وزیراعظم شہباز شریف کا مہنگائی کو حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار

32

اسلام آباد (مدثرحسین،سٹیٹ ویوز )عام آدمی ہر روز کی ایک نئی کہانی سے تنگ آگیا ہے اُس کا مسئلہ مہنگائی اور بے روزگاری ہے ۔ یوں تو اس وقت پوری دنیا میں وسائل کی تقسیم کی وجہ سے افراتفری ہے لیکن اگر اعداد و شمار دیکھیں تو اس وقت اسرائیل کی غزہ میں جارحیت کی وجہ سے بحیرہ احمر میں باب المندب کا سمندری روٹ بند ہے اور اس کا اثر امریکہ سمیت تمام مغربی ممالک کی معیشت پر پڑ رہا ہے لیکن غلط بیانی کرتے ہوئے شرحِ سود میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں مصنوعی اضافہ کر کے جیسے تیسے اپنی معیشتوں کو سنبھالا دینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ایسا زیادہ عرصے تک نہیں ہوگا۔ اقوام متحدہ بتا رہا ہے کہ ان نام نہاد ترقی یافتہ ممالک میں مہنگائی کا جن قابو سے باہر ہونے والا ہے۔ اس لیے روس اور یوکرین جنگ کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی غزہ پر جارحیت فوراً روکی جائے۔ اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے کیونکہ پاکستان میں پہلے سے ہی مہنگائی اپنے عروج پر ہے اور عوام کا جینا دوبھر ہو چکا ہے۔ پاکستان میں اس وقت سفید پوش لوگ بڑی مشکل سے زندگی کی گاڑی کو رواں رکھے ہوئے ہیں۔وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہےکہ غریب عوام کو پیسنے والی مہنگائی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا پہلا اجلاس ہوا جس میں کابینہ ارکان کو معاشی چیلنجز سے آگاہ کیا کہ غریب آدمی مہنگائی کے بوجھ تلے پس گیا ہے اشرافیہ کو سبسڈی دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ بہترین ٹیم منتخب کی گئی ہے، ان شاء اللہ پاکستان کو مشکلات سے نکالیں گے، ٹیم میں تجربہ اور بھرپور انرجی کا امتزاج ہے۔

اجلاس میں وفاقی کابینہ کے ارکان کو وزیراعظم نے مبارکباد دی اور کہا کہ مشکل حالات میں مقابلہ کرنا ہوگا۔ خیال رہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد آج پاکستان پہنچےگا، وفد اسٹینڈ بائی پروگرام کے تحت اگلی قسط جاری کرنےکے لیے مذاکرات کرےگا۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات 14 سے 18 مارچ تک ہوں گے، مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں 1.1 ارب ڈالر کی قسط جاری کرنےکا فیصلہ ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہےکہ آئی ایم ایف جائزہ مشن کے دورےکے دوران نئے قرض پروگرام کے بارے میں بات چیت بھی متوقع ہے۔ دوسری طرف وزیر خزانہ اورنگزیب کی صدارت میں وزارت خزانہ میں اجلاس ہوا جس میں آئی ایم ایف جائزہ مشن کے ساتھ مذاکرات کا جائزہ لیا گیا۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہےکہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام ناگزیر ہے، باتیں نہیں کام کرنا ہے، تمام توانائیاں پاکستان کو مشکلات سے نکالنےکے لیے استعمال کریں گے۔ موجودہ مالی سال 2024 ایک مشکل سال ہوگا لیکن جلد تمام مسائل پر گفتگو کےلیے بیٹھیں گے، اپنی تمام ترتوانائیاں پاکستان کو درپیش مشکلا ت کے حل کےلیے استعمال کروں گا، باتیں زیادہ ہورہی ہیں لیکن اب ایکشن کا وقت آگیا ہے۔اس حوالے سے پاکستانی فریق نے واشنگٹن ڈی سی میں آئی ایم ایف ہیڈکوآرٹر کو ایک ای میل بھجوائی ہے تاکہ 3 ارب ڈالر کے جاری اسٹینڈبائی ایگریمنٹ پروگرام کے تحت اہم مذاکرا ت کیے جاسکیں اور اس کی 1.1 ار ب ڈالر کی آخری قسط کا اجرا کرایاجاسکے۔ پاکستان 6 ارب ڈالر کے تازہ میڈیم ٹرم بیل آؤٹ پیکج کےلیے مذاکرات شروع کرنے کی درخواست بھی کرسکتا ہے جو 6 اب ڈالر کی توسیع شدہ فنڈفیسلٹی کے لیے ہوگا۔ آئی ایم ایف سے ماحولیاتی حوالے سے1.5 سے 2 ارب ڈالر کی فنانسنگ حاصل کرکے اسے مزید مستحکم کرنے کی کوشش کرنے کے طاقتور امکانات موجود ہیں۔ نئی حکومت کے وزیر خزانہ نے بہترمعاشی اشاریوں سے شرح مبادلہ میں استحکام کی پیش گوئی ہےاور پر امید ہیں کہ آنے والے مہینوں میں پالیسی ریٹ میں بہترہوگی,وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے انتہائی ضروری اصلاحات کے نفاذ پر توجہ مرکوز کرنے اور ملک کومعاشی بحران سے نکالنے کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے نیا معاہدہ کرنا واحد ایجنڈا قرار دیا ہے۔ وزیرخزانہ کا کہنا ہے کہ معاشی اشاریوں میں مسلسل بہتری کی وجہ سے شرح مبادلہ میں مزید استحکام کی پیش گوئی کرتا ہوں اور آنے والے مہینوں میں پالیسی ریٹ میں بہتری کے بارے میں پرامید ہوں۔مہنگائی کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مؤثر پالیسی اقدامات کے نفاذ سے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کی امید ہے۔ میری فنانس ٹیم میں نئے چہروں کو شامل کیا جائے گا.

انہوں نے امریکا کی مثال دی جہاں ٹریژری اور فیڈرل ریزرو مختلف مینڈیٹ رکھنے کے باوجود اقتصادی پالیسی کی تشکیل کے لیے بات چیت کرتے ہیں، انہوں نے تجویز پیش کی کہ وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے درمیان اپنے اپنے ڈومینز میں اسی طرح کا طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے پاس ایک مضبوط نجکاری کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا ہے، کچھ مالی آسودگی پیدا کرنے کے لیے یہ واحد قابل عمل حکمت عملی ہے۔ وزیر خزانہ نے یقین دہانی کروائی کہ ان کی اقتصادی ٹیم نہ صرف حکومتی اخراجات کو کم کرنے بلکہ محصولات کی وصولی کو بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کرے گی۔ایف بی آر) کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے نگران حکومت کے اصلاحاتی اقدامات سے ناواقف ہونے کا اعتراف کیا۔لیکن جو بھی اصلاحات ہوں اُن سے بالآخر محصولات کی وصولی میں اضافہ ہونا چاہیے۔انہوں نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی بھی تعریف کی اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ اقتصادی پالیسیوں کے نفاذ میں معاون ثابت ہوگی۔ ایکسچینج ریٹ اور پالیسی ریٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے تسلیم کیا کہ یہ معاملات بنیادی طور پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے دائرہ کار میں آتے ہیں لیکن ان اہم اقتصادی اشاریوں پر اسٹیٹ بینک کے ساتھ بات چیت کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔نئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نےکہا کہ کوئی بحث یا وقت کا ضیاع نہیں ہوگا، ثابت قدمی کے ساتھ صرف عملدرآمد کا عزم ہے۔نئے وزیر خزانہ نے نگران حکومت کی طرف سے وضع کی گئی تمام پالیسیوں پر عملدرآمد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ میں نگران حکومت کے پالیسی اقدامات کی ضرور تعریف کروں گا، جس سے معاشی اشاریے بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔ اکستان آئی ایم ایف حکام کے ساتھ اپنی بات چیت جاری رکھے گا تاکہ عنقریب ایکسپائر ہونے والے 3 ارب ڈالر کے قرض پیکیج کی آخری قسط حاصل کی جا سکے۔

اس معاہدے کے کامیاب مذاکرات کا سہرا وزیر اعظم شہباز شریف کو دیا، جنہوں نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی سابقہ حکومت کے دور میں یہ معاہدہ طے کروانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اگر یہ معاہدہ طے نہ ہوتا تو موجودہ معاشی منظر نامہ واضح طور پر مختلف ہوتا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ ایک نئے معاہدے کی ضرورت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے انکشاف کیا کہ ان کی ٹیم کم از کم 6 ارب ڈالر مالیت کا خاطر خواہ قرض حاصل کرنے کے لیے 3 سال کے نئے انتظامات کے لیے بات چیت شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔پیکج کی صحیح رقم کا تعین ہونا ابھی باقی ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ اس نئے معاہدے کے لیے بات چیت شروع کرنے میں کوئی تاخیر نہیں ہوگی۔ملک کے سب سے بڑے بینک حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد اورنگزیب کو نومنتخب وزیر اعظم شہباز شریف نے فنانس ٹیم میں اعلیٰ عہدے پر شامل کیا ہے۔ ماضی میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے ادوار میں اس عہدے کی باگ ڈور عموماً شریف خاندان کے معتمد اسحٰق ڈار کے پاس رہتی تھی۔حلف اٹھانے کے بعد شہباز شریف نے فوری طور پر فنانس ٹیم سے ملاقات کی اور انہیں ہدایت کی کہ وہ ایک توسیعی فنڈ سہولت کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت شروع کریں۔ شہباز شریف نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا ہے وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’معمار پاکستان‘ نواز شریف نے مجھے وزیر اعطم نامزد کیا، پورے ایوان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں شہباز شریف نے کہا کہ قدرت نے پاکستان کو ہر نعمت سے نوازا ہے، بیچ منجھدار میں پھنسی کشتی کنارے لگائیں گے، ملکی چیلنجز سے ملکر نمٹیں گے، ملک کی کشتی کو منجدھار سے نکال کر کنارے لے جائیں گے۔

12 ہزار 300 ارب این ایف سی کے بعد 7 ہزار 3 سو ارب بچتے ہیں، 7 سو ارب کا خسارہ ہو گا تو صوبوں کے لیے پیسے کہاں سے آئیں گے، ہمارا ملک قرضوں میں گھرا ہوا ہے، کیا اس صورتحال میں ایک ایٹمی قوت کامیاب ہو پائے گی۔ ہم نے صوبوں میں بنیادی ریفارمز ڈالی ہیں، نوجوان ملک کاہراول دستہ ہیں، ملکرتمام چیلنجز سے نبردآزما ہوں گے، ملکی چیلنجز سے ملکر نمٹیں گے، آئیں مل کر فیصلہ کریں ہمیں ملک کی تقدیر بدلنی ہے۔،ایک اور بڑا چیلنج بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہے، 80ہزار ارب روپے کے اندرونی و بیرونی قرضہ جات ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ بجلی کا چیلنج ایک اور بہت بڑا چیلنج ہے، 23 سو ارب بجلی کی مد میں کا گردشی قرضہ ہے ہم پر، ایک غریب قوم اس ساری صورتحال میں نہیں چل سکتی، ہمارے ملک میں چھ سو ارب کی بجلی چوری ہوتی ہے۔ شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو 10 روزمیں ٹیکس ریفنڈ جاری کرنے، کھاد فیکٹریوں کے بجائے سبسڈی براہ راست کسان کو دینے کا اعلان بھی کیا۔شہباز شریف نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دھاندلی کی شکایت کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس جانے کی کیا ضرورت تھی، دھاندلی کی شکایت کے لیے آئینی فورم موجود ہیں۔ واضح رہے کہ 3 مارچ کو قومی اسمبلی میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں صدر مسلم لیگ (ن) میاں محمد شہباز شریف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 24ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے تھے۔ انتخابی عمل میں شہباز شریف نے 201 جبکہ ان کے مدمقابل سنی اتحاد کونسل کے امیدوار عمر ایوب خان نے 92 ووٹ حاصل کیے تھے۔ گزشتہ روز حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) نےاپنے سابق سربراہ اور چیف آپریٹنگ آفیسر (سی ای او) محمد اورنگزیب کے استعفیٰ کا باضابطہ اعلان کیا۔ محمد اورنگزیب وزیر خزانہ شوکت عزیز اور شوکت ترین کے بعد اس عہدے پر فائز ہونے والے تیسرے بینکر ہیں۔محمد اورنگزیب ایشیا میں واقع جے پی مورگن کے گلوبل کارپوریٹ بینک کے سی ای او کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں اور عالمی مارکیٹ کے ساتھ کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حکومت تازہ بیل آؤٹ ڈیل کے لیے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ بات چیت بات چیت کرنے والی ہے۔

پاکستان کو اقتصادی بحران کا شکار اپنی 350 ارب ڈالر کی معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے فوری طور پر ایک نئے آئی ایم ایف معاہدے کی ضرورت ہے۔آئی ایم ایف سے معاہدے کے علاوہ پاکستان کو اپنے قلیل مالیاتی ذخائر میں اضافے کے لیے غیرملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی بھی ضرورت ہے جوکہ بیرونی فنانسنگ کی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی معیشت کو سنبھالنے کے لیے اہم ہے۔واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات کا حصہ نہ بننے کا اعلان کیا ہے۔سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ’ہم آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گے، ہم اگر کابینہ میں شامل نہیں تو کس حیثیت میں آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کریں۔ماضی میں آئی ایم ایف نے دیگر جماعتوں کے ساتھ مشاورت کی کہ وہ جماعتیں حکومت کو سپورٹ کر رہی ہیں یا نہیں، ہم حکومت کو سپورٹ کریں گے۔ہمارے خرچے زیادہ آمدنی کم ہے، آئی ایم ایف یہی کہتا ہے کہ آپ کے خرچے بہت ہیں آمدن نہیں، آئی ایم ایف کہتا ہے آپ آمدنی بڑھائیں، آئی ایم ایف کہتا ہے آپ ٹیکس پیئرز بڑھائیں اور ریونیو کلیکشن ٹھیک کریں۔ آئی ایم ایف کے مطالبات غلط نہیں ہوتے، پی آئی اے سمیت دیگر اداروں کے ایشوز کو حل کرنا ہوگا تاکہ آئی ایم ایف سے اچھا پیکج لے سکیں۔ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں نئی اتحادی حکومت کو مختلف معاملات میں سپورٹ کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم وفاقی کابینہ کا عملی طور پر حصہ بننے سے انکار کردیا تھا۔

محمد اورنگزیب کے پچھلے ادارے حبیب بینک لمیٹڈ ایچ بی ایل نے گزشتہ روز اپنے سابق سربراہ اور چیف آپریٹنگ آفیسر (سی ای او) کے استعفیٰ کا باضابطہ اعلان کیا۔
پریس ریلیز کے مطابق محمد اورنگزیب کی جگہ اسٹیٹ بینک کی منظوری سے حبیب بینک کے نئے چیف آپریٹنگ آفیسر (سی ای او) محمد ناصر سلیم ہوں گے۔ چیئرمین ایچ بی ایل سلطان علی الانہ نے کہا کہ قومی ذمہ داری کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے محمد اورنگزیب قوم کی خدمت کے ایک نئے باب کا آغاز کر رہے ہیں۔ ایچ بی ایل کے لیے محمد اورنگزیب کی خدمات کو سراہتے ہوئے سلطان علی الانہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وہ بطور وزیر خزانہ پاکستان کی اقتصادی اور مالیاتی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔ محمد اورنگزیب سے منسوب بیان میں کہا گیا کہ اس نئے باب کا آغاز کرتے ہوئے میں اپنے ساتھ ایچ بی ایل میں حاصل کردہ قیمتی سبق اور تجربات لے کر جا رہا ہوں، میں اِس نئی ذمہ داری کے ساتھ اپنے ملک کی خدمت کرنے اور اقتصادی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے پُرجوش ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں