اسلام آباد(محمد شہباز سے)فلسطین فانڈیشن پاکستان کے زیراہتمام اسلام آباد کے ہوٹل میں صہیونی بربریت کے شکار اہل فلسطین کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا گیا ،جس میں خواتین بھی شریک تھیں ۔کانفرنس کے مقررین نے غزہ میں صیہونی فوجی مظالم اور بربریت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اب تک 33 ہزارسے زائد فلسطینی جام شہادت نوش کرچکے ہیں’ جن میں 70 فیصد سے زائد تعداد خواتین اور بچوں کی ہے ۔ اب اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ صہیونی اسرائیل غزہ میں نسل کشی میں ملوث ہے اور دنیا خاص کر انسانی حقوق کا دم بھرنے والا امریکہ نہ صرف خاموش تماشائی بنا ہوا ہے بلکہ وہ اہل غزہ کی نسل کشی میں برابر کا شریک ہے۔

کانفرنس میں مختلف، مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات کے علاوہ مکتبہ فکر کیساتھ وابستہ افراد نے شرکت کی ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے مقررین کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایک ظالم اورناجائزریاست ہے جس کے خلاف ہمیں ہر فورم پر آواز بلند کرنا ہو گی، البتہ ایک امید افزا پہلو یہ بھی ہے کہ فلسطینی عوام نے سفاک اسرائیل کے سامنے ثابت قدمی کا لازوال مظاہرہ کرکے مغرب کے مکروہ چہرے کو مکمل طور پر بے نقاب کیا ہے۔ مقررین کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کو غزہ میں عملا شکست ہو چکی ہے، نہتے فلسطینوں نے دہشت گرد اسرائیل کا غرور خاک میں ملا دیا ہے،اس موقع پر کہا گیا کہ امت مسلمہ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرکے ایک ملت ہونے کا ثبوت دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اہل غزہ کیساتھ یکجہتی ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور وہ امت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر یہود و نصاری اگر ایک ہوسکتے ہیں تو مسلمان جو ایک اللہ،ایک پیغمبر، ایک قرآن اور ایک کعبہ و قبلہ کے ماننے والے ہیں وہ کیوں متحد نہیں ہوسکتے۔کانفرنس سے سکھ اینکر پرسن ہرمیت سنگھ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو کیا ہوگیا کہ وہ مظلوم فلسطینوں کیلئے آواز نہیں اٹھا رہے۔انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست قرار دے چکے ہیں لہذا میں بطور پاکستانی بانی پاکستان کے اس قول پر قائم ہوں البتہ لمحہ فکریہ ہے کہ سینیٹر مشتاق احمد اور ان کی اہلیہ کیساتھ محض اس لیے بدتمیزی اور ان کے خلاف پرچے کاٹے گئے کہ انہوں نے ڈی چوک اسلام آباد میں اہل فلسطین کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی۔

یہ افسوس کا مقام ہے کہ آج بانی پاکستان کے فرمودات کے برعکس صورتحال مسلط کی گئی ہے جو حوصلہ شکن اور افسوسناک ہے۔انہوں نے کینیڈا میں موجود ایک سکھ خاتون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں امریکی صدر جوبائیڈن نے امریکہ آنے کی دعوت اور ملاقات کیلئے بلایا تھا مگر بہادر سکھ خاتون نے جو بائیڈن کی دعوت کو یہ کہہ کر مسترد کیا کہ وہ اسرائیلی مظالم کا ساتھ دینے والے بائیڈن کی دعوت کو مسترد کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ بانی پاکستان کی فلسطین پالیسی کو ہی تسلیم کرتے ہیں کوئی اور پالیسی قابل قبول نہیں ہوگی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل کا منصوبہ اہل فلسطین کے خلاف سازش ہے۔جس سے ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ یہ مسلمانوں کی نہیں بلکہ ظالم اور مظلوم کی جنگ ہے۔
دوسرے مقررین میں چیئرمین مجلس وحدت مسلمین راجا ناصر عباس جعفری، جنرل سیکرٹری ناصر شیرازی،نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم، عبداللہ گل، البصیرہ کے علی عباس نقوی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نیئر حسین بخاری شامل تھے جبکہ یونائٹڈ کشمیر جرنلسٹس فورم” یکجا” کا وفد بھی کانفرنس میں شریک تھا۔وفد میں فورم کے صدر عبد الطیف ڈار،جنرل سیکرٹری ارشد میر ،سیکرٹری فنانس چوہدری محمد رفیق ،ڈیٹی سیکرٹری شوکت ابوذر کے علاوہ کشمیری آزادی پسند رہنما میر شاہد صفدری بھی شامل تھے۔جبکہ فلسطین فاونڈیشن پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر صابر ابو مریم بھی مقررین میں شامل تھے۔