مظفرآباد (سٹیٹ ویوز) مسلم لیگ ن آزاد جموں وکشمیر کے سیکرٹری جنرل چوہدری طارق فاروق نے آزاد کشمیر کابینہ کے بعض وزراء کی جانب سے پریس کانفرنس میں کی گئی گفتگو کے بعد پیدا شدہ صورتحال کو باعث تشویش و افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کو چاہیے کہ وہ پارلیمانی پارٹی اور مرکزی عہدیداران کا اجلاس بلا کر اس حوالے سے حتمی پالیسی و لائحہ عمل تشکیل دیں. اب تک یہ اجلاس ہوجانا چاہیے تھا، اس حوالے سے تاخیر شکوک و شبات پیدا کررہی ہے۔میڈیا کے لئے ہفتہ کے روز جاری اپنے بیان میں چوہدری طارق فاروق کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن بحیثیت جماعت متحد ہے البتہ کچھ عناصر جماعت کے اندر رخنہ پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں.
اس مقصد کے لئے حکومت اور بعض عناصرکی جانب سے مسلم لیگ ن کے اندر تقسیم پیدا کرنے کے لیے لوگ تلاش کیے جارہے ہیں لیکن حکومت کو اس سلسلہ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دراصل مسلم لیگ ن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور پاکستان میں عام انتخابات کے بعد پیدا شدہ صورتحال کی وجہ سے قانون ساز اسمبلی کے اندر فاروڈ بلاک کے ممبران کا بالحضوص اور عوام کا بالعموم رحجان مسلم لیگ ن کی جانب بڑھ گیا ہے۔ سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان انتہائی زیرک اور قابل احترام سیاستدان ہیں، آزادکشمیر میں محکمہ جنگلات , صحت عامہ اور سیکرٹریٹ کے ملازمین کے احتجاجی کیمپوں میں انکا خطاب مسلم لیگی کارکنوں اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلی جذبات کی ترجمانی ہے، حکومتی سطح پر غریبوں کے چولہے بجانے اور سینکڑوں لوگ بے روزگار کرنے کے بعدقمیض کے بٹن بند کرنے جیسی تبدیلی ہی دیکھی گئی ہے.
پارلیمانی پارٹی مخلوط حکومت میں شمولیت کے وقت سے ہی جماعتی ڈسپلن سے ماورا ھیں ۔ کارکن اور جماعتی تنظیموں کے عہدیدران مطمئن رہیں پارٹی بہت جلد صورتحال کا جائزہ لیکر مرکزی قیادت کو آگاہ کریگی۔ مسلم لیگ ن کے کارکن اور ریاست بھر کے عوام فاروق حیدر خان کے اتحادی کے حوالے سے حالیہ موقف کے ساتھ کھڑے ہیں،کچھ لوگ بوجوہ مصلحت کا شکا ر ضرور ہیں،آزادکشمیر بھر کے عوام راجہ فاروق حیدرخان کے سیاسی کردار کے نہ صرف معترف ہیں بلکہ ان کا حددرجہ احترام بھی کرتے ہیں۔حکومت کی جانب سے کسی بھی سیاسی شخصیت کے خلاف انتقامی کارروائی کی گئی تواس کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔میدان کسی صورت کھلا نہیں چھوڑیں گے۔چوہدری طارق فاروق کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی مقبولیت نے بعض لوگوں کو پریشان کررکھا ہے اورعوام کی توقعات بھی مسلم لیگ ن سے وابستہ ہیں۔راجہ فاروق حیدر خان نے سرکاری ملازمین کے احتجاجی مظاہروں میں صرف ملازمین ہی نہیں بلکہ عوام کے جذبات کی بھی ترجمانی کی یہ ان کا کریڈٹ ہے کہ حکومت جنگلات اور صحت کے فارغ کیے گئے ملازمین کو بحال کرنے پر مجبور ہوئی اورسیکرٹریٹ کے ملازمین کے مطالبات بھی مانے گئے،لیکن معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا،مسئلہ ملازمین کی عارضی بحالی کا نہیں بلکہ ان کی مستقلی کا ہے.
اس حوالے سے جدوجہد جاری رہے گی۔جہاں تک تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے سابق وزیراعظم کی گفتگو کا تعلق ہے فاروق حیدر انتہائی ذمہ دار،زیرک اور دوراندیش سیاستدان ہیں،انہیں آزادکشمیر میں پیدا ہونے والی منفی سوچ اور پاکستان مخالف سرگرمیوں،خطہ کے اندر جاری انتقامی کارروائیوں،تعمیر وترقی کی بندش اورحکومت کے کفایت شعاری کے زبانی دعوؤں پر تشویش ہے۔عدم اعتماد کے لیے پارلیمانی پارٹی اور جماعت مل بیٹھ کر فیصلہ کرسکتے ہیں اور اس بارے میں ان کی رائے بھی بن چکی ہے،البتہ حتمی فیصلہ قائد محترم نوا زشریف اور صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف کریں گے،مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی جانب سے جماعتی قیادت پر شدید دباؤ ہے کہ مخلوط حکومت سے باہر نکلیں،صرف چار وزارتوں کے لیے مخلوط حکومت کی ناکامیوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر نہ ڈالا جائے،صدر جماعت جناب شاہ غلام قادر نے اس حوالے سے کارکنوں کے کئی اجتماعات میں برملا اس رائے کا اظہار بھی کیا ہے۔وزراء کی پریس کانفرنس میں جو کچھ سینئر وزیر نے کہا انتہائی افسوسناک ہے.
دراصل انوار حکومت میں شامل ہونے کے بعد ان کا مسلم لیگ ن اور جماعتی کارکنوں کے ساتھ تعلق واجبی سے رہ گیا ہے اور وہ خطہ میں جماعتی کارکنوں کے ساتھ انتقامی عمل میں بھرپور حصہ دار ہیں،پارٹی کارکنوں کے لیے یہ امرباعث تشویش وافسوسناک ہے کہ صدر جماعت نے ابھی تک مرکزی عہدیداران وپارلیمانی پارٹی کا اجلاس نہیں بلایا اب بھی وقت ہے کہ یہ اجلاس بلاکر واضع لائحہ عمل طے کرلیاجائے۔ امید ھے کہ وہ اپنی جماعتی ذمہ داریوں کا اولین فرصت میں احساس کرتے ھوئے جلد اجلاس بلائیں گے اور ایک واضع اور قابل عمل حکمت عملی کا اعلان کریں گے ۔