جماعت اسلامی ایک تحریک

104

تحریر راجہ طاہر زمان
آیک سوچ و فکر کے حوالے سے برصغیر کی قد آور شخصیت جسے اسلامی دنیا کے چپے چپے سے محبت اور اسکے ہر ہر باسی کے لیے آیک امید کا استعارہ امام العصر سید ابواعلی المودودی نوراللہ مرقدہ کہ جن کو رب نے بہت خداداد صلاحیتوں سے نوازا اور خدائے لمیزل ولا یزال کے اس انعام و نعمت سے خوب سیر ہوتے ہوئے دنیا باطل کے آگئے ایسے بند باندھے کہ جو اس کو عبور کرنے کو جب بھی پہنچیں تو نامراد لوٹیں بلکہ اپنا نقطہ ہائے نگاہ اور زاویہ ہائے نظر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بھول گئیں

 

جہاں بہت سی حوالوں سے ان کی خدمات کا آیک لامتناہی سلسلہ ہے وہاں پر برصغیر کے مسلمانوں کے لیے اسلام کو بطور مذہب نہیں بلکہ اسلام کو بطور دین جیسا فلسفہ روشناس کرایا
علاقائیت لسانیت میں تقسیم قوم کو یکجا کرنے کے لیے اج پون صدی قبل ایک ایسی تحریک کی بنیاد رکھی جو مسلمان برصغیر کے لیے امید کی ایک کرن جماعت اسلامی کی صورت میں تھی
جو صرف مسلمان ہند کے لیے نہیں بلکہ دنیا اسلام کے طول و عرض میں بسنے والے ہر اس مسلمان کے لیے امید کی کرن تھی جو نظام باطلہ سے پریشان تھا

 

یہ نقطہ نظر کہ اسلام کی دعوت لے کر اٹھو اور پوری دنیا پر چھا جاؤ ان کی تحریک کا خاصہ تھی جس کی بدولت بر صغیر کا ہر پیر و جواں ایک اسلامی انقلاب کو اپنی حقیقی منزل تصور کرنے لگا
اپنوں اور غیروں کے تیروں کی زد میں یہ قافلہ سخت جاں اج 83 برس کا ہو چکا
کبھی یہ تحریک فوجی امروں کے سامنے سینہ سپر نظر اتی ہے اور کبھی یہ تحریک ختم نبوت کی محافظ بن جانے کی پاداش میں قیادت کو داخلِ زنداں دیکھتی ہے
کبھی اس تحریک کے چمنستان کو سید قطب اپنے پاکیزہ لہو سے اس کی ابیاری کرتے ہوئے عظیم رب کی راہ میں قربان ہوتا نظر اتا ہے
کبھی امام حسن البنا اس تحریک کے لیے داخل زندہ ہونے میں فخر محسوس کرتے ہیں بالاخر قربان ہوتے ہیں

 

 

کبھی یہ تحریک اقبال کے خوابوں کی صورت بن جاتی ہے اور کبھی یہ تحریک باطل کے سامنے میدان عمل میں برسر پیکار نظر اتے ہوئے خوبصورت گبرو نوجوان قربان کرتے ہوئے نظر اتی ہے
کبھی یہ تحریک ایوانوں کے اندر صدائے حق بلند کرتے ہوئے کسی ایسے ایجنڈے کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتی ہے جو شریعت کے منافی ہوں
کبھی یہ تحریک تعلیم کے میدانوں میں نوجوانوں کو اسلامی انقلاب کے لیے امادہ و تیار کرتے نظر اتی ہے
سوشلزم اور کمیونزم جنہوں نے دنیا کے اندر ایک انقلاب برپا کیا ایسا انقلاب جو بظاہر ان کی امنگوں کا ترجمان تھا مگر
اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کہ منافی تھا ایسے انقلاب کو قصہ ماضی بننے پر مجبور کرنا بھی اسی تحریک کا مرہون منت ہے
یہ تحریک مروثیت سے پاک تحریک مذہبی منافرت جس سے ہم تقسیم در تقسیم ہو ئے سے پاک تحریک کبھی میاں طفیل کی زیر قیادت اس مملکت خداداد پاکستان میں ایک اسلامی انقلاب کے خوگر بنی رہی کبھی مرد قلندر مجاہد صفت قاضی حسین احمد نے اس تحریک کو اس ملک کے نوجوانوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے طول و عرض میں اس کو پذیرائی دی

 

 

کبھی یہ تحریک مرد درویش سید منور حسن کہ اس صورت میں حق کوئی اور بے باکی کی علامت بنی اور اج مملکت خداداد پاکستان کی امیدوں کا محور اگر کوئی ہے تو وہی تحریک ہے جس کی بنیاد امام العصر سید الاعلی مودودی نے اج سے 83 سال قبل رکھی تھی
یہ تحریک جو دنیا کی تمام اسلامی تحریکوں کی نمائندہ تحریک جو مملکت خداداد پاکستان کی بقا اور سالمیت کے لیے کوشاں ہے کی امانت جناب سراج الحق کے پاس ہے
مور ملکت خداداد پاکستان کے طول و عرض میں خیبر سے لے کر کراچی تک اور گوادر سے لے کر کشمیر تک اگر اس ملک میں بسنے والوں کہ خیر خواہ اگر کوئی تحریک ہے تو صرف اور صرف جماعت اسلامی ہے

 

 

اور دن بدن اس تحریک میں نوجوانوں کا اضافہ اس کی کامیابی کی دلیل بن کر انشاء اللہ سید ابو الاعلی مودودی کی اس فکر اور سوچ، کہ جس کو بنیاد بنا کر انہوں نے اس کو قائم کیا کو منزل سمجھ کر راستوں کی پرواہ کیے بغیر اس منزل کا حصول ممکن بنانے کا عزم صمیم کر رہے ہیں اللہ تعالی سید زادے کی قبر پر نور کی برکھا برسائے کروڑوں رحمتیں ہوں سید مودودی تیری قبر پر لاکھوں عنایتیں ہوں تیری لحد پر اج تحریک اسلامی سے منسلک ہر ہر انسان کے لب پر یہی دعا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں