مظفرآباد (سٹیٹ ویوز، بیوروچیف) 31 اگست کو مظفرآباد ڈویژن میں مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کیا جائے گا۔ 15 دن کے اندر اندر ہمارے مطالبات پر عملدرآمد کیا جائے۔ حکومت چپ کا روزہ توڑے اور لوگوں کے مسائل حل کرے۔ آزاد جموں و کشمیر میں بجلی کا ٹیرف 10 روپے یونٹ رکھا جائے۔ گندم کی بمپر کراپ کے باوجود آٹے کا بحران تشویش ناک ہے، مظفرآباد میں دریائے نیلم کا رخ موڑ کر پانی کا بحران پیدا کیا گیا ہے، گریٹر واٹر سپلائی سکیم کا آغاز کیا جائے، نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے متعلق ہائیکورٹ کے فیصلہ پر عملدرآمد کیا جائے، مظفرآباد میں لوہار گلی ٹنل کا کام شروع کیا جائے اور کوہالہ روڈ پر آئے روز کی بندش کا خاتمہ کیا جائے۔
ان خیالات کا اظہار عوامی ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ، چیئرمین انجمن تاجران مظفرآباد شوکت نواز میر، صدر ٹرانسپورٹرز اتحاد خواجہ اعظم رسول، انجمن حقوق صارفین کے صدر شاہد اعوان، سول سوسائٹی کے صدر راجہ آفتاب ایڈووکیٹ، شعیب جاوید، مجتبیٰ بانڈے اور قذافی الطاف نے مرکزی ایوان صحافت مظفرآباد میں ایک بھرپور پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ہر سیاسی جماعت کے درجنوں وزراء بنائے گئے ہیں جہاں حکومت کو فنڈز خرچ کرتے ہوئے تکلیف محسوس نہیں ہوتی لیکن لوگوں کو کم قیمت بجلی فراہم کرتے یا آٹے پر سبسڈی دیتے ہوئے تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ سابق وزراء اعظم کو فارچونرز کس خوشی میں دی جا رہی ہیں؟ موجودہ اسمبلی کا حجم کیوں بڑھایا گیا ہے؟ اگر فنڈز نہیں ہیں تو عیاشیاں بند کی جائیں۔ مظفرآباد کے لوگوں سے دریائے نیلم چھین کر حکومت خاموش ہو گئی ہے یہاں پانی کا بحران کون حل کرے گا؟
مظفرآباد کو پاکستان سے ملانے والے دونوں راستے ہر وقت بند رہتے ہیں، وزیراعظم اسلام آباد سے کبھی کبھار مظفرآباد تشریف لاتے ہیں، اگر انہیں اسلام آباد میں ہی رہنا ہے تو پھر آزاد کشمیر حکومت سے استعفیٰ دے دیں۔ مسائل کے حل کے لیے عوامی ایکشن کمیٹی مظفرآباد 31 اگست کو شٹرڈاوں اور پہیہ جام کرنے جا رہی ہے۔ یہ ہماری تحریک کا آغاز ہے۔ ہم پونچھ ڈویژن میں جاری احتجاجی تحریک کی حمایت کرتے ہیں۔ آزاد کشمیر بھر میں آئندہ کا لائحہ عمل مشترکہ طور پر طے کیا جائے گا۔