از قلم : محمد عارف کشمیری
ایک چینی کہاوت ہے ” تمہارا منصوبہ اگر سال بھر کے لیے ہےتو فصل کاشت کرو،اگر دس سال کے لیے ہے تو درخت اگاؤ اور اگر دائمی منصوبہ ہے تو مناسب افراد پیدا کرو”. چنانچہ افراد کی ذہنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں اور ان کی سیرت و کردار کی تعمیر کرنے میں جو اہمیت کسی بھی چیز کو حاصل ہوتی ہے وہ نظام تعلیم کو حاصل ہے ۔تعلیم صرف پڑھنا،لکھنا یا سیکھنے ،سکھانے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو زندگی گزارنے کا شعور دیتا ہے ۔اور اس میں زندگی کے مقاصد اور فرائص کا احساس پیدا کرتا ہے ۔گویا تعلیم ذہنی ،جسمانی اور اخلاقی تربیت کا نام ہے ۔اس کا مقصد اونچے درجے کے ایسے مہذب افراد پیدا کرنا ہے جو اچھے انسانوں اور ریاست کے ذمہ دار شہریوں کی حیثیت سے اپنے فرائض سر انجام دینے کے اہل ہوں ۔اس لحاظ سے ایک قوم کی زندگی کا انحصار بھی اس کی تعلیم پر ہے ۔اور تعلیم ہی وہ عمل ہے جس کے ذریعے افراد کی تعمیر ممکن ہے ۔بقول ڈاکٹر علامہ محمد اقبال:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
لیکن جب پاکستان کے نظام تعلیم کی بات کی جائے تو ہمیں چند مسائل کا سامنا درپیش ہے ۔پاکستان میں وہی نظام تعلیم رائج ہے جو ہمیں انگریزوں سے ورثے میں ملا تھا ۔انگریزوں نے یہ نظام تعلیم اس لئے نہیں نافذ کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کی تہذیب ،روایات اور تمدن کو ترقی دیں بلکہ وہ تعلیم کے ذریعے ایسے افراد تیار کرنا چاہتے تھے جو ہندوستان میں برطانوی انتظامیہ کا کام کر سکیں۔بقول لارڈ میکالے کے: ” ہمارا مقصد ایسے تعلیم یافتہ افراد پیدا کرنا ہے جو نسل اور رنگ کے اعتبار سے تو ہندوستانی ہوں مگر ذہن اور فکر کے اعتبار سے انگریز ہوں ۔اور یہی حال آج ہمارا ہے ۔علامہ محمد اقبال نے اس نظام تعلیم کے بارے میں کہا تھا .
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا
کہاں سے آئے صدا لاالہ الااللہ
ہمارے نظام تعلیم میں پہلا مسئلہ ناقص تعلیمی پالیسی ہے
دوسرا مسئلہ تعلیمی اداروں میں سہولیات کی کمی ہے
تعلیمی اداروں میں اساتذہ کرام کی کمی ہے ۔اور جدید طرز کی تعلیمی تربیت کا فقدان ہے
تعلیمی اداروں میں بہت زیادہ سیاسی مداخلت ہے
اس کے علاوہ یکساں نصاب تعلیم کے مسائل شروع دن سے ہیں۔
تعلیمی مسائل کا حل
تعلیمی پالیسی ملک کے خدو خال کو دیکھ کر بنائی جائے۔
بجٹ میں تعلیم کی اہمیت کو بڑھایا جائے تا کہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیم کے دھارے میں شامل کیا جائے ۔
اتنا مضبوط و مربوط نظام تعلیم ہونا چاہئے جس میں سیاسی مداخلت نہ ہو۔
یکساں نصاب تعلیم کو ملک میں نافذ کیا جائے جو امیر،غریب سب کے لیے یکساں ہو ۔
اساتذہ کرام کو جدید طرز پر درس و تدریس کی تربیت دی ,جائے ۔جس میں Online education اور Electronic Gadgets کا استعمال قابل ذکر ہے۔اور آ خر میں یہی کہوں گا کہ دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو علم کے میدان میں آگے ہوں اور انشا اللہ ایک دن ہمارا کشمیر اور ملک پاکستان تعلیم کے میدان میں ضرور ترقی کریں گے۔۔
ما شا ء اللہ ۔ خوب سے خوب تر ۔