بارش کی باغی بوندیں نیم برہنہ جھیل کے پانیوں میں گرنے سے جو دائرے وجود میں آرہے تھے افسانہ ان میں قید ہوچکی تھی۔ایسا لگ رہا تھا کہ جھیل کنارے بیٹھی افسانہ کی مخمور آنکھیں پلک جھپکنا بھول چکی ہیں۔جھیل کے پانی کے دائروں میں جھکڑی لڑکی کو جیسے لمبی جدائی کے بعد اپنے محبوب کے آمد کا انتظار ہے۔ وہ ہزاروں لوگوں کےشور و شغل میں قدموں کی آہٹ سننے کیلئے بے تاب ہے۔ اسی دوران کالی گھٹاوں نے ذرا رفتار پکڑلی، بارش تیز ہوئی تو دائرے سمٹ کربلبلوں میں بدل گئے۔اس آنا فانابدلتی رت سے افسانہ چونک سی گئی۔ جیسے کسی نےاس کے کان میں یہ جملہ کہہ دیاہو کہ وہ نہیں آئے گا. اس چونکا دینے والی سرگوشی سے افسانہ شاید یہیں سمٹ جاتا مگر جب انہوں نے خمار بھری نظریں ادھر اُدھر دوڑائیں تو فیری میڈوز کے سحرانگیز مناظر سے پیغام آیا کہ ارے او پگلی غم نہ کھاو آج نہ سہی کبھی تو ضرورآئے گا۔ تپسیا کے بغیر گر ملن ہوا بھی تو اس وصال میں خاک مزہ ۔ فیری کو تو دیکھو جو نصف صدی تنہا رہی۔ عشق کے آگ میں جھلتی رہی۔ عاشقوں کی راہ تکتی رہی ۔وصال کی امید میں بار بار موسموں کی مناسبت سے سولہا سنگھارکرتی رہی .
کبھی اس کی زلفیں ہوا کے ساتھ محورقص رہیں تو کبھی خود برف ، بارش و برسات میں جھومتی رہی۔ یہ اسی تپسیا کا ہی ثمر ہے جو لمبی جدائی اور طویل انتظار کے بعد آج وصال کی گھڑی مقدر ٹھہری پگلی! دیکھ رہی ہو نا۔فطرت کےعاشقوں کی بھیڑ حسن کے دلدادوں کی قطاریں خاموشی اور خوشبو سے لگاو رکھنے والوں کی آمد۔فضاوں، نظاروں، بہاروں ،آبشاروں اوروادیوں کے کٹر شوقین پل پل رنگ بدلتے موسموں کے شاعروں کی محفل ۔یہ شادیانے ،یہ سر یہ سنگیت۔ آج ایک نہیں، ہزاروں عاشق میری مانگ بھررہے ہیں میرے ماتھے پر تلک (بندیا) لگا رہےہیں۔فیری میڈوزکی ان کہی کہانی سن کر افسانہ اپنی داستان بھول گئی۔ اس نے امید کی ٹوٹے داگے کو مضبوط گھانٹھ لگادی اورسینہ چوڑا کرکے اپنے یار کے پیار میں بے قرار رہنےکی جستجو جاری رکھنے کی قسم کھائی ۔
محبت اور فطرت کے اس مختصرافسانچہ کی تخلیق سطح سمندر سے بارہ ہزار فٹ پر موجود نیل فیری جھیل کے عین کنارے ہوئی۔ دس اور گیارہ جون کو یہاں عظیم الشان سیاحتی میلہ سجا. دیکھنے والی آنکھوں اور سننے والے کانوں کے مطابق یہ آزاد کشمیرکی تاریخ میں اب تک کا سب سے بڑا ٹوررسٹ فیسٹیول ہے۔ سلام ہو فاروڈ کہوٹہ حویلی کے لوگوں کو جنہوں نے کنٹرول لائن پر واقع اپنے ضلع میں موجود سیاحوں کی نظروں سے اوجھل دلکش سیرگاہوں اور چراگاہوں کو ایکس پلور کرنے اور ٹوررزم کو فروغ دینے کیلئے تاریخی ایونٹ کو جوش و جذبے اورانتہائی عقیدت کے ساتھ منایا اور اسے کامیابی سے یادگار بھی بنایا۔
افسانہ کی طرح ہزاروں لوگ دور دور سے آزاد کشمیر کے اس دور دراز ڈسٹرکٹ میں سیاحتی ایڈونچر اورمنفرد میلے سے لطف اندوز ہونے کیلئے آئے تھے۔راولپنڈی اور اسلام میں شعبہ صحافت سے وابستہ تیس رکنی وفد نے بھی کوہساروں،سبزاروں اور آبشاروں کی اس وادی میں منعقدہ فیسٹیول کو کامیاب بنانے میں اپنا حصہ ڈالا. کشمیر جرنلسٹس فورم (کے جے ایف)کے وفد نےسٹیٹ ویوز میڈیا گروپ کے چیف ایڈیٹر سید خالد گردیزی کی قیادت اورسرکاری پروٹوکول میں تین اضلاع کا یادگار سفر کیا۔ روزنامہ جنت نظیر کےایڈیٹر اعجاز خان، ہردل عزیز صحافی شیراز عادل راٹھور اور ہر محفل کی جان اور شان ثاقب راٹھورکی محنت ،کوشش اور میزبانی سے یہ دورہ نہ صرف کامیاب ہوا بلکہ تمام ساتھی اپنی اپنی کھوپڑی میں موجود میموری کارڈ (ذہن) میں چوراسی ہزار مربع میل پر پھیلی منقسم ریاست کے تاریخی خطہ پونچھ کی ڈیر ساری یادیں، باتیں ،قصے کہانیاں ،تاریخ، سیاحت، علم و ادب جیسے بے شمار انفارمیشن سیو کرکے آئے ہیں۔ آنکھوں کے فولڈر میں وہ مناظر پیسٹ کردیئے جو تادم تازہ رہیں گے۔ کانوں کی ہارڈ ڈرائیو میں آبشاروں کے گیت ،چرند و پرندوں کےسنگیت اور جھومتے گھومتے درختوں سر محفوظ کرآئے۔
روزمانہ صدائے چنار کے ایڈیٹراعجاز عباسی ، ڈیلی دی ڈسٹنیشن کے چیف ایڈیٹر مدثر چوہدری، کے جے ایف کے سیکرٹری جنرل عقیل انجم ،روزنامہ نیل فیری کےایڈیٹر نثار کیانی، کے ایم ایس کے ایڈیٹر ارشد حسین ،طالب رضوان، پی ٹی وی کے اینکر نعیم الاسد، سٹیٹ ویوز کے ایڈیٹر شہزاد خان، نوید چوہدری،سردار احسن علی، عدنان عباسی ،ایم ڈی مغل ، راجہ خالد ،شوکت صاحب، ہاشمی صاحب،نثار صاحب، شاعر و صحافی اللہ داد صدیقی، عرفان قادر، افشاں کیانی، میم فائزہ، میم ہما اور دیگر اس وفد میں شامل تھے۔ تمام ساتھیوں نے دشوار گزار، طویل اور تھکادینا والا سفر خوشی خوشی طے کیا۔ البتہ جنگل میں منگل کی طرح گنے اور قد آور درختوں میں موجود دھیرکوٹ ریسٹ ہاوس کے سحر انگیز مناظر سے بھرپور لطف اندوز نہ ہوسکے۔یہ وفد کے پہلے دن کا سفر تھا اور یہاں پہلا پڑاؤ، جو بعض وجوہات کی بنا پر دیر سے شروع ہوا اور جہاں دن کا طعام شیڈول تھا یہاں ہم ڈنر کے بجائے نصف رات کو پہنچ گئے۔ یہ شپ کا وہ پہر ہے جس میں اندھیروں کی تہیں فیزیکل ہوتی ہیں۔ گنے جنگل میں صرف اپنا ہاتھ اور شدید بھوک کی وجہ سے کھانے کی پلیٹ نظر آرہی تھی۔
یہاں سے نکل کر باغ میں قیام کرنا تھا۔وہاں بھی پہنچنے میں اچھی خاصی تاخیر ہوئی۔ البتہ رہنے کا پہلے سے ہی بندوبست ہوچکا تھ.ا سو دیر سے ہی سہی مگر سب کو آسانی سے دراز ہونے کا بھرپور اور کھلا ڈھلا موقع ملا۔میرے لیے دوسرے دن کا آغازانتہائی شاندار رہا کیونکہ عین ناک کی سیدھ میں بالکل سامنے میری پسندیدہ سیر گاہ گنگا چوٹی تھی۔ گوکہ اس بار دیوی کے ساتھ بوسہ کشی نہ ہوسکی مگر اس کے چرن چھو تو لیے۔ یہ عارضی ٹھہراو ہروقت ٹھنڈی ہواوں، دھند اور بادلوں میں لپٹی سدھن گلی میں تھا۔ صبح گرما گرم ناشتہ کرنے کے بعد لان میں لگے چنار اور دیودار کے بوٹوں پر پڑی جو صبح کی پہلی دھوپ میں نہارہے تھے۔سب ساتھی ہشاش بشاش تھےاور منڈھ کے تصویر کشی کی ۔ آس پاس کے شفاف اور بے باک نظاروں کو خوب انجوائے کیا۔
یہاں سے نکلے ہی تھے کہ لوگوں کو چونا لگانے والی ایک دلچسپ جگہ پہنچ گئے جہاں بورڈ پر موٹے الفاظ یہ عبارت درج ہے،آب شفا،شوگر کا علاج۔ہم یہاں مفت میں ہی مستفید ہوئے۔ پیٹ بھر کر آب شفا پی لیا۔ لیکن کچھ شہزادوں نےعقیدت کے ساتھ بوتلوں میں بھی بھرلیا۔ہالی ووڈ فلموں میں ڈرون کیمروں کی مدد سے دکھائے جانے والےگنے جنگلوں (آمیزون جیسے) کے بیچوں بیچ سڑکوں کی طرح میں اس خوبصورت روڈ کو آج دیکھنے کیلئے پھر بے تاب تھا جسے لسڈنہ کہتے ہیں ۔ معذرت کے ساتھ اس روڈ کا نام مجھے پسند نہیں کیونکہ لفظ لسڈنہ اس کی خوبصورتی کی جوتی کے مل کے برابر بھی نہیں۔ چونکہ موسم صاف اور صبح کا آغاز تھا تو ہرشے نکھری نکھری نظر آرہی تھی۔ اس شاہکار روڈ کے سفر کا ایک ایک لمحہ خوب انجوائے کیا ۔ گاڑی کے کھڑی سے بعض مناظر بھی موبائل میں قید کیے۔
اسی روڈ کے مڈ میں واقع ریسٹ ہاوس میں چائے کا اہتمام تھا۔ یہاں چائے کی چسکیوں کا مزہ گرما گرم پکوڑوں اوراللہ داد صدیقی کی اپنی محبوبہ (کشمیر) کے نام لکھی نظم نے دوبالا کیا۔آنکھوں کو خیرہ کردینےوالا یہ مقام تین اضلاع باغ، حویلی اور راولا کوٹ مڈ پوائنٹ ہے۔یہاں راولا کوٹی ماسیروں سے چٹ چیٹ کرکے اچھا لگا ۔ سیاحوں کے گائیڈ کیلئے ہر وقت تیاررہنے والی ٹیوررسٹ پولیس کے جوانوں کے ساتھ تابڑ توڑ سیلفیاں بنائی ۔ایک آدھ گھنٹے کے سفر کے بعد جونہی محمود گلی میں حویلی کی طرف مڑے تو ایک اجنبی احساس تنگ کرنے لگا ہے۔ محسوس یوں ہواکہ یہ انسانوں اور مکانوں سے زیادہ درختوں کا شہر ہے۔ ابھی یہ احساس ذہن کی سکرین پر بریکنگ نیوز کی طرح چل ہی رہا تھا تو دل و دماغ کا یہ موقف سامنے آیا کہ حویلی والے نیچر لوونگ مخلوق ہیں۔فیدہ، کایل ،دیوار، کینکرو،آخروٹ، ویری،سیب، ناشپاتی ،آلوبخارہ،آڑو،پلم غرض وادی کشمیرمیں پائے جانے والے تمام درخت یہاں بھی موجود ہیں۔ تھوڑا آگے جاکر انسانوں ،طرز تعمیر اور تقافت پر نظر پڑتی ہے تو عکس وادی سامنے آتا ہے۔ یہاں راستے کچے ضرور ہیں مگر لوگ سچے اور بھلے ہیں۔ مہمان نوازی ان کی پہلی خوبی ہے۔ مہمانوں کو یہاں اور کیا چاہیے کیونکہ دلفریب دلکش دلنشین نظاروں کے ساتھ ساتھ اچھے لوگ ٹکرائیں تو دل سے خراج تحسین پھوٹتا ہے۔مہمانوں پر جان نچھاور کرنے والی عجیب مخلوق۔ دھرتی پر اب ایسے لوگ بھلا کہاں سے ملتے ہیں۔
آپ سوچ رہیں ہوں گے کہ راقم اب لمبی لمبی چھوڑنے لگا۔۔ واللہ ایسا ہرگز نہیں۔ بارہ ہزارفٹ کی بلندی پر طعام اور دشوار گزار راستوں پرسفری سہولت کا اہتمام ۔۔سے بڑھ کر کوئی ثبوت ہو ہی نہیں سکتا۔ صرف ہم صحافیوں کیلئے نہیں ۔۔نیل فری کے مقام پر جانے والے تمام مہمانوں کے یہی تاثرات ہیں۔اس سے قبل میلے کا منظر پیش کروں ۔اس علاقے کی صاحب علم شخصیت ڈاکٹرپیر سید علی رضابخاری کی مہمان نوازی کا ذکرنہ کروں تو کنجوسی ہوگی۔ بساں میں سابق ممبر اسمبلی نے وفد کے کیلئے رات کے کھانے،قیام اور ناشتے کا مثالی اہتمام کیا۔ ان کے ساتھ خوبصورت نشست ہوئی،مذہبی اور ہسٹاریکل ٹوررزم پر روشنی ڈالی ۔ اور پھرانہوں کئی سال پرانی مسجد کی زیارت بھی کرائی۔ کمال فن اور مہارت یہ ہے کہ جناب نے اپنے بزرگوں کے دور کے چھوٹی مسجدشریف کو محفوظ رکھتے ہوئے اس کے اوپر نئی اور وسیع مسجد بھی تعمیر کروائی۔ اس چھوٹی سی مسجد میں جو قلب سکون ملتا ہے اس کو بیان کرنا ممکن نہیں۔ تقسیم سے پہلی کی اس مسجد کا کام سری نگر کے کاریگروں نے کیا ہے۔ یہاں ہمیں کشمیری بولنے والے کئی لوگ ملے ہیں۔
ہماری اصل منزل آسمان سے باتیں کرنےوالی فیری میڈوز اور اس کے ماتھے کا تلک جھیل نیل فیری تھی۔سب بے تاب تھے کہ کب کنواری جھیل (دوسال قبل لکھے مضمون کا عنوان) تن بدن دیکھیں ۔ بعض مرد حضرات کے ساتھ مستورات بھی نیل فیری تک ہائیکنگ کرنے پر بضد تھیں۔ ایسا تو نہیں ہوا لیکن پھر ایسا ہی ہوا۔یہاں عید کاسا سماں تھا ۔راستے میں جگہ جگہ لگے اسقتبالی بینرز، لوگوں کی چہل پہل اور گاڑیوں ،موٹر سائیکلوں کا رش ۔پورا علاقہ مذہبی تہوارکا منظر پیش کررہا تھا۔ رش کی وجہ سے سات کلو میٹر میں سے بیشتر سفر پیدل طے کرنا پڑا۔خوبصورت منظر تھا۔ لال، نیلی، پیلی چیپیں اور سنگل و ڈبل ڈور ویگوز پھراٹیں بھرتی جارہی تھیں ۔ موٹر سائیکلوں کی بھاں بھاں سے فضا گونج رہی تھی ۔پیدل جانے والے لوگوں کا شور بھی کم نہ تھا۔ پورا شہر امڈ آچکا تھا حتیٰ کہ بعض مائیں شیر خوار بچوں گود میں لیے نیل فری کی مانگ بھرائی کی رسم میں شرکت کیلئے خراماں خراماں جارہی تھیں۔
تنگ ،کچا اور دشوار گزار راستہ ہونے کی وجہ سے بعض گاڑیاں بیچ میں ہی ہمت ہار گئیں اور مسافروں کو خود ہمت دکھانا پڑی۔ بیس کیمپ ون اور ٹو لوگوں ،گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں سے کچھا کچھا بھرا تھا۔ بیس کیمپ ٹو سے نیل فیری ٹاپ پر نظر پڑتی ہے تو جیمٹری کا پرپینڈی کیولر اور ورٹیکل اینکل یاد آیا۔یہ وہ مقام ہے جہاں سر اوپر ہوگا تو چوٹی نظر آئے گی ورنہ بالکل بھی نہیں۔ مسافت زیادہ نہیں ہے مگر جسم کی رگ رگ کو لگ پتہ جاتا ہے۔ سینے میں دل ڈھول کی طرح بچتا ہے۔ سانسیں کسی نوے سالہ بزرگ کی طرح اکھڑجاتی ہے۔ یہ وہ سفر ہے جہاں حقیقت میں کانپیں ٹانگ جاتی ہیں۔ جھیل میں جتنا پانی ہے ،ہزار دو لوگ بیس سے ٹاپ تک جائیں تو اتنا پسینہ ضرور چھوٹ جاتا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود جب زمین پر بچھی قدرتی سبز قالین دکھائی دیتی ہے تو ساری تھکن اترجاتی ہے، جان میں جان آجاتی ہے۔ دھڑکنیں نارمل موڈ پر کام کرنا شروع ہوجاتی ہیں۔
سو دو سو میٹر آگے چل کر جھیل نظر آتی ہے۔ایڈونچر کے شوقین یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ عمومی طور پر جھیل پہاڑوں کے بیچ میں ہوتی ہے۔ یعنی اس کی چاروں جانب نہ سہی تین اطرف میں پہاڑ یا کوئی اور سہارضرور ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کا پانی محفوظ رہتا ہے۔نیل فیری کا عالم ہی نرالا ہے۔ اس کی بیک پر ورٹیکل پہاڑ ضرور ہےاور سامنے بھی پانچ دس فٹ اونچی پڑی اس کی حفاظت اور لوگوں کےاستقبالیہ پر مامور ہے مگر دائیں اور بائیں والی اطراف بالکل نہ ہونے کے برابر ہے۔ جس طرح بھرے برتن میں مزید پانی ڈالنے سے پانی کناروں کو آخری بوسہ کرتے ہوئےگلاس یا دوسرے برتن کو لوداع کہتا ہے ٹھیک اسی طرح اگر نیل فیری میں تھوڑا سا پانی بھی ڈالا جائے تو وہ بہہ کر نہیں بلکہ شاور کی طرح گر کر بیس ٹو کو نہلا دےگی ۔ یہی وجہ ہے کہ میں اسےنیم برہنہ جھیل سمجھتا ہوں۔
نیل آج پورے جوبن پر تھی ۔ اس نے سبز رنگ کا ایسا سولہا سنگھار کررکھا تھا کہ دیکھنے والےدیکھتے ہی رہ گئے۔ جھیل نےپہلے بار اپنے آس پاس اتنی مخلوق دیکھی ۔ مخلوق کیا تھی ؟ب کے سب عاشق، دیوانے، مستانےیہاں موسیقی کا بھی بھرپور اہتمام تھا۔ جم غفیر تھا مگر مجال ہے کسی نے کوئی بدتمیزی یا ہلڑبازی کی ہو۔ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ یہاں کے مکین چوکنا تھے۔ کسی بھی ناخوشگوار صورت میں تعاون کیلئے تیار تھے ۔میرا پیدل سفر اعجاز خان کے ایک عزیز ظہیر کے ساتھ طے ہوا۔یہ نوجوان انتہائی سادہ ہے ۔بعد میں معلوم ہوا وہ صاحب پی ایچ ڈی ہولڈر ہے.جھیل کے سر پر آزاد کشمیر کی ٹاپ کی چوٹی ہے ۔اس کے چرنوں میں وسیع و عریض سبز میدان ہے۔ دائیں طرف بارہ مولہ ،گلمرگ اور اوڑی کا علاقہ جبکہ بائیں جانب حاجی پیر کے ساتھ آئی ٹو آئی کنٹیکٹ ہے۔
نیل فیری جھیل جسامت میں گرچہ چھوٹی ہے مگر اپنی اداوں ، حسن اور دلکشی میں لاثانی ہے۔یہاں کا موسم بے ایمان ہے۔ بادل ہر وقت ٹھنڈی ہواؤں کے ساتھ رقص کرتے ہیں ۔یہاں دھوپ اور بارش کا ملاپ بھی معمول ہے۔جھیل کا نام نیلوفر نامی پھول سے منسوب ہے۔ یہ پھول یہاں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔اور ایسا لگتا ہے کہ قدرت نے سبز قالین پرہیرے موتیوں کی بارش کررکھی ہے۔ ڈی سی حویلی اور یہاں کے مکینوں کےمطابق نیل فیری کے اردگر ایسے ان ایکسپلورڈ مقامات ہیں جن کو اوجھل پن سے نکالا جائے تو یہاں کے لوگوں کو اسلام آباد پنڈی لاہور کراچی ،انگلینڈ میں روز گار تلاش کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔تاریخی ایونٹ کو کامیاب بنانے کیلئے آزاد کشمیر کے وزیر فیصل ممتاز راٹھور ، ضلعی انتظامیہ ،سیاست دانوں، یوتھ ، سول سوسائٹی ، صحافیوں اور دیگرنے اہم کردار ادا کیا۔ دور دراز سےآئے مہمانوں نے فقید المثال استقبال اور کامیاب ایونٹ پر تمام احباب کو خراج تحسین پیش کیا ۔
یاد رہے ضلعی حویلی پونچھ کا اہم حصہ رہا۔ یہیں سے مغل روڈ کا گزر ہوتا تھا ۔۔اسی علاقے کی ایڈوکیٹ اور صحافی شازیہ کیانی کے مطابق اس علاقے میں مغل شہزادوں کی سرائے رانی باغ بھی اپنے بے پناہ حسن سے مشہور ہے۔یہاں کئیں آبشاریں ہیں جنہیں دیکھ کر ترش آنکھیں ٹھنڈی ہوجاتی ہے۔آخر پر میں کے جے ایف کے تمام ممبران کی جانب سے پریس کلب حویلی کے صدر بخاری صاحب اور سینئر ممبر غفور صاحب سمیت دیگر ارکان کاتہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس سفر میں ہماری بھرپور سپورٹ کی۔ ہمارے سابق ہوسٹ مجاہد گیلانی صاحب کے بھی ہم بہت ممنون و مشکور ہیں اور ان تمام لوگوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس ایونٹ اور سیاحت کے فروغ کیلئے قلمی محاذ ،سکرین یا سوشل میڈیا پر بھرپور کردار اداکیا۔حویلی کے سفر کے اختتام پر افسانہ پر جوش تھی ۔ مزاقن عرض کیا ۔محترمہ،ہن آرام ہے۔ جواب ملا ، میں بھی فیری میڈوز کی طرح تپسیا کروں گا ۔یونکہ عشق کے آگ میں جھلنا ہی دراصل عشق ہےاور آج اگر فیری کی مراد بھرآئی میں بھی پرامید ہوں کہ میری تپسیا بھی ایک دن رنگ لائے گی. میں نے کہا چل ہم بھی کشمیر کےعاشق ہے اور اس عشق میں جل رہے ہیں بولی آج نہ سہی کبھی نا کبھی آپ کو کشمیر ضرور ملےگا۔آمین