امریکہ (سٹیٹ ویوز)نیو یارک میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام باباےقوم مقبول بٹ شہید کی برسی پر تربیتی ورکشاپ کا اہتمام .جس سے JKLF کے سیاسی شعبہ کے سابق سربراہ سردار انور ایڈوکیٹ نے مقبول بٹ شیہد کے حالات زندگی ،قربانی ،فلسفہ آزادی کی روشنی میں موجودہ تحریک کے قائد مزاحمت کی علامت دلی تہاڑ جیل میں پابند سلاسل جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیرمین یسین ملک کی زندگی کو مودی حکومت کی طرف سے لاحق خطرات پر تفصیل سے روشنی ڈالی.
سردار انور ایڈوکیٹ نے تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی مختلف ریاستوں میں مقیم ریاستی باشندوں کو جموں کشمیر کمیونٹی سینٹرز کا قیام عمل میں لانا ہو گا جو یہاں نوجوان نسل کی تربیت گاہ کا کردار ادا کرنے کے ساتھ دوسری قومیتوں کے ساتھ اپنے کلچر اور ثقافت کو اجاگر اور کشمیری باشندوں کے لیے مرکز کا کردار ادا کریں گے.
امریکی ریاستوں میں مقیم کشمیری بزنس کمیونٹی کو جموں کشمیر بزنس فورم بنانا چاہیے .یہاں کی مقامی سیاسی ،معاشی اور علمی اور ادبی سرگرمیوں میں بھر پور کردار ادا کرنا ہو گا. اس وقت بھارت اور پاکستان کے حکمران چند کشمیر سہولت کاروں کے ساتھ مل کر ریاست جموں کشمیر کی مستقل تقسیم کا گٹھ جوڑ کر رکھا ہے. اس کو حتمی شکل دینے کے لیے یورپ اور امریکہ میں بھارت اور پاکستان کی ایمبسیوں اور قونصلیٹ نے چند کشمیریوں کو سہولت کار اور مخبرکے طورپر استعمال کر رہے ہیں.
اس لیے اب سفارتی ذمہ داریاں خود سنھبالنا ہونگی .تربیتی ورکشاپ سے جموں کشمیر لبریشن کے رہنماؤں راجہ مختار،وکیل حسین ،خالد محموداورراجہ اورنگزیب نے بھی خطاب کیا. ورکشاپ کے اختتام پر مشترکہ طور مندرجہ ذیل قراردیں پیش کی گئی.
1:مقبول بٹ شہید اور افضل گرو شہید کا جسد خاکی ورثاء اور قوم کے حوالے کیا جائے.
2:ریاست جموں کشمیر سے قابض افواج کا انخلا کیا جائے.
3:بھارت کی بدنام زمانہ دلی تہاڑ جیل میں پابند سلاسل موجودہ تحریک کے قائد مزاحمت کی علامت یاسین ملک سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیاجائے.
4: بین الاقوامی دنیا فلسطین میں معصوم انسانوں کا قتل عام بند کرانے میں اپنا کردار ادا کرے.
5 پاکستانی زیر انتظام ریاست جموں کشمیرمیں جاری عوامی تحریک کے تمام مطالبات پورے کیے جائیں.
6:بھارت اور پاکستان ریاست جموں کشمیر سے اپنی افواج نکال کر اسلحہ اوردفاع کا بجٹ اپنی قوم کی غربت جہالت افلاس اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے خرچ کرے.
مقررین نے متفقہ طور پر کہا کے اگریورپ میں یورپی یونین بن سکتا ہے تو ایشین یونین کیوں نہیں ؟ خود مختار کشمیر ایشین یونین کا جنیوا اور بھارت پاکستان اورچین کے درمیان دوستی ،امن اور تجارت کاپل بن سکتا ہے.