وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ افسوس ہے زیادتی کے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں، خواتین کو ہراساں کرنا میری ریڈ لائن ہے۔خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ چاہتی ہوں دوسرے صوبوں میں بھی خواتین وزرائے اعلیٰ ہوں، خواتین کیلئےکوئی ایک دن مختص نہیں ہوتا، ہر روز خاتون کا دن ہوتا ہے، میں ہر خاتون کو سلام پیش کرتی ہوں اور اس کی قدر کرتی ہوں۔
مریم نواز کا کہنا تھا خواتین کو ہراسانی سمیت بہت سے معاملات برداشت کرنا پڑتے ہیں لیکن اس کے باوجود خواتین زندگی کے ہر شعبے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا مجھے بھی ہراسانی سمیت دیگر معاملات نے کندن بنایا ہے، خواتین زندگی کے کسی بھی شعبے میں کارکردگی دکھانا چاہتی ہیں تو ضرور دکھائیں، خواتین کو ہراساں کرنا میری ریڈ لائن ہے۔
مریم نواز کا یہ بھی کہنا تھا افسوس زیادتی کے کیس روز کا معمول بن چکے ہیں، ہمارے نظام میں ابھی بہت سی خرابیاں ہیں، افسوس ہمارے معاشرے میں شکایت کرنے پر پابندیاں خاتون پر ہی لگتی ہیں، ماں باپ اور بہن بھائیوں کو چاہیئے کہ خواتین میں اعتماد پیدا کریں، بچی اپنے گھر اور ماں کی گود سے اعتماد لےکر نکلے گی تو زیادہ طاقتور ہو گی۔
ان کا کہنا تھا خواتین کے تحفظ کیلئے سیفٹی ایپ بنائی گئی ہے، اسکول، کالج، یونیورسٹی کی طالبات اور ورکنگ ویمن کو اس ایپ کا استعمال کرنا چاہیے، زیادتی اور تشدد کرنے والے ملزمان پکڑے جاتے ہیں لیکن عدالت میں انہیں رہائی مل جاتی ہے۔مریم نواز کا کہنا تھا کم عمر بچوں کو گھریلو ملازم رکھنا جرم ہے، انہیں سخت سزائیں ملیں گی، سیف سٹی پراجیکٹ پر شہباز شریف کو سیلوٹ پیش کرتی ہوں، پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت کیمرے لگیں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے تحت نوکریوں میں خواتین کا کوٹہ 15 فیصد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ محکموں میں ڈے کیئر سینٹرز دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کرتی ہوں۔مریم نواز کا کہنا تھا میٹرنٹی چھٹیوں کی 3 دن میں منظوری کیلئے قانون بنانے جا رہے ہیں، خواتین کی سیٹوں پر خواتین کو فوری بھرتی کیا جائے گا، سیف سٹی میں کام کرنےوالی خواتین کے ہاسٹل کیلئے فنڈز جاری کر رہی ہوں، چھوٹے کاروبار کرنے والی خواتین کو بلاسود قرضہ دیں گے۔