ایل اے 15 وسطی باغ 189 پولنگ اسٹیشنز ، 101146 ووٹوں پر مشتمل ہے۔حلقہ میں دو بڑی برادریاں ملدیال اور نارمہ برادری ہے جبک کھکہ راجپوت ، سدھن، سادات، منہاس، چوہدری، اعوان، عباسی اور دیگر قبائل کے ووٹرز فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ حلقہ برادری ازم کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔ اس دفعہ ضمنی الیکشن میں ملدیال برادری سے ضیا القمر ، نارمہ برادری سے کرنل ضمیر اور منہاس برادری سے مشتاق منہاس میں درمیان مقابلہ ہے۔ ضیاء القمر پیپلز پارٹی، مشتاق منہاس مسلم لیگ ن اور کرنل ضمیر پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں۔
الیکشن مہم کے ابتدائی ایام میں ضیا القمر کی پوزیشن بہت مضبوط تھی لیکن گزرتے دنوں کیساتھ مشتاق منہاس نے امپروو کیا ہے۔ وسطی باغ کے اس الیکشن میں پاکستان سے قومی قیادت ، وزراء اور آزادکشمیر سے تمام سیاسی قیادت متحرک رہی۔
راقم نے بھی دو دن اس حلقہ میں گزارے۔ اسوقت تک صورتحال یہ ہے کہ مشتاق منہاس کو ن لیگ، مسلم کانفرنس، میر اکبر خان ، نثار شائق فرشتوں کی حمایت حاصل ہے لیکن اس حمایت کے بعد مشتاق منہاس تیسرے سے دوسرے نمبر پر آگئے ہیں۔ اب مقابلہ جو پہلے کرنل ضمیر اور ضیا القمر کے بیچ تھا مشتاق منہاس اور ضیاء القمر کے درمیان ہے۔
گذشتہ تین الیکشن کی طرح ترپ کا پتہ عبدالرشید ترابی صاحب اور جماعت اسلامی کے پاس ہے .کیونکہ مقابلے کی اس فضا میں جماعت اسلامی کا ووٹ فیصلہ کن ووٹ ہے۔ ایسے حالات میں جب جماعت اسلامی نے نثار شائق کو آن بھی نہیں کیا نہ ہی ٹکٹ دیا اور نہ خود الیکشن لڑنے اور کسی کے ساتھ اتحاد کا فیصلہ کیا۔ تو تینوں جماعتوں کے رہنماؤں نے بہت کوشش کی کہ جماعت ان کی حمایت کرے۔ احسن اقبال ، سعد رفیق اور لندن سے نوازشریف نے بھی ترابی صاحب کو بہت مجبور کیا کہ آپ ہماری حمایت کی کریں۔
نوازشریف سے تین دن قبل فون بھی کروایا گیا کہ مریم نواز آپ کے گھر چائے پینا چاہتی ہےلیکن مشتاق منہاس کے گذشتہ تجربے ، وعدہ خلافیوں کی وجہ سے ترابی صاحب اور جماعت اسلامی وسطی باغ قطعاً حمایت نہیں کرنا چاہتے تھے۔ رہی سہی کسر نثار شائق نے پوری کردی۔جس کی وجہ سے ردعمل فطری تھا۔ جماعت اسلامی کا کوئی کارکن بھی نثار شائق کیساتھ نہیں گیا اور نثار شائق جو جماعت میں تقسیم اور گروہ بندی کی وجہ تھے جانے پر کارکن مطمئن نظر آئے۔ نو ہزار سے زائد ووٹ رکھنے والی جماعت کے پاس اب دو آپشن تھے کرنل ضمیر یا ضیا القمر۔ کل کور کمیٹی کے اجلاس میں کارکنوں کا اختیار دیا گیا۔
میرے تجزیے کے مطابق 5000 ووٹ کرنل ضمیر جو اور 4000 ووٹ ضیاء القمر کو ملے گا۔ جماعت اسلامی کا نوجوان ووٹر ضیا القمر کی طرف جائیگا۔مشتاق منہاس کی الیکشن مہم فیلڈ کی بجائے جلسے، کارنر میٹنگز پر فوکس رہی جبکہ ضیا القمر نے گھر گھر اور محلہ محلہ ، عام آدمی تک مہم چلائی۔ ضیاء القمر نے ملدیال برادری کے علاوہ دیگر برادریوں میں بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے اور اپنی قبولیت عام حاصل کی ہے۔ محنت اتنی کی ہے کہ پورا دن اور پوری رات ایک ایک پولنگ اسٹیشن پر فوکس کیا ہے۔ مشتاق منہاس کی الیکشن کمپین فیلڈ کی بجائے مینیجمینٹ پر زیادہ فوکسڈ ہے.
پاکستان سے وزراء سیاسی قیادت کو مینیج کیا۔ تاہم موجودہ صورتحال میں مقابلے کے باوجود ضیاء القمر کی پوزیشن مضبوط ہے اور ملدیال برادری کا 90 فیصد سے زائد ووٹ ضیاء القمر کو ملےے گا، سادات، سدھن ووٹروں کی اکثریت ضیا القمر کیساتھ ہی۔ دیگر قبائل کی خاطر خواہ ووٹ بھی ضیاء کی طرف مائل ہیں۔ نارمہ برادری کے سنجیدہ فکر لوگ بھی اور کچھ نوجوان بھی ووٹ دینگے اور جماعت اسلامی کے 31 گاؤں میں 4000 کے قریب ووٹ بھی ضیاء القمر کو پڑے گا۔ کرنل ضمیر اپنی برادری کا 70 فیصد ووٹ لے جائینگے اور تحریک انصاف کے تمام ڈسٹرکٹ کونسلر اسوقت ماٹھی ہی سہی لیکن کرنل ضمیر کی بھرپور مہم چلا رہے ہیں، قیوم نیازی نے بہت محنت کی ہے۔
صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ضیا القمر ایک واضح مارجن سے الیکشن جیت جائینگے۔ مشتاق منہاس دوسرے نمبر ہر رہینگے اور کرنل ضمیر کی تیسری پوزیشن ہوگی۔ضیاء القمر کی جیت میں ضیا کی عاجزی، تعلق، حلقہ میں ہر وقت موجودگی، سنجیدہ پن اور سب سے بڑھ کر اپنے تمام ناراض لوگوں کی واپسی اور برادری کی یکسوئی اہم کردار ادا کرے گی۔ پہلی دفعہ اس شدت کا برادری ازم دیکھنے کو نہیں مل رہا۔ مشتاق منہاس کیساتھ بھاری بھرکم پارٹیاں ، لاو لشکر ضرور ہے لیکن فیلڈ میں متحرک کارکن بہت کم.
بہرحال ہم نے جو دیکھا تحریر کردیا باقی علیم و خبیر ذات اللہ کی ہے۔ وہ بازی پلٹنے میں دیر نہیں لگاتا ۔ ہمیں ضیا قمر کی صورت میں باغ میں ایک جاندار سیاسی رول نظر آتا ہے۔ضیا القمر کو تین ہزار کی لیڈ سے یہ الیکشن جیتنا چاہیے۔ یہ ایک سیاسی کارکن کی ذاتے رائے اور تجزیہ ہے.