کشمیر کی آزادی کے لئے ہماری کمیونٹی کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،سابق مئیر ہائی ویکم کونسلر محبوب حسین بھٹی جسٹس آف پیس

25

ہائی ویکم ،یو کے(سٹیٹ ویوز)سابق مئیر ہائی ویکم کونسلر محبوب حسین بھٹی جسٹس آف پیس نے کہا ہے کہ برطانیہ میں آباد پاکستانی اورکشمیری کمیونٹی پاکستان کا نام روشن کرنے کے لئے بڑی خدمات انجام دے رہی ہے اور ہر شعبہ زندگی میں نمایاں ہے۔ کشمیر کی آزادی کے لئے ہماری کمیونٹی کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ میں پہلا پاکستانی ہوں جسے اعلی کارکردگی پر لارڈ چیف جسٹس کی طرف سے حال ہی میں ایوارڈ سے نوازا گیا ہے جس پر میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔

وہ یہاں پاکستان سے آئے ہوئے ممتاز کشمیری دانشور اور امن و ہم آہنگی کے لئے متحرک عالمی تنظیم انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ انسپاڈ کے صدر ڈاکٹر محمد طاہر تبسم سے ملاقات میں بات چیت کررہے تھے۔ ماہر تعلیم بشارت محمود شاکر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ محبوب حسین بھٹی نے کہا کہ مجھے بطور جسٹس آف پیس خدمات انجام دیتے ہوئے بیس سال ہو گئے ہیں جس پر مجھے فخر ہے ہم نے ہر فورم پر برطانیہ اور پاکستان کے تعلقات کو مضبوط و مستحکم بنانے میں کردار ادا کیا ہے جبکہ ہمارے ممبر برطانوی پارلیمنٹ اور موجودہ وزیر برائے آئرلینڈ مسٹر سٹیو بیکر نے میری تجویز پر ہاؤس آف کامنز میں کشمیر پر بھرپور تاریخی بحث بھی کروائی ہے۔

جس سے مسلہ کشمیر مزید اجاگر ہوا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کے موجودہ حالات پر بیرون ممالک رہنے والے پاکستانی فکر مند ہیں اور توقع ہے کہ سیاستدان اور اہل دانش ملک کے حالات کو سنبھالا دینے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ سابق مئیر ہائی ویکم ماہر تعلیم پروفیسر شفیق چوہدری چئیرمین کرسچن مسلم ریلیشن کونسل نے بھی ڈاکٹر محمد طاہر تبسم سے ملاقات کی اور مذاہب و عقائد کے درمیان ہم آہنگی، رواداری، برداشت اور بقائے باہمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس مشن کو مزید فروغ دینے کے لئے لائحہ عمل مرتب کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ انسپاڈ کے تعاون سے مزید پروگرام طے کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت کا تقاضا ہے کہ مذہبی انتہا پسندی اور جنونیت کے سدباب کے لئے تمام مذاہب کے سکالرز کے درمیان ڈائیلاگ کا اہتمام کیا جائے اور ہمیں تمام مذاہب اور مقدس الہامی کتب کے عزت و احترام کو یقینی بنانا ہو گا۔ڈاکٹر طاہر تبسم نے کہا کہ مذہبی انتہا پسندی کے رجحان نے خوفناک صورت اختیار کر لی ہے جو معاشرے کے لئے زہر قاتل ہے اس کے تدارک کے لئے موثر حکمت عملی کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نےسویڈن میں قرآن کریم کی بے حرمتی اور آتشزدگی کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور یورپی یونین سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ایسے افسوسناک واقعات کو مستقبل میں روکنے کے لئے موثر قانون سازی کی جائےکیونکہ ان سانحات سے مذہبی انتہا پسندی کو فروغ مل رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں