مظفرآباد (سٹیٹ ویوز)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر راجہ سجاد احمد ایڈووکیٹ نے راولاکوٹ میں وکلاء کی گرفتاری ، تشدد اور گاڑی کی توڑ پھوڑ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقدمہ علت نمبر 68/2018 میں قتل کے ملزمان جوSP’ DC اور دیگر عہدوں پر فائز ہیں. پونچھ کی پولیس نے عدالتوں کے حکم کے باوجود نہ انہیں گرفتار کیا نا ہی انہیں چالان کیامگر وکلاء کے خلاف پورے پونچھ ڈویژن کی پولیس راولاکوٹ بلا کر خوف و ہراس پھلانے کی کوشش کی گئی اور وکلاء کو فتح کرنے کوشش کی جو قابل مذمت ہے.
راجہ سجاد ایڈووکیٹ نے کہا کے 16 مارچ 2018 کو تتہ پانی سے مدارپور “امن مارچ “ کے دوران پولیس کی فائرنگ سے ایک بے گناہ شہری نعیم بٹ شہید ہوا. حکومت نے عدالت العالیہ کے جج جسٹس محمد شیراز کیانی سے واقعہ کی جوڈیشل انکوئری کرائی اور انکوئری رپورٹ کی روشنی میں پولیس اور انتظامیہ کے آفیسران اور اہلکاران کے خلاف مقدمہ علت نمبر 68/2018 جرم زیر دفعہ PC 302 درج ہوا. اس FIR کے خلاف سید ممتاز حسین کاظمی موجودہ ڈپٹی کمشنر پونچھ ‘ یاسین بیگ موجودہ SP مظفرآباد اور مشتاق احمد خان تحصیلدار وقت نے عدالت العالیہ میں FIR Quashment کی رٹ دائر کی جو 14-05-2019 کو خارج ہوئی.
جسٹس آف پیس پونچھ راولاکوٹ نے مستغیث مقدمہ کی درخواست پر مورخہ 30-03-2020 کو آئی جی آزاد کشمیر کو حکم دیا کہ مقدمہ میں تفتیش کر کے چالان پیش کیا جائے مگر 4 سال گزرنے کے باوجود پولیس نے قتل کے ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی مگر وکلاء کو ڈرانے دھمکانے کیلیے پورے ڈویژن کی پولیس بلائی جو شرمناک ہے. صدر سپریم کورٹ نے کہا ہے کے انہوں نے بر وقت IGP اور DIG پونچھ کے نوٹس میں یہ بات لائی کہ وکلاء اور پولیس کے معاملات کو حل کرنے کےلیے اقدامات کئے جائیں مگر پولیس نے معاملات حل کرنے کی بجائے وکلاء سے انتقام لیا اور احسن اسحاق ایڈووکیٹ اور طیب ریاض ایڈووکیٹ کی گاڑی کی توڑ پھوڑ کرتے ہوئے انہیں سر بازار تشدد کا نشانہ بنایا اس واقع کے خلاف FIR درج کروائیں گے.
راجہ سجاد ایڈووکیٹ نے وزیراعظم آزاد کشمیر ‘ آئی جی پی ‘ چیف سیکریٹری سے مطالبہ کیا ہے کہ مقدمہ علت نمبر 68/2018 کے ملزمان جن میں ڈی سی پونچھ ممتاز کاظمی بھی شامل ہے کو فل فور گرفتار کیا جائے اور مقدمہ کی تفتیش مکمل کر کے چالان عدالت میں پیش کیا جائے جب تک اس مقدمہ کا چالان یش نہیں ہوتا اور اس مقدمہ میں ملوث آفیسران و پولیس اہلکاران کو گرفتار نہیں کیا جاتا وکلاء آزاد کشمیر بھر میں دھرنے دیں گے اور نعیم بٹ کے معصوم بچوں کو انصاف دِلانے کی خاطر اسلام آباد تک جانا پڑا تو جائینگے.