“سردارمحمد صغیر چغتائی شہید” کی یاد میں (قسط دوئم)

76

ڈھونڈوں گے اگر ملکوں ملکوں
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

از قلم: سابق وزیر اعظم آزاد حکومت جموں و کشمیر بانی رہنما استحکام پاکستان پارٹی سردار تنویر الیاس خان
پچھلی قسط میں سردار یعقوب خان (سابق صدر و وزیر اعظم آزاد کشمیر ) کی بات کر رہے تھے”سردار صغیر چغتائی شہید” شاید مروت اور بہت گہرے تعلق کی وجہ سے سردار خالد ابراہیم (الله تعالٰی درجات بلند کرے) کو زیادہ اصرار نہ کر سکے.سردار خالد ابراہیم (الله تعالٰی درجات بلند کرے)کا چھوٹا بیٹا سردار اسد ابراہیم میری شادی کا دوست ہے، اس کے ساتھ میری شادی کا دوسرا دوست توصیف اضغر عباسی جن کا تعلق مری کی یونین کونسل دریا گلی چتراڈونگا (کالی مٹی) سے تھا ان موضوعات پر اگلی آنے والی قسطوں پر مزید بات کریں گے”.جب میں نے دیکھا کہ رزلٹ نہیں نکل رہا تو میں نے براہ راست خالد ابراہیم صاحب کوقائل کرنے کی کوشش کی لیکن انکا خیال تھا کہ وہ کنڈیشنل پارٹی جوائن کر رہے ہیں لہذا بیشک نقصان ہو لیکن میں اصول پر سمجھوتہ نہیں کروں گا۔ بعد میں سردار یعقوب احمد خان نے مسلم کانفرنس جوائن کر لی۔

“سردار صغیر چغتائی شہید” کے اندر ایک چیز جو ایک دفعہ میرے لیے نئی تھی منکشف ہوئی کہ میں نےایک سیاسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جس میں میرے دوسرے چچا سردار عبدالرؤف صاحب اور دوسرے رشتے دار بھی موجود تھے میرے منہ سے کوئی ایسا لفظ نکلا جو کہ اس دن میں محلے کے ایک دوست کے ساتھ کھڑا تھا جس کا والد سندھی اور پیپلزپارٹی کا جیالا تھا انہوں نے محترمہ بینظیر شہید جب پرائم منسٹر تھی تو ایک بہت حساس ادارے کے افسر کے ساتھ بد تمیزی اور سخت گستاخی کی بعد میں محترمہ نے اسے احساس دلایا شاید خود بھی اسے کچھ شرمندگی ہوئی تو اس نے جا کر افسر سے معافی مانگی تو محترمہ بینظیر شہید کے کہنے پر اسے معاف کر دیا گیا ۔ میرا جو دوست تھا اکثر سیاسی لوگوں کے لیے غیر مناسب بولتا رہتا اور القاب دیتا میں نے اس کے منہ سے سیکھا ہوا ایک لفظ بولا جو چچا محترم “سردار صغیر چغتائی شہید” کو سخت ناگوار گزرا اور اُس وقت انہوں نے اصلی چچا کے روپ میں مجھے سخت ڈانٹا اور اس ڈانٹ زدہ ماحول میں ہمارے دو عزیز بھی موجود تھے .

چونکہ صغیر چغتائی میرے ساتھ ہمیشہ انتہائی شفقت کرتے اور مجھے بے حد لاڈ کرتے تھے اس لیے ڈانٹ زدہ ماحول میں میرا وہاں پر بیٹھنا مشکل تھا لہذا میں نے اپنے کمرے میں جانے میں ہی عافیت سمجھی جب بیڈ پر لیٹا اور اپنے الفاظ پر غور کیا تو چچا محترم ” سردارصغیر چغتائی شہید”کی ڈانٹ موقع کی مناسبت سے صحیح لگی چاندنی چوک کے نزدیک نیشنل مارکیٹ اور بانڈے پٹرول پمپ کے درمیان اس وقت کی انتہائی خوبصورت چار پانچ منزلہ عمارت جس کے عقب میں راولپنڈی میڈیکل کالج کا گرلز ہاسٹل ہوتا تھا، ہمارے سکول کا نام ملت ہائیر سیکنڈری سکول تھا یہ سکول راولپنڈی کے اس وقت کے ایک سیاستدان اور ممبر صوبائی اسمبلی جاوید قریشی کا تھا جن کو ضیاء الحق کے مارشل لاء میں ملک بدر کر دیا گیا تھا۔

ہمارے سکول کے اس وقت کے پرنسپل شیخ عثمان صاحب تھے جنہوں نے دو تین مضامین میں ماسٹرز کیا ہوا تھا۔ بطور معلم وہ لائق تھے مگر انتظامی لحاظ سے ان میں کئی مسائل اور مصائب تھے جس کا خمیازہ طلباء کو بھگتنا پڑتا تھا۔پرائیوٹ سکول، کو ایجوکیشن سسٹم اور فیمیل اساتذہ کی اکثریت کے باوجود وہ تشدد اور گالم گلوچ کیا کرتے تھے یہاں تک کہ ان مسائل کا سامنا انکے سگے بھتیجے کو بھی تھا جسے اب راولپنڈی کی اہم کاروباری شخصیت کے طور پر جاننا جاتا ہے اس وقت سکول کی وائس پرنسپل میڈم فرحت صاحبہ مدبر اور کمال شخصیت کی خاتون تھیں جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے، ان کے خاوند 1971 میں شہید ہو گئے تھے اور چند سال قبل وہ بھی وفات پا گئیں ہیں۔

پرنسپل شیخ عثمان صاحب جو اس وقت راولپنڈی بورڈ کے ممبر تھے اور ہم یہ سمجھ نہ پائے کہ وہ راولپنڈی بورڈ میں کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن جب بھی بورڈ میں میٹرک کے طلباء یا نہم کے طلباء کی داخلہ فیس بھیجنے کا وقت آتا وہ ہمیشہ کشمکش کا شکار ہوتے کہ میں کیا کرو، اس بات کی ہمیں سمجھ نہ آتی تھی کہ وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ہم سے میڑک کے انٹرنل امتحان میں اس وقت کے حساب سے بیس روپے پرنٹنگ چارج کی مد میں لیے جاتے تھے، ایک دفعہ ایسا ہوا کہ انٹرنل امتحان میں دیا جانے والا پرچہ پڑھنے کے قابل ہی نہ تھا تو اس پر میں نے ایک شعر لکھا کہ:
“کاش کہ یہ پرچہ صاف ہوتا
لکھنا تو دور کی بات پڑھنا تو نصیب ہوتا”
پرنسپل صاحب نے بعد ازاں اسمبلی میں مجھے کہا کہ وہ شعر پڑھ کر سناؤ

جب داخلہ فیس بھیجنے کا وقت آیا تب انہوں نے میرا داخلہ پرائیوٹ امیدوار کے طور پر بھیجا، ہم میٹرک کی کلاس میں پینتیس طلباء تھے جس میں سے سات آرٹس اور باقی سائنس مضامین پڑھتے تھے۔ جب میری رول نمبر سلپ آئی میرا امتحانی مرکز اپنے سکول کے بجائے ایک دوسرے ادارے میں رکھا گیا تھا جو راجہ بازار نمک منڈی شملہ اسلامیہ ہائی سکول تھا۔ یہ دیکھ کر میں بہت افسردہ ہوا اور میں سکول بس کے بجائے پیدل گھر گیا اور گیٹ سے داخل ہوتے ہوئے میری حالت جب چچا محترم “سردارصغیر چغتائی شہید” نے دیکھی تو انہوں نے میری پریشانی اور تکلیف کی وجہ پوچھی۔ میں نے من وعن بتا دیا کہ پرنسپل صاحب نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا۔ میرا انٹرنل امتحان میں فرسٹ ڈویژن میں نتیجہ ہونے کے باوجود میرا داخلہ پرائیوٹ طالبعلم کے طور پر بھیجا گیا جس کا تصور نہیں تھا.

اس وقت یہ تصور تھا کہ یہ بورڈ کے ممبر ہیں شاید بچوں کو کوئی سہولت ملتی ہو یا کوئی اور فیض ملتا ہو.چچا محترم “سردار صغیر چغتائی شہید” نے جب ساری باتیں سنی تو وہ اسی وقت پرنسپل کو ڈھونڈنے نکلے، اور انہیں اس سلسلے میں زیادہ ڈھونڈنا نہ پڑا کیونکہ پرنسپل صاحب سکول کے قریب ہی انہیں مل گئے۔ چچا محترم”سردارصغیر چغتائی شہید” نے پرنسپل صاحب سے استفسار کیا کہ میرے عزیز سردار تنویر کا داخلہ بطور پرائیوٹ طالبعلم کیوں بھیجا تو پرنسپل صاحب نے جواباً کہا کہ شاید اسکے انٹرنل امتحان کا نتیجہ اچھا نہ ہوا ہو گا۔” سردارصغیر چغتائی شہید” نے پرنسپل صاحب سے کہا کہ انٹرنل امتحان کا نتیجہ بتائیے مگر پرنسپل صاحب اس بات سے لاعلم تھے.جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اس پر چچا محترم “سردار صغیر چغتائی شہید” نے پرنسپل صاحب کو دو چار لگائی۔ حالانکہ وہ ایسے پرنسپل تھے کہ ان پر شاید کوئی رعب کر سکتا مگر چچا محترم” سردار صغیر چغتائی شہید” میری تکلیف اور دکھ برداشت نہ کر سکے جس پر انہیں ایسا قدم اٹھانا پڑا پرنسپل صاحب کے پاس میرا داخلہ بطور پرائیوٹ امیدوار بھیجنے کا کوئی جواز نہ تھا یہ سراسر ناانصافی تھی۔شیخ عثمان صاحب ابھی بھی حیات ہیں، بڑھاپے میں ہیں ، انکے لیے دعا گو ہیں۔

چچا محترم “سردار صغیر چغتائی شہید” ہمیشہ اپنی جماعت میں مانیٹر رہے، وہ پڑھائی میں انتہائی لائق اور ذہین تھے۔ وہ جہاں سپورٹس میں دلچسپی لیتے تھے وہیں وہ پڑھائی میں بھی خوب دل لگاتے تھے خصوصی طور پر انہیں ریاضی اور سائنس کے مضامین میں کمال کی مہارت حاصل تھی۔ کئی بار مجھے بھی کئی مضامین بالخصوص ریاضی پڑھاتے تھے، وہ سبق کو رٹا لگوانے پر زور دیتے تھے جبکہ میری سبق کو رٹا لگا کر یاد کرنے سے نہیں بنتی تھی۔ حالانکہ وہ خود تو رٹا نہیں لگاتے تھے مگر دوسرے سے توقع کرتے تھے۔ میرا چھوٹا بھائی جو میڈیکل ڈاکٹر ہے وہ جو سکول سے ہوم ورک کے لیے لکھ کر لاتا تھا وہ چچا محترم “سردار صغیر چغتائی شہید” کے سامنے بیٹھ کر پڑھ نہیں سکتا تھا جس پر مرحوم چچا اسے کہتے تھے کہ تم اپنا لکھا ہوا خود نہیں پڑھ سکتے دوسرا کون پڑھے گا۔ بہرحال “سردارصغیر چغتائی شہید” نے اسے بہت بار پڑھایا اس پر بڑی محنت کی لیکن یہ بات “سردار صغیر چغتائی شہید” اور ہم سب کے لیے ہمیشہ موضوع رہی کہ جو اپنا لکھا ہوا نہیں پڑھ سکتا اسکا دوسرا کیسے پڑھے گا لوگ کہتے ہیں کہ ڈاکٹروں کی لکھائی اکثر پڑھی نہیں جاتی.

“سردار صغیر چغتائی شہید” کے سکول کے اکثر ساتھی مجھے یاد ہیں۔انکا سکول جو ہمارے گاؤں کا سکول ہے وہ ہمارے گھر سے تین یا چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہو گا کیونکہ سڑک کا راستہ لمبا جبکہ پیدل رستہ کم ہو سکتا ہے،انکے سکول فیلوز میں سیکرٹری حکومت آزاد کشمیر عنصر یعقوب صاحب کے بڑے بھائی ڈاکٹر نئیر صاحب تھے جبکہ عنصر یعقوب صاحب ایک جماعت پیچھے تھے اور بریگیڈیئر آفتاب کیانی اور میرے خالہ کے بیٹے جو کافی عرصہ قبل امریکہ شفٹ ہو گئے ہیں جن کا پچھلی قسط میں ذکر کیا ہے سردار زاہد چغتائی وہ بھی ان کے کلاس فیلو رہے۔ہمارے کزن سردار زاہد چغتائی جو”سردار صغیر چغتائی شہید” کے ہم عمر تھے انہوں نے میٹرک اور انٹر میں بورڈ ٹاپ کیا تھا وہ بھی بہت لائق تھے .

“صغیر چغتائی شہید” جب باغ میں فرسٹ ائیر کی تعلیم حاصل کرنے گئے تو اس وقت انکے کلاس فیلو میں اس وقت ضلع باغ کے چئیرمین پروفیسر آصف ہیں انکے اساتذہ میں پروفیسر اکبر صاحب، پروفیسر فگار صاحب،کبیر صاحب، ظفر صاحب، وحید صاحب اور پروفیسر نثار شائق صاحب ہیں جن کا وہ ذکر کیا کرتے تھے.”سردار صغیر چغتائی شہید” راولاکوٹ میں بھی ایک سال زیر تعلیم رہے وہاں ڈی آئی جی راشد نعیم کے والد محترم نعیم صاحب انکے استاد رہے ہیں باقی اساتذہ کرام کے نام مجھے یاد نہیں
میں نے پہلے بھی لکھا کہ “سردار صغیر چغتائی شہید” کی شخصیت کے حوالہ سے کافی نئی باتیں بتاؤں گا ۔ ہمارا گھرانہ اس علاقے کے ان چند گھرانوں میں تھا کہ جہاں مکئی کی پیداوار بہت کثرت سے ہوتی تھی۔ اس میں شرعی اصولوں کے مطابق باقاعدہ عشر نکالا جاتا تھا اور ہمارے کچھ بزرگوں کی سوہاوہ کے پیروں کے ساتھ عقیدت تھی تو عقیدت کے نتیجے میں ایک بڑی مقدار میں انہیں عقیدتا دی جاتی تھی۔

ہمارے گھر میں ان دونوں حصوں کو چھونے کی کسی کو اجازت نہ ہوتی تھی۔باغ کے چھبیس شہداء میں سے ایک شہید ہمارے دادا کے بڑے بھائی سردار زمان خان ہیں جن کا نانہال باغ کفل گڑھ میں ہے جو نارما خاندان میں ہے۔ سوہاوہ کے پیروں کے ساتھ دادا کے اللہ لوک بھائی تھے جنہوں نے مرنے سے قبل پیشنگوئی کی تھی کہ میرے جنازے میں پیر صاحب نہ صرف خود پہنچیں گے بلکہ میرا جنازہ بھی وہی پڑھائیں گے۔ عقیدت کا ایسا رشتہ کہ وہ جب فوت ہوئے تو پیروں کو کوئی اطلاع تک نہ دی گئی مگر پیر صاحب نہ صرف جنازہ پر پہنچ آئے بلکہ انہوں نے جنازہ بھی پڑھایا۔ انہوں نے مرنے سے پہلے دادا کو وصیت کر رکھی تھی کہ میرے مرنے کے بعد میری لیے دعائیں ایسے کروانی ہیں۔
اس کے ساتھ ہی مکئی اور دالیں بڑی مقدار میں بیچی جاتی تھیں کیونکہ ہمارا گھرانہ خود کفیل تھا اور یہ اجناس وافر مقدار میں پیدا ہوتے تھے۔ ہمارے ہاں چونکہ راشن کا نظام تھا میرے دادا سردار محمد شریف خان جو 1964 میں پہلی بار بی ڈی ممبر منتخب ہوئے انکے پاس آٹا اور چینی کے ڈیلرشپ کے لائسنس تھے.

متحدہ پونچھ جو اس وقت چار اضلاع پر مشتمل ہے اسکے صدر غازی محمد امیر خان تھے جبکہ ایک لمبے عرصے تک میرے دادا مسلم کانفرنس کے سینئر نائب صدر رہے۔ الله تعالٰی کے فضل و کرم سے ابھی حیات ہیں اور انکا سایہ شفقت ہم پر موجود ہے۔
پونچھ میں اگر آزادی کے لیے شہداء کی قربانیوں کی بات کی جائے تو الله تعالٰی کے فضل و کرم سے تعداد ہم اول نمبر پر ہیں، ہماری ایک بہت بڑی تعداد ہے، ہمارے لوگوں کو آزادی کی تحریک کے لیے جب بھی کہا گیا وہ جوق در جوق شریک رہے۔ کرنل خان صاحب بھی ہمیشہ ہمارے لوگوں کے معترف رہے۔ مٹھی آٹا یا دیگر جو بھی پروگرام انہوں نے شروع کیے اس میں ہمارے لوگوں کی سخاوت ، دریا دلی اور کرنل صاحب سے والہانہ محبت اور اپنائیت کا وہ ہمیشہ معترف رہے اور ہمیشہ اسکا ذکر بھی کرتے رہے۔

میرے دادا کی بھانجی جو ملوٹ میں سدھن فیملی سے ہے ایک دن دادا انکی خیریت معلوم کرنے پہنچے یہ ان دنوں کی بات ہے جب آزاد کشمیر میں الیکشن ہونے کو تھے اور میں وسطی باغ سے الیکشن لڑ رہا تھا تو انہوں نے مذاق میں دادا ابو سے پوچھا کہ سنا ہے سردار صغیر چغتائی شہید مسلم کانفرنس سے تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں اور سردار تنویر ویسے بھی پی ٹی آئی میں ہے تو اس وقت آپ کس کے ساتھ ہیں تو دادا ابو نے جواب دیا کہ “میں جتھے آسیس اوتھے ہی ریساں”
دادا ابو کی بھانجی نے پھر پوچھا کہ ووٹ کس کو دیں تو اس پر دادا نے کہا کہ ووٹ نئے لوگوں کو دیں میں تو الیکشن نہیں لڑ رہا۔

“سردار صغیر چغتائی شہید” ہمارے گھر کے واحد آدمی تھے جو مکئی کا آٹا نہیں کھاتے تھے۔ ہم جب بالغ ہوئے تو انکشاف ہوا کہ”سردار صغیرچغتائی شہید” صاحب مکئی کا آٹا اس لیے نہیں کھاتے تھے چونکہ مکئی کے دانوں کو الگ کرتے وقت کچھ پاؤں میں آتے ہیں اور مکئی کوٹنے کا جو مرحلہ ہے تو پسینہ بھی ان دانوں پر گرتا ہے۔ ہمارے بڑے چچا سردار ادریس خان جو سخت مزاج اور متشدد رویہ رکھتے تھے انکی وجہ سے سب کو پرتشدد حالات کا سامنا کرنا پڑتا تھا جبکہ باقی سب گھرانے والے سیدھا سادہ اور شفقت مزاج تھے وہ سردار صغیر چغتائی شہید کو زمانہ طالبعلمی کے دوران کہتے تھے کہ مکئی کا آٹا کھایا کرو۔وہی چچا جو بچپن میں سردار صغیر چغتائی شہید کو مکئی کا آٹا نہ کھانے پر ڈانٹتے تھے وہی بعد ازاں مکئی کے دانوں کو تین دفعہ دھو کر آگ پر گزار کر پھر آٹا بنا کر دیتے تاکہ وہ کھائیں جس پر کبھی کبھار سردار صغیر چغتائی شہید کھا لیا کرتے تھے مگر زمانہ طالبعلمی میں انہوں نے کبھی مکئی کے آٹے کو ہاتھ نہ لگایا۔ انکی یہ عادت ہمارے گھرانے اور علاقہ کے لیے مختلف تھی کہ وہ مکئی کا آٹا نہیں کھاتے تھے، ایسا گھرانہ جہاں مکئی اتنی وافر مقدار میں ہوتی تھی وہاں کا بچہ مکئی کو پسند نہیں کرتا تھا۔جاری ہے
قسط اول پڑھیں‌
https://stateviews.pk/2023/490000/
سردارمحمد صغیر چغتائی شہید” کی یاد میں

<

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں