عوامی جدوجہد میں حصہ لینے اور آگاہی کیلئے رابطہ کاری،معروف کشمیری کاروباری شخصیت شفیق بٹ نے اہم کارنامہ سرانجام دے دیا

93

نیو یارک ( سٹیٹ ویوز)بیرون ملک کشمیری عوامی حقوق کی جدوجہد میں آزاد کشمیر کے عوام اور عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہیں اور کشمیری عوام کی کامیاب جدوجہد پر آزاد کشمیر کے عوام اور عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار بیرون ممالک مقیم کشمیری لیڈروں نے آج ایک ڈیجیٹل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام کشمیر یکجہتی کونسل نارتھ امریکہ نے کیا تھا۔ امریکہ میں مقیم کشمیری یکجہتی کونسل کے چیئرمین جاوید راٹھور اور نیلم سے تعلق رکھنے والے اسلام آباد میں مقیم معروف کاروباری شخصیت شفیق بٹ کی کاوشوں سے پوری دنیا میں مقیم اہم کشمیری رہنماء و سماجی کارکنان ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی مدد سے ایک دوسرے کے ساتھ عوامی جدوجہد میں حصہ لینے اور آگاہی کیلئے رابطہ کاری کر رہے ہیں۔

کانفرنس سے افتتاحی خطاب میں کشمیر یکجہتی کونسل کے چیئرمین جاوید راٹھور نے کہا کے پچھلے 76 سالوں میں آزاد کشمیر کی حکومتوں نے عوام کو آزادی کے نام پر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگاے رکھا اور آزاد کشمیر کے خطے میں تعمیر و ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کوئی کام نہیں کیا جس کی وجہ سے ریاست کی شہریوں کی ایک بڑی تعداد نقل مکانی کر گئی یا اپنے پیاروں کو چھوڑ کر محنت مزدوری کے لیے بیرون ممالک چلی گئی جبکہ آزاد کشمیر میں بےروزگاری مہنگائی اور آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا کہ آٹے کی نایابی اور بجلی کے بلوں میں ھوشربا اضافے نے جلتی پر تیل کا کام کیا .

جس کے نتیجے میں عوامی احتجاج شروع ھوا مگر حکومت وقت نے عوامی احتجاج پر نہ تو کوئی توجہ دی نہ ھی عوام کے مطالبات کو حل کرنے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش کی جس کے نتیجے میں آزاد کشمیر کے عوام نے11 مئی کو ایک مثالی احتجاج شروع کردیا۔ شروع تو حکومت نے طاقت کے ذریعے اس احتجاج کو کچلنے کی کوشش کی مگر عوامی ردعمل اور احتجاج کے حجم اور سنگینی کو دیکھ کر حکومت پاکستان نے مداخلت کی اور عوام کے مطالبات پورے کرنے کے لیے حکومت آزاد کشمیر کو 23 ارب روپے کا خصوصی پیکج دیا جس کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا تاہم اس کے باوجود رینجرز کو بلایا گیا اور رینجرز کی فائرنگ سے 3 افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد لوگوں میں مزید اشتعال پیدا ھوا جس کے نتیجے میں لوگوں کےجزبات بھڑک اٹھے اور چند افراد نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نعرے بازی اور تقریریں کیں ۔

اس واقع کو بنیاد بنا کر عوامی تحریک کو کوئی اور رنگ دینا سرا سر زیادتی ھو گی۔ اصل میں آزاد کشمیر کے عوام کی اس خالص غیر سیاسی تحریک اور اس کی کامیابی نے آزاد کشمیر کے روایتی سیاستدانوں کی سیاست کو ختم کر دیا ہے اور اب آزاد کشمیر کے یہ سیاستدان جنہیں عوام نے مسترد کر رکھا ھے اب وہ الحاق پاکستان اور استحکام پاکستان ریلیاں نکال کر اپنے لیے راستہ بنانا چاہتے ہیں اور کشمیری عوام کے اتحاد اور تحریک کی پیٹھ میں چھرا گھسیٹنا چاہتے ہیں مگر اب آزاد کشمیر کے عوام باشعور ھو چکے ہیں اور وہ ان ان کی چکنی چپڑی باتوں میں نہیں آئیں گے اور عوامی تحریک کو غیر سیاسی رکھتے ھوے اپنے اتحاد کو قائم رکھیں گے۔ کانفرنس کی میزبانی کشمیر یکجہتی کونسل کینیڈا کے صدر سید ارشد حسین، نائب صدر مجیب قاضی اور سکرٹری جرنل سردار طارق خان نے کی جبکہ امریکہ، یورپ اور مشرق وسطی کے مختلف ممالک سے سینئر اور متحرک کشمیری راہنماؤں نے خطاب کیا جن میں امریکہ سے راجہ مظفر لندن سے شیراز خان، سردار نسیم اقبال کینیڈا سے بیرسٹر حمید بھاشانی، ممتاز خان، ڈاکٹر کامران، جرمنی سے نورین اکرم راٹھور سعودی عرب سے وسیم درانی نے خطاب کیا جبکہ ڈاکٹر نعیم جعفری، چوھدری عبدالعزیز، ڈاکٹر یاسین رحمان، اسحاق نزیر، اظہر صدیق، افتخار احمد کے علاوہ متعدد افراد نے مختلف ممالک سے شرکت کی۔ کانفرنس میں کشمیری شاعر احمد فرحاد اور دیگر گرفتار لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا جبکہ رینجرز منگوانے اور رینجرز کی فائرنگ سے 3 لوگوں کی ھلاکت پر تحقیقاتی کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا گیا اور آزاد کشمیر کے عوام کی جدوجہد اور عوامی ایکشن کمیٹی کی سپورٹ کے لیے عملی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا جن کا تعین اور حکمت عملی اگلی کانفرنس میں طے کی جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں