ازقلم:ڈاکٹر مسعود انور
بجٹ 24-23 کامجمومی حجم 14460 ارب ہے جو حجم کے اعتبار سے23-22 کے بجٹ 9502 ارب سے کافی زیادہ ہے۔ پچھلی دفعہ بجٹ خسارہ 4598 ارب تھا جبکہ اس دفعہ یہ خسارہ 7570 ارب ہے۔ عام آدمی بجٹ کو تنخواہوں میں اضافے کے اعتبار سے دیکھتا ہے تو پچھلے بجٹ کے مقابلے میں اس بار تنخواہوں میں اضافہ 15 فیصد سے بڑھا کر 35 اور 30 فیصد کردیا گیا ہے اور پنشن میں 15 فیصد۔ عمومی طور پر یہ اچھی بات ہوتی ہے کہ بجٹ کے حجم میں اضا فہ ہو اسکا ایک مطلب یہ ہوتا ہے کہ معاشی سرگرمیاں اب زیادہ ہوں گی لیکن پاکستان میں یہ بات اتنی سادہ نہیں ہے۔
اگر اخراجات کی طرف دیکھیں تو پچھلے بجٹ میں سب سےزیادہ رقم سود اور قرض کی ادائیگی کیلے رکھی گئی تھی .جو 3950 ارب تھی جبکہ اس بجٹ میں اسے بڑھا کر 7307 ارب کر دیا گیا ہے۔ جو کل خسارے 7570 ارب کے قریب ترین ہے۔یہ نہ صرف بہت ذیادہ ہے بلکہ مکمل طور پر غیر ضروری ہے اسکا فائدہ چند بینکوں کو جبکہ نقصان عوام کو کیونکہ انکے ٹیکس کا پیسہ جو تعلیم’ صحت اور انفرا سٹکچر اور دوسری اہم جگہوں پر لگایا جاسکتا تھا بینکوں کو دے دیا جاۓ گا۔ حکومت اسکو کم کرنے کیلے بہت سے اقدامات آسانی سے اٹھا سکتی ہے لیکن کوئی بھی حکومت بینک مافیا کو ناراض نہیں کرنا چاہتی۔
بجٹ میں وفاق کی خالص وصولیاں 6500 ارب ہیں۔ پچھلے بجٹ میں ٹیکس وصولی کا ہدف 7004 ارب تھا جبکہ اس دفعہ 9200 ارب اور نان ٹیکس آمدن 2960 ارب۔پاکستان کی تاریخ میں کم ہی ایسے مواقع آۓ ہیں جب وصولیوں کا ہدف حاصل ہوا ہو۔ وصولیوں کے ہدف میں ناکامی اور خسارے کو پورا کرنے کیلے مزید قرض لیا جاے گا۔ اس بجٹ میں ایسی کوئی واضح چیز شامل نہیں ہے جس سے ملک کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ گو کہ معاشی ترقی کا ہدف 3.5 فیصد رکھا گیا ہے۔ آنے والے بجٹ میں قرضوں اور سود کی ادائیگی کا بوجھ مزید بڑھ جاۓ گا۔
صوبوں کا حصہ 4100 ارب سےبڑھا کر 5276 ارب کر دیا گیا ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد قرض وفاق لیتا ہے اور اسے اپنا بڑا حصہ صوبوں کو منتقل کرنا پڑتا ہے جس سےوفاق مالی اعتبار سے کمزور ہوا ہے۔ اس بار آذادکشمیر کا حصہ 28 ارب سے بڑھا کر 3250 ارب کردیا گیا ہے۔تیسرے بڑے اخراجات ہمارے دفاع کیلے آتے ہیں جھنیں 1523 ارب سے بڑھا کر 1804 ارب کردیا گیا ہے۔ دفاع کا بجٹ صرف یہی نہیں ہے کیونکہ اب ہماری اکانومی کو بڑی حد تک دفاعی ادارے کنڑول کرتے ہیں اور انکا اپنا کاروبار خاصا ذیادہ ہے۔
چوتھا بڑا حصہ ہمارے بجٹ میں PSDP کا ہوتا ہے جسے 800 ارب سے بڑھا کر 1150 ارب کردیا گیا ہےسبسڈیز 699 ارب سے بڑھا کر ،1074 ارب کر دی گئی ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کا بجٹ جو 65 ارب تھا اسے 65 ارب رکھا گیا ہے جبکہ نئے منصوبوں کیلے ترقیاتی بجٹ 37 ارب( جو ملے شاید 31 ارب ہیں) سے 70 ارب کر دیا گیا ہے۔ ہائرایجو کیشن کا مجموعی بجٹ 135 ارب ہے۔ اسکے علاوہ لیپ ٹاپ سکیم کیلے10 ارب رکھے گئے ہیں۔ صحت کا بجٹ 26 ارب ہے۔ اسکے ساتھ اگر تجارت کے ہداف کو دیکھا جاے تو برآمداد کا ہدف26 ارب سے 30 ارب ڈالر جبکہ ترسیلات زر کا ہدف 31 ارب سے 33 ارب کردیا گیا ہے۔
اس سال سست معاشی رفتار کی بدولت درآمدات جو 78 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں تھیں کافی کم رہی ہیں لیکن جب معشیت کا پہیا چلا جو معاشی ترقی کا ہدف 3.5 رکھا گیا ہے اسے حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تو درآمدات 80 ارب سے تجاوز کریں گی جس سے روپے پر مزید دباؤ آۓ گا اور اسکی قدر کم ہو گی۔ حکومت نے پچھلے بجٹ میں معاشی ترقی کا ہدف 5 فیصد رکھا تھا جو حکومت کے اپنے ادادو شمار کے مطابق 0.29 ہے۔ جو مثبت گروتھ دکھانے کیلے اعداد پیش کیے گئے ہیں حقیت میں یہ منفی ہے۔ مہنگائی کی شرح کا ہدف 11.5 فیصد رکھا گیا تھا جو 21 فیصد سے زاہد ہے۔ ان سے حکو مت کے اہداف رکھنے اور انھیں حاصل کرنے کی صلاحیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔