آزاد جموں کشمیر حکومت کا میڈیا پر پابندیوں اور سٹیزن جرنلزم کو کنٹرول کرنے کیلئے سائبر قوانین کا سہارا لینے کا فیصلہ

84

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) آزاد جموں کشمیر حکومت کا میڈیا پر پابندیوں اور سٹیزن جرنلزم کو کنٹرول کرنے کیلئے سائبر قوانین کا سہارا لینے کا فیصلہ، ریاست کے دو ممتاز صحافیوں عامر محبوب اور راجہ کفیل کو حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے کی پاداش میں سائبر قوانین کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے گرفتار کرنے کی تیاریوں کی بازگشت ریاست بھر میں گونج رہی ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت نے ان دو سینئر صحافیوں سمیت ریاست کے کئی دیگر صحافیوں کے خلاف بھی کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تنقیدی آوازوں کو خاموش کرایا جا سکے، محکمہ قانون وانصاف نے یکم مارچ کو سائبر جرائم کے تدارک کیلئے نوٹی فکیشن جاری کیا تھا.

اسی نوٹی فکیشن کا سہارا لیکر اب حکومت اور پولیس کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی صحافی یا عام شہری کی ویب سائیٹ، سوشل میڈیا کے کسی پلیٹ فارم پر تحریر، ویڈیو، تجزیئے، تبصرے کو نفرت انگیز اور شر انگیز قرار دیتے ہوئے مقدمہ درج کرے، دونوں صحافیوں بارے مبینہ خفیہ ایف آئی آر درج کیے جانے کی اطلاع سامنے آنے پر قائد حزب اختلاف آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی خواجہ فاروق احمد سمیت ریاست کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کی سینئر قیادت و رہنماوں کے ساتھ ساتھ ریاستی، ملک و بیرون ملک کی اہم صحافتی تنظیموں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے تاہم حکومت نے ابھی تک ان صحافیوں کے خلاف مقدمات کے اندراج یا گرفتاریوں بارے کوئی تصدیق یا تردید جاری نہیں کی۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز جب یہ خبر منظر عام آئی کہ ریاست کے دو سینئر ترین صحافیوں جموں کشمیر اخبار کے چیف ایڈیٹر عامر محبوب اور گروپ ایڈیٹر راجہ کفیل کو حکومتی اقدامات پر تنقید کرنے کی پاداش میں سائبر کرائم قوانین کے تحت مقدمات قائم کیے جارہے ہیں اور انہیں کسی بھی وقت گرفتار کیا جا سکتا ہے،اس حوالے سے دو سینئر اور ذمہ دار حکومتی افراد نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے تصدیق کی کہ وزیر اعظم اور سینئر موسٹ وزیر تقریباً آٹھ صحافیوں کی مسلسل تنقید سے ناراض ہیں اور اب ان صحافیوں کو سائبر کرائم قوانین کی بعض شقوں کا سہارا لیکر مقدمات درج کرتے ہوئے گرفتار کرنے کا پلان بنا رکھا ہے۔ یاد رہے کہ آزادجموں کشمیر کے وزارت قانون، انصاف، پارلیمانی امور و انسانی حقوق نے سائبر جرائم کے متعلق ایک ایڈوائزری جاری کی تھی.

جس کے مطابق عوام الناس کو متنبہ کیا گیا تھا کہ فرقہ ورزانہ، نفرت انگیز، فحش و دیگر غیر قانونی مواد کا سماجی روابط کی ویب سائیٹس، پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ کرنا، تشہیر کرنا، ترویج دینا، سنسنی پھیلانا، شیئرکرنا اور پسند کرنا آزاد پینل کوڈ کے تحت قابل سزا جرم ہے، ان جرائم کے مرتکب افراد کو تین ماہ سے چودہ سال تک کی قید کی سزا اور پچاس ہزار روپے سے پانچ کروڑ روپے جرمانہ کی سزا ہو سکتی ہے۔صحافیوں کا کہنا ہے کہ نفرت انگیز، شر انگیز مواد کی کسی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی لیکن حکومت، وزراء، بیوروکریٹ، پولیس اہلکار اب جس کو مرضی اس قانون کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے گرفتار کر دیں کیونکہ نفرت انگیزی، شر انگیزی کا الزام کسی بھی با اثر فرد کی طرف سے لگانا آسان ہے اور یہ قانون ذاتی انتقام کیلئے اور خاص کر صحافیوں کی طرف سے حکومتوں، اداروں پر تنقید کے بعد استعمال کیا جانا معمول بن جائے گا۔ شر انگیزی، نفرت انگیزی کی تعریف کی جانی چاہیے اور اس طرح کے مقدمے کے اندراج کا اختیار کسی وزیر، بیوروکریٹ کے پاس نہیں بلکہ ضلعی کمیٹی کے پاس ہونا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں