وسطی باغ کا ضمنی انتخاب

80

از قلم :راجہ عابد علی عابد
وسطی باغ کے انتخابات اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکے ہیں اور27 سال کے بعد ایک متنازع انتخابات کے نتیجہ میں یہ سیٹ پیپلز پارٹی کے رہنماء سردار قمرالزمان کے بیٹے سردار ضیاء قمر نے جیت لی ہے۔ جب انتخابات کا اعلان ہوا تو بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ یہ انتخاب یکطرفہ طور پر سردار ضیاء قمر کا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ایک تو مسلم لیگ ن کے امیدوار راجہ مشتاق منہاس کے بارے میں یہ تاثر دیا گیا کہ ان کا حلقہ انتخاب میں عوام سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور نہ وہ کوئی توجہ دیتے ہیں اور دوسری وجہ یہ تھی کہ راجپوت برادری سے متعدد امیدوار میدان میں اتر گئے تھے۔تا ہم وقت گزرنے کے ساتھ حتمی مقابلہ صرف دو امیدواروں کے درمیان رہ گیا۔جن میں مسلم لیگ ن کے راجہ مشتاق منہاس اور پیپلز پارٹی کے ضیاء قمر شامل تھے۔ نارمہ راجپوت اس حلقہ کی سب سے بڑی برادری ہے اور اسی برادری سے کرنل راجہ ضمیر خان کے پاس پی ٹی آئی کا ٹکٹ بھی تھا لیکن وہ محض ساڑھے چار ہزار ووٹ لے سکے۔ اس طرح اس حلقہ کے عوام نے مجموعی طور پر دو بڑی سیاسی جماعتوں کو ووٹ دے کر سیاسی شعور کا بے مثال ثبوت دیا ہے۔
ایک ایسا انتخاب کہ جس کے بارے میں آزاد کشمیر بھر میں یہ تاثر تھا کہ یکطرفہ طور پر ضیاء قمر جیت جائیں گے ماحول اس وقت تبدیل ہو گیا جب سنئیر سیاستدان راجہ یسین خان نے مسلم کانفرنس سے علیحدگی اختیار کر کے مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔اس کے بعد مسلم کانفرنس کے امیدوار نے راجہ مشتاق منہاس کے حق میں دستبرداری کا اعلان کر دیا۔ اور بعد ازاں نارمہ برادری کے ایک انتہائی اہم رہنماء راجہ نثار شائق نے بھی راجہ مشتاق منہاس کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ان اعلانات نے وسطی باغ کے انتخابات کا رخ ہی تبدیل کر دیا۔ ان کامیابیوں میں بنیادی کردار راجہ مشتاق منہاس نے خود اداء کیا اور ان کے بعد سب سے زیادہ محنت پارٹی صدر شاہ غلام قادر نے کی۔جن کی محنت اور کوشش سے نہ صرف متعدد اہم رہنماء پارٹی میں شامل ہوئے بلکہ انتخابات میں ہر گزرتے دن کے ساتھ پیپلزپارٹی کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوتا گیا۔ مسلم لیگ کی لیڈر شپ اس حق میں نہیں تھی کہ پاکستان سے کسی لیڈر کو بلا کر انتخابات میں اثر انداز ہوا جائے لیکن پیپلز پارٹی نے پہل کر کے بلاول بھٹو کو بلا کر پاکستان کی لیڈر شپ کا راستہ کھول دیا جس کے بعد مسلم لیگ ن کو بھی اپنی لیڈر شپ کو بلانا پڑا۔پیپلز پارٹی کے قائدین جو پاکستان سے آئے تھے پورا ایک مہینہ حلقہ کے طول وعرض میں لوگوں کے ساتھ پھرتے رہے اور ووٹ مانگتے رہے جبکہ مسلم لیگ ن کے قائدین نے محض چند جگہوں پر پروگرامات کیے۔اس کے باوجود انتخابات میں ایک ایسا ماحول بن گیا کہ پیپلزپارٹی کی شکست یقینی نظر آنے لگ گئی تھی۔

سردار قمرالزمان جو عارضہ قلب میں مبتلاء ہیں دن رات عوام کے پاس ووٹ منگتے رہے لیکن جب پیپلزپارٹی کو اپنی شکست نظرآنا شروع ہو گئی تو انھوں نے منصوبہ بندی تبدیل کی اور حلقہ کے اٹھارہ پولنگ اسٹیشن پر دھاندلی کا پروگرام بناکر انتخابات کا رزلٹ اپنے حق میں کیا۔ 189 پولنگ اسٹیشن میں سے اٹھارہ پولنگ اسٹشن پر اسی سے پچانوے فیصد پولنگ ہوئی جبکہ باقی تمام اسٹیشن پر پولنگ کی شرح بیس سے تیس فیصد تک ریکارد کی گئی۔ جو کہ اس بات کا واضح اظہار ہے کہ اٹھارہ پولنگ اسٹیشن پر بد ترین دھاندلی کی گئی۔
جماعت اسلامی کے رہنماء عبدالرشید ترابی جن کو 2016 کے انتخابات کے نتیجہ میں ٹیکنو کریٹ کی سیٹ پر مسلم لیگ ن نے ممبر اسمبلی بنایا تھا نے ان نتخابات میں چپ کا روزہ رکھا۔ اور کوئی واضح پالیسی اختیارکرنے کے بجائے کارکنوں کو آزاد چھوڑنے کا اعلان کر کے واضح اشارہ دیا کہ وہ راجہ مشتاق منہاس اور مسلم لیگ ن کے لیے کوئی خیر خواہی نہیں رکھتے۔ اسی طرح تنویر الیاس بھی اپنا کوئی واضح موقف نہیں دے رہے تھے۔ ان دونوں رہنماؤں نے کس کے اشارے پر ایسا کیا وقت کے ساتھ ساتھ اس کا جواب سامنے آجائے گا۔
پارٹی کے اندرونی سازشوں اور بیرونی مشکلات کے باوجود ضمنی انتخابات میں مشتاق منہاس نے بھر پور مقابلہ کیا اور حلقہ میں مسلم لیگ ن جو بہت کمزور ہو چکی تھی کو ایک بار پھر ایک طاقت بنا کر چھوڑا۔مسلم لیگ ن کے صدر شاہ غلام قادر،پارٹی کے دیگر مرکزی قائدین کے علاوہ حلقہ کی مقامی ٹیم سابق ایڈمنسٹریٹر راجہ سعد انقلابی، راجہ عبدالحفیظ کفل گڑھی، راجہ عظمت منہاس،راجہ نثار شائق،راجہ افتخار خان، راجہ اسد منہاس،راجہ خورشید عالم اور دیگر نے دن رات ایک کر کے حلقے کی سیاست اور انتخابات کا رخ تبدیل کیا۔
مسلم کانفرنس کے امیدوار کی دستبرداری کے بعد حلقہ اور پورے آزاد کشمیر میں بھرپور پروپیگنڈا کیا گیا لیکن حلقہ وسطی باغ مین راجہ یسین صاحب کے بعد بچی کچھی مسلم کانفرنس کے مقامی قائدین نے اپنے اپنے پولنگ اسٹیشن پر بھرپوررزلٹ دیا۔راجہ یسین صاحب کی شمولیت کے بعد مسلم کانفرنس کے امیدوار کو جس انداز سے دستبردار کیا گیا اس کی ضرورت نہیں تھی یہ کام مقامی سطح ُپر بھی بیٹھ کر کیا جا سکتا تھا۔جس انداز سے یہ کام کیا گیا اس سے آزاد کشمیر بھر میں کارکنوں میں شدید رد عمل پیدا ہوا اور مسلم کانفرنس کے ساتھ کسی بھی اتحاد کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ لہذا صدر مسلم لیگ ن شاہ غلام قادر،سیکرٹرجنرل چوہدر طارق فاروق اور سنئیر نائب صدر راجہ مشتاق منہاس کو کارکنوں کے اس احتجاج پر غور کرنا ہو گا۔ یہ اتحادمسلم لیگ ن کے بجائے مسلم کانفرنس کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ان خبروں کے بعد جو لوگ مسلم کانفرنس کو چھوڑ کر مسلم لیگ ن میں شامل ہونا چاہتے تھے وہ رک گئے ہیں۔ سردار عتیق ایک ہوشیار سیاست دان ہیں اور وہ کوئی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے کہ جس سے ان کی ایک حلقہ کی جماعت کو نقصان پہنچے۔ آزاد کشمیر بھر میں کارکنوں نے اپنی قیادت سے سوال کیا ہے کہ جب مسلم لیگ ن کی قیادت میاں نوازشریف اور ان کے خاندان پر برا وقت آیا تو سردار عتیق خان عمران خان کے ساتھ مل کر خوشی کے شادیانے بجا رہے تھے آج جب اچھا وقت دوبارہ آیا ہے تو ایسے لوگوں کو کسی ؎صورت قبول نہیں کیا جائیگا۔
انتخابات میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے لیکن ان ضمنی انتخابات سے دو باتیں ثابت ہو گئی ہیں۔ اول یہ کہ شاہ غلام قادر جن کے بارے مین یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ ان کی آزاد کشمیر میں کوئی برادری نہیں اس لیے شائد مسلم لیگ ن کو کوئی نقصان ہو سکتا ہے ا س تاثر کو بری طرح شکست ہوئی ہے۔ شاہ غلام قادر نے ان انتخابات میں نہ صرف اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو منوایا بلکہ باغ میں جتنے لوگوں نے پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا انھوں نے شاہ غلام قادر پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
دوسری بات یہ کہ مشتاق منہاس نے اپنی سیاسی حکمت عملی کو تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ وہ الیکشن کے دوسرے دن شکریہ مہم پر روانہ ہو گئے اور ڈور ٹو ڈور جا کر عوام کا شکریہ اداء کر رہے ہیں۔ انھوں نے لوگوں کو یقین دلایا ہے کہ اب وہ حلقہ کے عوام کو ایک فون کال یا مسیج پر دستیاب ہون گے۔اگر وہ لوگوں کو دستیاب رہے تو نہ صرف یہ حلقہ بلکہ ضلع باغ کے تینوں حلقے آمدہ جنرل الیکشن مین مسلم لیگ ن جیت جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں