میرپور ( سٹیٹ ویوز) سپریم کورٹ میرپور میں روبکار بنام ڈپٹی کمشنر کیس کی سماعت ،ادارہ ترقیات کی بندش پر ڈی جی ایم ڈی اے کی سخت سرزنش،عدالت کا اظہار ناراضگی ،ملازمین مفت کی تنخواہیں لے رہے کمیٹی نے چار ماہ کا وقت لیا ایڈووکیٹ جنرل حکومت سے پوچھ کر بتائیں کہ تحقیقات کہاں پہنچیں، کمیٹی بڑی ہے یا عدالت ، کہاں کہا ہم نے کہ روٹین کا کام بھی بند کردیں،تجاوزات آپریشن کی ڈپٹی کمشنر نگرانی کریں اس کو تیز اور جلد میرٹ پر مکمل کریں،پسند ناپسند کی شکایت نہیں آنی چاہیے سماعت یکم فروری تک ملتوی تفصیلات کے مطابق روبکار بنام ڈپٹی کمشنر کیس کی سماعت فل کورٹ بینچ جس میں چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان،جسٹس رضا علی خان اور جسٹس خواجہ نسیم شامل تھے نے کی ،عدالت نے ڈی جی ادارہ ترقیات سے استفسار کیا کہ ادارہ کیوں بند ہے.
ہم نے تو ادارہ ترقیات بند کرنے کا کہیں نہیں کہا ،ملازمین مفت کی تنخواہیں لے رہے ہیں ،ڈی جی نے کہا کہ کمیٹی نے بند کیا ہوا ہے عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوے ڈی جی کی سرزنش کی اور کہا کہ چار ماہ کا وقت لیا گیا تھا مگر بتائیں تالے لگانے کے علاوہ کیا کام ہوا؟ عدالت بڑی ہے یا کمیٹی؟ انھوں نے ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ حکومت کی طرف سے کمیٹی سے جواب لیکر یکم فروری کو جواب لیکر آئیں کہ روز مرہ کے کام کیوں بند ہیں اور تحقیقات کہاں پہنچی ہیں،معزز عدالت نے کیس میں ڈپٹی کمشنر میرپور کو حکم دیا کہ وہ تجاوزات کے خلاف آپریشن تیز اور جلد مکمل کریں اور آپریشن بغیر پسند ناپسند اور میرٹ پر ہونا چاہیے.
ے اس میں سستی برداشت نہیں انھوں نے ریمارکس دئیے کہ عدلیہ کا نام لیکر ادارہ ترقیات لو بند کرکے لوگوں کی مشکلات بنائی گئی شکایات ہم تک پہنچ رہی ہیں سول سوسائٹی کی جانب سے ممتاز ریاستی قانون دان ذولفقار راجہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوے جنہوں نے تو ہین عدالت کی درخواست دائر کر رکھی ہے