صدر بیرسٹرسلطان اور وزیراعظم انوار الحق میں دوریاں : تحریک آزادی سمیت حکومتی تشہیر میں آئینی سربراہ کو نظر انداز

85

اسلام آباد(کاشف میر، سٹیٹ ویوز)وزیر اعظم آزادکشمیر چوہدری انوا الحق کی حکومت کے صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے ساتھ اختلافات کھل کر سامنے آ گئے، محکمہ اطلاعات کے ڈائریکٹر کی پالیسی یا محکمہ اطلاعات کے انچارج وزیر و وزیر اعظم کی پالیسی؟ ریاست کے آئینی سربراہ و تحریک آزادی جموں کشمیر کو عالمی فورمز پر اجاگر کرنے والے سینئر ترین سیاستدان بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو نظر انداز کیا جانے لگا، محکمہ اطلاعات کی طرف سے جاری اہم نوعیت کے ایونٹس پر اشتہاری کمپئین سے صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی تصاویر کوغائب کر دیا گیا،

گزشتہ دنوں کوٹلی آزادکشمیر میں دفاع حق خودارادیت جموں کشمیر جلسہ کے دوران جاری میڈیا کمپئین سے بھی صدر ریاست کی تصویر مسلسل غائب رہی اور صدرآزادکشمیر کو اس اہم جلسے میں شریک بھی نہ کرایا گیا، سال کے اختتا م پر حکومت نے اپنی کارکردگی کی تشہیر کی اور قومی ، ریاستی و علاقائی اخبارات کے ذریعے کروڑوں روپے کے اشتہار شائع کرائے لیکن اس پبلسٹی کمپئین میں بھی صدر ریاست کا نام اور تصویر شامل نہ کی گئی۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال اپریل میں جب چوہدری انوار الحق وزیر اعظم بنے اسوقت سے اب تک محکمہ اطلاعات کے جملہ امور کو وہ خود دیکھتے ہیں۔

ا

س دوران دو مرتبہ سیکرٹری اطلاعات بھی تبدیل ہوئے ہیں اور ڈائریکٹر جنرل راجہ اظہر اقبال کی ریٹائرمنٹ کے بعد شاہد کھوکھر کو ڈائریکٹر اطلاعات بنایا گیا،ذرائع کے مطابق تمام بڑی اشتہاری کمپئین کی مانیٹرنگ اور ڈسٹری بیوششن بھی وزیر اعظم کی مرضی اور ہدایت سے کی جاتی ہے ۔ سال کے اختتام پر حکومت نے اپنی کارکردگی کی ایک پورے صفحے کی میڈیا کمپئین علاقائی، ریاستی و قومی اخبارات میں شائع کرائی لیکن اس اشتہار میں صدر ریاست کی تصویر اور نام شامل نہیں کیا گیا، حکومت نے 8 جنوری کو کوٹلی میں دفاع حق خودارادیت جموں کشمیر کے نام سے جلسہ عام منعقد کرنے کا اعلان کیا جس میں وزیر اعظم کی اپنی سمیت آر اور پار کی حریت قیادت کی تصاویر میڈیا کمپئین میں شامل کی گئیں لیکن صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی تصویر اور نام اس کمپئین میں شامل نہیں کیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ محکمہ اطلاعات آزادکشمیر سے جاری میڈیا کمپئین جس میں صدر ریاست کو نظر انداز کیا گیا ،یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ ایسا کرنا وزیراعظم چوہدری انوار الحق کی پالیسی ہے یایہ ڈائیریکٹر اطلاعات شاہد کھوکھر کی یہ اپنی بنائی گئی پالیسی ہے، قانون ماہرین و سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر آزادکشمیر آئینی اعتبار سے ریاست کے سربراہ ہوتے ہیں ، ماضی میں وزیر اعظم اور صدر کا تعلق مختلف سیاسی نظریات اور جماعتوں سے رہا لیکن کسی حکومت نے بھی صدر ریاست وقت کو نظراندا ز نہیں کیا ،

ماہرین کے مطابق اس وقت بیرسٹر سلطان محمود چوہدری جیسے سینئر ترین سیاستدان صدر آزادکشمیر ہیں جو مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں اور امریکہ ، یورپ ، اقوام متحدہ ، او آئی سی سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر تحریک آزادی کشمیر کیلئے اپنا جاندار کرتے آئے ہیں اور کئی ممالک میں تو لاکھوں کشمیریوں کے بڑے اجتماع بھی کر چکے ہیں ان جیسی شخصیت کو موجودہ حکومت کا نظر انداز کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں