پاک چین دوستی کا سفر 1950 میں اس وقت شروع ہوا جب پاکستان نے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کئے۔ ان تعلقات نے دونوں ممالک کے درمیان طویل اور نتیجہ خیز دوستی کا آغاز کیا۔ پاک چین تعلقات کے معاشی ثمرات 1979 میں آنا شروع ہوئے اور جلد ہی چین پاکستان کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا۔ چین چند دہائی قبل سے پاکستانی فوج کے لیے ہتھیاروں کا سب سے بڑا سپلائر بھی بن گیا ہے- درحقیقت اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی 2018 کی رپورٹ کے مطابق چین اپنے جنوبی پڑوسی کو تقریباً 70 فیصد ہتھیار فراہم کرتا ہے۔اچھے سٹریٹجک پارٹنرز ہونے کی وجہ سے پاکستان اور چین بہت سے معاملات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب بھی پاکستان مقبوضہ کشمیر کے متنازع علاقے میں بھارتی افواج کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھاتا ہے تو اسے عموماً چین کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح، حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون بھی مضبوط ہوا ہے کیونکہ مسلح افواج کے زیر استعمال بہت سے اثاثوں اور آلات کی جانچ اور لانچ سے متعلق متعدد منصوبوں پر تعاون کیا جارہا ہے _
پاکستان اور چین نے پاکستان کے سول نیوکلیئر پاور سیکٹر کی بہتری کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا بھی فیصلہ کر رکھا ہے۔ یہ سب پاک چین تعلقات کی مضبوطی کی عمدہ مثالیں ہیں۔ دونوں ممالک نے پاکستان میں توانائی کی پیداوار کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید بڑھانے کے لیے بھی تعاون جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ اقدامات ایک جدید نقطہ نظر کے ساتھ کیے گئے ہیں تاکہ متبادل وسائل کو استعمال کیا جا سکے جو قدرتی، صاف اور پاکستان میں توانائی کی پیداوار کے لیے وافر مقدار میں دستیاب ہیں۔ پاکستان اور چین جوہری توانائی کے تجارتی استعمال کے طریقہ کار کو بہتر بنانے پر بھی مل کر کام کر رہے ہیں.گوادر جو کہ بلوچستان کے ساحلی علاقے کا ایک بندرگاہی شہر ہے، سی پیک کی اہم ترجیحات میں سے ایک ہے۔ منصوبے کے اسٹیک ہولڈرز حکومت پاکستان کے تعاون سے گوادر کو اسمارٹ پورٹ سٹی میں تبدیل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تاہم جب کہ ابھی اسکی تکمیل میں وقت لگے گا، گوادر بندرگاہ اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں ترقیاتی کام تیز رفتاری سے جاری ہے۔ یہ تمام پیش رفت بہت سے سرمایہ کاروں، ڈویلپرز اور گوادر پورٹ اتھارٹی کے درمیان منظم تعاون کا نتیجہ ہے۔
ایک دہائی سے زائد عرصہ قبل تشکیل دیا گیا جی ڈی اے CPEC سے متعلق پیش رفت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ گوادر کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بہت کچھ ہو رہا ہے کیونکہ اس کی توسیع جاری ہے اور آنے والے سالوں میں اس شہر میں جائیدادوں کی قیمتیں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ گوادر شہر میں ان دنوں بہت سے نئے تجارتی اور رہائشی منصوبے تعمیر کیے جا رہے ہیں تاکہ اس کے مستقبل کے مکین بہترین طرز زندگی سے لطف اندوز ہو سکیں۔ گوادر کی ترقی پاک چین تعلقات کے حوالے سے بہت اہمیت رکھتی ہے۔قارئین، چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) جسے گیم چینجر قرار دیا گیا ہے، پاکستان میں شروع کیا گیا 3000 کلومیٹر طویل چینی انفراسٹرکچر نیٹ ورک کا منصوبہ ہے۔ اس سمندری اور زمینی راہداری کا مقصد ملائیشیا اور انڈونیشیا کے درمیان آبنائے ملاکا کے موجودہ راستے سے گریز کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے ممالک سے چین کی توانائی کی درآمدات کو کم کرنا ہے، جو جنگ کی صورت میں بلاک ہو سکتا ہے اور اس طرح چینی توانائی پر منحصر اقتصادی راہوں کو بند کر سکتا ہے_ بحیرہ عرب کے اندر گوادر کے گہرے پانی کی بندرگاہ اور اس بندرگاہ سے مغربی چین کے صوبہ سنکیانگ تک سڑک اور ریل لائن کی تعمیر یورپ اور چین کے درمیان تجارت کو بڑھانے کا ایک شارٹ کٹ ثابت ہوگی۔ پاکستان میں اس کا مقصد بجلی کی کمی پر قابو پانا، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور نقل و حمل کے نیٹ ورک کو جدید بنانا بھی ہے۔ اس سے زراعت پر مبنی اقتصادی ڈھانچے سے صنعتی بنیادوں پر منتقلی بھی ممکن ہو سکے گی_
بہت سے پن بجلی، شمسی توانائی اور ہوا سے توانائی کے منصوبے CPEC منصوبے کا ایک اہم حصہ ہیں۔ CPEC کے لیے پاکستان کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق ان میں سے کچھ منصوبوں کی پلاننگ ہو چکی ہے اور کچھ زیر تعمیر ہیں، جب کہ دیگر پہلے ہی مکمل اور آپریشنل ہو چکے ہیں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کی ضروریات اور ٹھوس کوششوں کو مدنظر رکھتے ہوئے گزشتہ 5 سالوں میں 17 منصوبے مکمل کیے گئے، جبکہ 18 منصوبے جاری ہیں۔ اہم منصوبوں میں چار SEZs کا قیام، گوادر کی سماجی و اقتصادی ترقی اور پاور سیکٹر میں 5000 میگاواٹ سے زیادہ کا اضافہ شامل ہے۔سی پیک کے حوالے سے ایک بڑا کردار پاک فوج نے ادا کیا ہے کیونکہ CPEC اور چینی حکام کو فراہم کی گئی سکیورٹی کو فوج نے یقینی بنایا ہے_ فوج نے سی پیک منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کے دشمنوں کے تمام مذموم عزائم کو بھی ناکام بنا دیا ہے۔ چینی حکومت اور ان کے حکام نے بھی علاقائی امن کے لیے پاک فوج کی مخلصانہ کوششوں اور سی پیک منصوبوں کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی کو سراہا۔ چمالنگ کی کوئلے کی کانوں کو سیکیورٹی فراہم کرنا، سی پیک کے راستوں کے تحفظ کے لیے خصوصی سیکیورٹی ڈویژن کو بڑھانا، سی پیک کے لیے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو تیار کرنا اور ایف ڈبلیو او کے ذریعے بہت کم لاگت میں انتہائی ضروری ڈیموں کی ترقی اور تعمیر میں حکومت کی مدد کرنا ایسے عوامل ہیں جن سے حکومت کو انتہائی مطلوبہ معاشی فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ شمالی پاکستان میں اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (SCO) کی کاوشیں بھی قابل ستائش ہیں کیونکہ اس نے CPEC منصوبوں کو مطلوبہ اور ضروری مدد فراہم کی ہے کیونکہ اس کے پاس مطلوبہ وسائل موجود ہیں۔
پاک فوج سی پیک کی سکیورٹی کو یقینی بنا رہی ہے اور اس کی سکیورٹی کے لیے پہلے ہی ایک ڈویژن کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ 34 ویں لائٹ انفنٹری ڈویژن، جسے اسپیشل سیکیورٹی ڈویژن (SSD) بھی کہا جاتا ہے پاک فوج کی ایک ٹو سٹار فارمیشن ہے جسے ستمبر 2016 میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) اور اس کے تحفظ کے بارے میں بڑے خدشات کے جواب میں تشکیل دیا گیا تھا۔ اس مقصد کے لیے فلیگ شپ پروجیکٹ کے تحفظ اور حفاظت کے لیے ایک اسپیشل سیکیورٹی ڈویژن (SSD) قائم کیا گیا۔ فوجی انجینئرز اور افرادی قوت اس راہداری کے ایسے حصے بنا رہے ہیں جہاں سڑک موجود نہیں ہے اور فوج نے اس کی حفاظت کی پوری ذمہ داری اپنے اوپر لے لی ہے_ سی پیک کی کامیابی کا کریڈٹ پاک فوج کو بھی جاتا ہے۔
آرمی چیف نے چند ہفتے قبل چین کا دورہ بھی کیا جس میں دوطرفہ امور اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے حال ہی میں چین پاکستان سٹریٹجک تعلقات کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے لیے مکمل حمایت کا وعدہ کیا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے چینی اسٹیٹ کونسلر اور وزیر خارجہ کن گینگ سے ملاقات کی اور ملاقات میں علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران آرمی چیف نے چین پاکستان اسٹریٹجک تعلقات کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے لیے بھی مکمل تعاون کا وعدہ کیا جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) کا ایک اہم جزو ہے۔
آرمی چیف نے علاقائی اور عالمی امور پر پاکستان کے لیے چین کی غیر متزلزل حمایت کو سراہا۔ چینی وزیر خارجہ کن گینگ نے برادر ممالک کے درمیان دیرینہ اور گہرے تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا اور سی پیک پر ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس کی بروقت تکمیل کے لیے چین کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنے میں پاکستان کی کوششوں کو بھی سراہا۔دونوں رہنماؤں نے خطے میں ابھرتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ جنرل عاصم منیر نے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے میں چین کے کردار کو سراہا اور دونوں فریقوں نے مشترکہ سلامتی کے چیلنجوں کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں اپنے موجودہ تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ ملاقات ایک مثبت نوٹ پر اختتام پذیر ہوئی_ فریقین نے پاکستان اور چین کے درمیان لازوال دوستی کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ فوج CPEC کے ساتھ مکمل وابستگی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور گیم چینج کرنے والے اس منصوبے کے لیے فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے تمام انتظامات کو یقینی بنا رہی ہے۔قارئین، سی پیک لازوال پاک چین دوستی کی بہترین مثال ہے اور اس کی کامیاب تکمیل سے دونوں دوست ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ سی پیک کے محفوظ تسلسل اور بروقت تکمیل کے لیے پوری قوم اور پاک فوج ایک پیج پر ہیں۔