برطانیہ (سٹیٹ ویوز) برطانیہ میں مقیم معروف کاروباری شخصیت و محب وطن اورسیز پاکستانی محسن عزیز نے صحافیوں کیساتھ غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کی پاکستان میں مداخلت کی تاریخ طویل اور پیچیدہ ہے جس سے نئی نسل بڑی حد تک ناواقف ہے۔ افغانستان ناشکرگزار ہمسایہ؛ جس تھالی میں کھایا اسی میں جھید کیاہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 30 ستمبر 1947ء کو افغانستان دنیا کا واحد ملک تھا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے خلاف ووٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے فوری بعد کابل میں افغان پرچم کے ساتھ نام نہاد پشتونستان کا جھنڈا لہرایا گیا اور آزاد پشتونستان تحریک کی بنیاد رکھی گئی۔
محسن عزیز کے مطابق 1947ء میں افغان ایلچی نجیب اللہ نے پاکستان سے فاٹا سے دستبرداری اور سمندر تک افغان کنٹرول میں راہداری دینے کا مطالبہ کیا، بصورت دیگر جنگ کی دھمکی دی گئی، تاہم قائداعظم محمد علی جناح نے اس مطالبے کو قابلِ توجہ نہ سمجھا۔ انہوں نے کہا کہ 1948ء میں افغانستان میں قبائل کے نام سے وزارت قائم کی گئی جس کا مقصد قبائلی علاقوں میں پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دینا تھا، جبکہ اسی عرصے میں پرنس عبد الکریم بلوچ سمیت بعض عناصر کے تربیتی کیمپ قائم کیے گئے جن کا مقصد پاکستان میں شورش کو ہوا دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ 1949ء میں افغان فضائیہ کے طیاروں کے ذریعے قبائلی علاقوں میں پمفلٹ گرائے گئے جن میں پشتونستان تحریک کی حمایت کی اپیل کی گئی۔ ان کے بقول 31 اگست 1949ء کو کابل میں منعقدہ جرگے میں باچا خان اور فقیر ایپی نے شرکت کی اور ہر سال یومِ پشتونستان منانے کا اعلان کیا گیا، جبکہ اسی دوران پاکستان کے خلاف مسلح کارروائیوں کا آغاز ہوا جو وزیرستان سے کوہاٹ تک پھیل گئیں۔
محسن عزیز نے دعویٰ کیا کہ 1970ء کی دہائی میں ایک بار پھر افغانستان کی سرپرستی میں پشتونستان اور بعد ازاں آزاد بلوچستان تحریک کو منظم کرنے کی کوششیں کی گئیں، جس کے ردعمل میں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے افغانستان کے خلاف خفیہ حکمت عملی اختیار کی۔ انہوں نے 1978ء کے انقلابِ ثور اور اس کے بعد سوویت مداخلت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے تین ملین سے زائد افغان مہاجرین کو پناہ دی اور افغان مجاہدین کی مدد کی بدلے میں افغانستان نے پاکستانی معیشت تو تباہ کی ہی ساتھ ہی ساتھ معاشرہ بھی تباہ و برباد کر دیا اور اسکے ساتھ پاکستان جرائم و دہشتگردی کا الگ شکار ہو گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ 1979ء سے 1987ء تک سرحدی علاقوں میں متعدد بار بمباری کے واقعات پیش آئے، جبکہ بعد کے برسوں میں مختلف شدت پسند تنظیموں کو افغان سرزمین سے معاونت ملتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ 16 دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک اسکول پشاور پر ہونے والے حملے سمیت کئی بڑے واقعات میں افغان سرزمین استعمال ہوئی۔ اسی طرح طورخم اور چمن بارڈر پر کشیدگی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے ہمیشہ دہشتگردوں کو مؤثر جواب دیاہے۔
محسن عزیز نے مزید کہا کہ 2018ء میں شروع ہونے والی بعض تحریکوں کو بھی افغانستان کی جانب سے سیاسی و سفارتی حمایت حاصل رہی۔ ان کے بقول سوشل میڈیا اور بیرونی نشریاتی اداروں کے ذریعے پاکستان مخالف بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے حالیہ سرحدی کشیدگی اور بعض واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قومی سلامتی کے معاملات پر واضح پالیسی اختیار کی جائے اور نوجوان نسل کو تاریخی حقائق سے آگاہ کیا جائے۔
گفتگو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہر دور میں خطے میں امن کے لیے کردار ادا کیا ہے اور اب بھی باہمی احترام اور خودمختاری کی بنیاد پر تعلقات چاہتا ہے، تاہم قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔