل میں ۲۰۰۳ کا منگلا ڈیم ریز نگ ایگریمنٹ اور ۲۰۲۲ کاواٹر یوز چارجز (رائیلٹی) کی شرح میں اضافے کا ترمیمی معاہدہ طے پائے ہیں۔یہ تصور کیا جانا قطعی طور پر درست نہیں ہو گا کہ ان میں سے کسی معاہدے کی دستاویزات آزاد حکومت کی دسترس میں نہیں ہیں۔واضح رہے کہ آزادکشمیر میں بننے والے پن بجلی کے ہر منصوبے ، خواہ وہ پبلک سیکٹر میں تعمیر کیا گیا ہو یا پرائیویٹ سیکٹر میں ، کی نسبت باقاعدہ معاہدات کیئے جاتے ہیں اور انہی کے تحت یہ منصوبے رو بہ عمل ہوتے ہیں۔پبلک سیکٹر میں وفاقی حکومت کی اتھارٹی (پاکستان واپڈا) کی طرف سے لگائے گئے نیلم و جہلم پن بجلی منصوبے کے سہہ فریقی معاہدے پر دستخط میں بوجوہ تاخیر واقع ہوئی ہے تاہم اس معاہدے پر دستخطوں کا مرحلہ قریب آ چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں