قبرستان کا وزیراعظم کون اور کیسے رہا؟

128

 

تلاش ،سید خالد گردیزی

یہ کہانی کافی دلچسپ ہے، 2005 کا زلزلہ برپا ہوا تو سابق صدر پرویز مشرف تخت پربراجمان تھے۔ان کی معاونت شوکت عزیز بطور

وزیر اعظم کر رہے تھے الغرض عسکری قیادت کا طوطی بولتا تھا۔31 ممالک پر مشتمل نیٹو فورسز سمیت دیگر ممالک اور بین الاقوامی اداروں کا رخ پاکستان کیجانب مڑ گیا تھا جس کے باعث متاثرین زلزلہ کیلئےدنیا کا سب سے بڑا ریلیف و ریسکیو آپریشن شروع ہوا۔

ہمارےصحافتی کیریئر کو ایک سال ہونے کو تھا۔خبریں گروپ کا بھی عروج تھا اور فیلڈ میں آنے والے نئے رپورٹرز کے لئے یہ گروپ ایک اکیڈمی کی حثیت رکھتا تھا۔آئی ایس ایس بی ٹائپ ٹیسٹ کے بعد ہمیں تین ماہ کے لئے عبوری نوکوی مل گئی۔مستقل تعیناتی کا انحصار ہماری کارکردگی پر تھا لیکن کم عمری کی وجہ سے رپورٹنگ روم میں سینئرز وہی پرینک ہمارے ساتھ روزانہ کرتے جو بڑے تعلیمی اداروں میں نئے آنے والوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔

خیر ہمیں جس بیٹ میں بھی اسائنمنٹ ملتی تو ہم اس کے نہاں خانوں میں پہنچنے کی کوشش میں جت جاتے۔تھوڑا بہت آگے بڑھتے تو بیٹ اور اسائنمنٹ بدل جاتی۔یوں جڑواں شہروں میں چند ماہ کے اندر کئی بیٹس میں سینکڑوں اسائنمنٹس بھگتا ڈالیں۔

فیلڈ کیضرورت کے مطابق پالش ہونا شروع ہوئے تو ایسا محسوس ہوا کہ بال و پر نکل آئے ہیں۔یہ کہنا اور لکھنا آسان ہے لیکن اس زمانے میں عمومی انفارمیشن کے حصول کی چومکھی لڑائی اور پھر ہر بات کا پس منظر کتابوں اور ماہرین سے معلوم کرنے کے بعد اسے خبر اور تجزیے میں ڈھالنے کے لئے سینئرز کی جھڑکیں سننا جان جوکھوں کا کام تھا۔

انجوائے بھی بہت کیا کیونکہ صحافت میں ضرورت کے مطابق نہیں بلکہ شوق سے آئے اور اس شوق کو پیزہ بنانے میں بڑے بھائی ہمیشہ کمر اور دست و بازو بنے رہے۔شہزاد خان لاڈلے تھے اس لئے ٹائم پر کھانا کھانے پر توجہ دیتے جبکہ ہمیں کام ختم ہونے تک بھوکا رہنے کا شوق۔اختلاف رائے کے باعث خوب لڑائی چلتی رہتی۔

قصہ مختصر یہ کہ اس زمانے میں ہمدرد گروپ مارکیٹ میں نیا آیا۔ہمیں کھل کر کھیلنا سیکھنے کے لئے پلیٹ فارم کیضرورت تھی اور گروپ کو محنتی ٹیم کی۔انہوں نے خبریں گروپ کی کافی ٹیم اٹھا لی۔

شوکت ملک کی قیادت میں ہم نے بھی ہمدرد جوائن کر لیا۔اشتیاق شاہ، سیف الرحمان مرحومین، احسان بخش اور جاوید بھاگٹ جیسے رپورٹرز بھی ساتھ تھے۔مبشر تیموری مرحوم جیسے کہنہ مشق فوٹو گرافرز ٹیم کا حصہ بن گئے۔

خواہش کے باوجود نئے ادارے میں کرائم و کورٹ کی بیٹ پر کام جاری نہ رکھنے دیا گیا کہ آپکو نہیں معلوم، حالانکہ فیلڈ میں مختلف اداروں سے منسلک ہم چند دوست دعویدار ہونے لگے تھے کہ شہر میں چڑیا پر مارے اور ہمیں معلوم نہ ہو ایسا نہیں ہو سکتا۔

یہ بھی نہیں تھا کہ ہم روزانہ دوسرے اداروں کو منفرد خبروں کی “مسنگ” نہ ڈلوائیں۔ہمارے بعض سینئرز اظہر بن کریم امریکہ چلے گئے۔بابر ملک روزنامہ جناح سے اے آر وائی، عاصم رانا جیو سے وائس آف امریکہ جبکہ رضوان قاضی اور ڈاکٹر زاہد دنیا گروپ سے منسلک ہیں۔رسالت فاضل عباسی۔اشیاق شاہ۔سیف الرحمان فوت ہو گئے۔اعظم زیدی ابھی بھی خبریں کے ساتھ ہیں۔

ایکسکلوزیو کے لئے طوفانی مقابلہ ہوتا تھا رپورٹرز کے درمیان جبکہ اب جدت آگئی ہے۔کام نہ کرنے اور وٹس ایپ پر کاپی پیسٹ چلتا ہے۔ ہر سکرین پر ایکسکلوزیو بھی لکھا ہوتا ہے۔انفارمیشن کا فلو بہت ہو گیا لیکن تیز رفتاری کے باعث کسی بھی خبر کے پس منظر اور کنفرمیشن جیسے اہم پہلو نظر انداز ہو گئے۔جو کسر رہتی تھی وہ سوشل میڈیا نے نکال دی۔ہر وہ شخص رپورٹر بن گیا جس کے پاس موبائل ہے۔

انفارمیشن کے بزنس میں فیک نیوز کے طوفان کے باعث جہاں ریڈرز۔یوزرز اور ویورز کے اس تناظر میں حقوق متاثر ہوتے ہیں وہیں عامل صحافیوں کی طبعی عمر گھٹانے کا باعث بھی ہیں۔صارفین کو تو میڈیا مالکان اور صحافیوں کو کٹہرے میں کھڑے کرنے کا قانونی حق ہے۔صحافی اپنے ڈیپریشن کو لیکر کدھر جائیں؟

فیک نیوز کے اس بہاؤ میں ڈیجیٹل میڈیا اداروں پر انحصار بڑھ گیا ہے۔جدت کے تقاضوں کے پیش نظر ہم نے 7 سال قبل سٹیٹ ویوز کا آغاز کیا۔بات کہیں اور نکل گئی۔کہانی بھی ہر موڑ پر نیا موضوع لئے کھڑی ہوتی ہے۔ہاں تو میں بتا رہا تھا کہ ہمدرد گروپ جوائن کیا تو ڈیفنس بیٹ دیدی گئی جس کو کرائم سے بڑی بیٹ تصور کیا جاتا ہے۔

خوشی بہت ہوئی لیکن یہ چیلنج بھی بڑا تھا۔کہا گیا کہ پریشان نہیں ہوں۔فی الحال بری۔فضائی اور بحری افواج کی پریس ریلیز مل جایا کریں گی۔ڈیفنس سے متعلق پریس کانفرنسوں اور دیگر پروگرامات اٹینڈ کرو۔اندر کی خبروں کے لئے پڑھنا اور سورس بنانے کے لئے میل ملاپ شروع کر دو۔

مرتا کیا نہ کرتا۔اس زمانے میں چونکہ آرمی چیف صدر مملکت تھے۔وزارت دفاع کو بھی وہ خود دیکھتے تھے۔سب سے پہلے پاکستان کا بیانیہ تھا۔فضائیہ کے چیف مصحف علی میر کی شہادت کے آفٹر شاکس تھے۔افغان امریکہ جنگ میں ہم فریق تھے۔انڈیا کے ساتھ پنجہ آزمائی تھی۔آئی ایم ایف سمیت ان ایشوز پر خبریں ہوتی تھیں۔آرمی چیف کی میڈیا ٹیم میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل شوکت سلطان تھے۔بریگیڈیر عتیق(ر) کمال کی حس مزاح اور ہمددری کے حامل اور پاک آرمی کے جریدے ہلال کے ایڈیٹر ڈاکٹر یوسف عالمگیرین جیسے بہتربن انسانوں سے جلد دوستی ہو گئی۔

حکومتی دفاعی پالیسی کا مخالف بیانیہ سننے کیلئے ہم اکثر سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) حمید گل کے گھر پہنچ جاتے کیونکہ افغانستان سے روس کو انہوں نے بھگایا اور صدر وقت ان کے جونیئر تھے۔وہ خوب ڈٹ کر امریکہ افغانستان جنگ میں ملک کے کردار اور کشمیر ایشو پر بولتے۔حمید گل مرحوم کے فرزند اور تحریک نوجوان کے چیئرمین عبد اللہ کے ساتھ تب سے اب تک تعلق برقرار ہے۔

ان ایشوز پر ایک مرتبہ پھر کولہوں کے بیل کی طرح جت گیا۔ راتوں کو جاگ کر پڑھنا۔ صبح دفتر میں میٹنگ ایٹنڈ کر کے شام تک فیلڈ میں کھپنے سمیت رات 12 بجے تک دفتر بیٹھنے کی ریاضت کو چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ 8 اکتوبر 2005 کی صبح یہ ہولناک خبر ملی کہ زلزلے کے باعث ایف ٹین میں رہائشی پلازہ گر گیا ہے۔کئی لوگ مر گئے۔

اگلے ہی آدھے گھنٹے میں اطلاع ملی کہ ایبٹ آباد سمیت آزاد کشمیر میں کچھ بچا ہی نہیں۔ مزید آدھے گھنٹے میں وزیر اعظم آزاد سردار سکندر حیات کا بیان سامنے آیا کہ “میں قبرستان کا وزیر اعظم ہوں۔”

میری گھر میں کسی سے بات نہیں ہو پا رہی تھی۔ ایک فوتگی کی وجہ سے سب بڑے گاؤں میں تھے۔اسلام آباد میں موجود انکل کے گھر فون کیا تو کزن نے بتایا کہ گاؤں تباہ ہو گیا ہے۔انعام بھائیجان (انٹامالوجسٹ) کی شہادت کنفرم ہوئی ہے باقی کوئی علم نہیں۔میری لینڈ لائن نمبر پر کسی سے بات ہوئی ہے۔ٹیلی فون سیٹ کھیت میں پڑا ہوا ہے۔وہ کہنے لگی۔

اس سے زیادہ سن نہ سکا۔آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ایسا لگا کہ کمر ٹوٹ گئی ہے کیونکہ جن بھائی کی فوتگی کی اطلاع ملی انہوں نے ہی والدین اور بھائیوں کو راضی کر کے صحافت جیسا کھٹن شعبہ چننے اور اس میں رگڑا کھانے کے دوران معاشی مشکلات سے دور رکھنے بارے پہل کی تھی۔ والدین سمیت سارا خاندان آنکھوں کے سامنے گھوم گیا جن کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی۔

پہلی مرتبہ خبر لکھنے اور سنانے کے دوران “سنسنی” پھیلانے کی بجائے “ٹون ڈاؤن” رکھنے کی اہمیت کا احساس ہوا۔یہ الفاظ تو تلوار سے تیز دھار اور توپ کے گولے سے بھی خطرناک ہوتے ہیں جو ہم آزادانہ اور بغیر احتیاط کے روزانہ لوگوں پر داغتے ہیں۔خیر دفتر میں ساتھیوں نے سہارا دیا۔اتنی دیر میں ایڈیٹرز کا فون آیا۔یوسف مرحوم نے خیریت دریافت کی۔تنویر اعوان کہنے لگے کہ بچے گاؤں جاؤ اور رابطے میں رہنا۔جتنے پیسے چاہیے ہیں اکاؤنٹ سیکشن سے لے لو۔

شہزاد خان کو فون کیا تو انکی حالت بھی غیر تھی۔بہرحال امی اور ایک انکل کے ساتھ ہم لوگ گاؤں کی طرف روانہ ہو گئے۔گاڑی میں عجیب رقت آمیز منظر تھا۔سب اپنے پیاروں کو رو رہے تھے۔کسی کو بھی کنفرم خبر نہ تھی کہ کیا بچا؟ لوگ امدادی سامان لیکر آزادکشمیر کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔

روڈ پر بے پناہ رش کیوجہ سے دھیرکوٹ تک کئی گھنٹے لگے۔رمضان تھا۔بھوک اور پیاس نے علحیدہ نڈھال کیا ہوا۔دھیرکوٹ شہر میں پہنچا تو شدید بارش شروع ہو چکی تھی۔گھر میں بھائی کے بچوں سے ملاقات ہو گئی۔وہ اکیلے اور بہت سہمے ہوئے تھے تاہم یہ دیکھ کر کچھ اطمینان ہوا کہ دھیرکوٹ قدرے محفوظ تھا۔

انہیں اکیلے چھوڑ کر پڑوسی دوست راجہ منیر کے ساتھ بارش اور اندھیرے میں پیدل گاؤں کی راہ لی۔ہمارے دماغوں میں خوف ۔ دل میں دکھ۔گرتے پڑتے ہاتھوں میں راستے کے کانٹے اور زخمی پاؤں کی وجہ سے جوتوں میں خون کی چپ چپ اب بھی محسوس ہوتی ہے۔(جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں