مظفرآباد ( سٹیٹ ویوز)زلزلہ اور قدرتی آفات قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب نہیں بنتی بلکہ غیر محفوظ تعمیرات جانی ومالی نقصان کا سبب بنتی ہیں، آٹھ اکتوبر 2005 ء کے تباہ کن زلزلہ میں 46 ہزار قیمتی انسانی جانوں کی شہادت جدائی کے غم کے علاوہ آزاد کشمیر کے زلزلہ متاثرہ سات اضلاع میں 65 سالوں میں کی گئی تعمیرات آن واحد میں مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئیں جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ آزاد کشمیر کا یہ خطہ زیر زمین دو فالٹ لائنوں پر آباد ہے جہاں زلزلہ، سیلاب، لینڈ سلائیڈ نگ اور دیگرقدرتی آفات کو مد نظر رکھتے ہوئے جدید زلزلہ مزاحم بنیادوں پر تعمیرات کے ذریعے کسی قدرتی آفت کے نتیجہ میں نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار ڈپٹی ڈائر یکٹر سیرا کامران وانی نے پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس اکیڈمی کوئٹہ میں 123 ویں کورس کے زیر تربیت افسران کو زلزلہ متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو پروگرام کے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کیا، اس موقع پر چیف انجینئر محکمہ لوکل گورنمنٹ محمد اسلم اعوان، سابق سٹیٹ پلاننگ ایکسپرٹ یواین ڈی پی ڈاکٹر غلام حیدرکاظمی، اسٹنٹ ڈائریکٹر سیرا راجہ طارق عزیز، جاوید گنائی، ملک شمریز میڈیا آفیسر عبد الوحید کیانی سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ ڈپٹی ڈائر یکٹر سیرا کامران وانی نے کہا کہ آزاد کشمیر کا یہ خطہ قدرتی حسن سے مالا مال ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف اوقات میں قدرتی آفات کا شکار بھی ہوتا رہا ہے.
2010ء میں سیلاب کی آفت کے بعد 2019 ء میں میر پور آزاد کشمیر میں زلزلہ سے 40 قیمتی انسانی جانوں کی شہادت کے علاوہ قیمتی املاک بھی تباہ ہوئیں ہمیں مستقبل کے چیلنجز کو مد نظر رکھتے ہوئے شہری و دیہی علاقوں میں بلڈنگ کوڈز کے مطابق تعمیرات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ضرورت ہے، نیسپاک کی نگرانی میں ہونے والی سسمک اسٹڈیز نے ہٹیاں بالا مظفرآباد، اور کوٹلی کے اضلاع کو مستقبل میں ایک اور خطرناک زلزلہ کا مرکز قرار دے رکھا ہے، زلزلہ کی قدرتی آفت سے آزادکشمیر کے 7 اضلاع متاثر ہوئے سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان مظفر آباد اور بالاکوٹ میں ہوا تعمیر نو پروگرام کے تحت آزاد کشمیر میں مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ 8 ریکٹر اسکیل زلزلہ کو مد نظر رکھ کر تعمیرات کی گئی ہیں در کار مالیاتی وسائل کے فقدان کے باعث 1711 منصوبے قومی خزانہ سے اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود تکمیل کے منتظر ہیں.
انہوں نے بتایا کہ زلزلہ کی قدرتی آفت کے بعد پاکستانی عوام مسلح افواج پاکستان، دوست اسلامی ممالک اور عالمی برادری نے دل کھول کر بحالی وتعمیر نو کے لئے مالی معاونت کی، جس کے نتیجہ میں تعلیم، صحت، رسل و رسائل اور ورکس، کمیونیکیشن سمیت 14 سیکٹرز میں عالمی معیار کی تعمیرات کی گئی اس وقت آزاد کشمیر کے زلزلہ متاثر و علاقوں میں سب سے بڑا چیلنج تعلیم اور صحت کے منصوبوں کی تکمیل کیلئے 46ارب روپے کی رقم درکار ہے۔ سیرا کی ٹیم نے زلزلہ کے بعد مشکل ترین حالات میں جو کام کیا عالمی سطح پر اُسے سراہا گیا اور اقوام متحدہ نے تعمیر نو کیلئے ایرا و سیرا کے ماڈل کو سراہتے ہوئے ”ساسا کاوا”ایوارڈ دیا، وفد کے گروپ لیڈر نے کہا کہ تعمیر نو کے ادارہ سیرا نے زلزلہ متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو پر وگرام کے تحت جو بین الاقوامی معیار کی تعمیرات کی ہیں وہ قابل تعریف ہیں، ہم سیرا کی شبانہ روز کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، حکومت پاکستان اور آزاد کشمیر کو چاہیے کہ وہ زلزلہ کی قدرتی آفت کے بعد بحالی اور تعمیر نو سے حاصل ہونے والے اسباق سے ملک کے دیگر صوبوں میں بھی استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا.