تلاش ،سید خالد گردیزی
گذشتہ روز یوم پاکستان کے موقع پر آزاد جموں و کشمیر سےتعلق رکھنے والے دو افسران عطااللہ عطا اور راجہ عرفان سلیم سمیت ڈاکٹر مختار اور دو شہداء ڈاکٹر صادق شہید اور ہیلتھ پروفیشنل پروین کوثر شہید کو ان کے اعزازات گورنر پنجاب نے لاہور میں پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ عطا کئے جبکہ گلگت، پشاور، کوئٹہ اور کراچی میں اسی نوعیت کی تقاریب ہوئیں جہاں ان علاقوں/صوبوں کے اعزاز یافتگان کو گورنروں نے تمغے وغیرہ لگائے۔ شاید آزاد خطہ کی حکومت کو اس امانت کے پہنچانے کی ذمہ داری انجام دینے کے قابل نہیں سمجھا گیاجس کی ایک وجہ شاید خطے کے صدر و وزیر اعظم کی ہمہ وقت اسلام آباد موجودگی ہوسکتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایوانِ صدر اسلام آباد میں ہونے والی تقریبِ عطائیگی اعزازات میں وزیر اعظم پاکستان، صوبائی گورنروں و وزراء اعلٰی بشمول گلگت بلتستان اور سروسز چیفس موجود نہیں تھے لیکن وہاں آزاد کشمیر کے وزیراعظم کی موجودگی حیرت انگیز تھی۔ جہاں صدرِ پاکستان نے ایک سو کے قریب اعزازات اپنے ہاتھوں عطا کئے وہاں آزاد کشمیر کے اعزاز یافتگان کو لاہور بھجوانے کی بجائے ایوان صدر میں اعزاز عطا کر دینا کوئی بڑی بات بھی نہیں تھی۔اس سارے عمل سے دماغوں میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔دوسری جانب ادھر پریڈ گراؤنڈ میں سلسلہ مختلف تھا۔آزادکشمیر رجمنٹ کا دستہ جوبن پر تھا۔آزاد کشمیر کا ثقافتی ٹرک سب سے آگے تھا جس پر علی شاہ گیلانی صاحب اور برہان وانی کی تصویر سمیت سائیں سہیلی سرکار کی زیارت نمایاں تھے۔