تحریر: نجیب الغفور خان (جموں و کشمیر لبریشن سیل)
قوموں کی تاریخ میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو محض وقتی ارتعاش پیدا نہیں کرتے بلکہ آنے والی صدیوں کے لیے غیرت، خودداری اور بقا کی نئی بنیادیں استوار کر دیتے ہیں۔ یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب حق اور باطل کے درمیان لکیر واضح ہو جاتی ہے اور دنیا دیکھتی ہے کہ مادی وسائل کا گھمنڈ کس طرح ایمانی جذبے اور پیشہ ورانہ مہارت کے سامنے ڈھیر ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی حالیہ تاریخ میں اپریل اور مئی 2025 کے واقعات بھی ایک ایسی ہی داستانِ شجاعت کا عنوان بنے، جس نے نہ صرف دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا بلکہ پاکستانی قوم کو ایک نئے عزم اور وقار سے سرشار کر دیا، جو بالکل ویسا ہی تھا جیسا 28 مئی 1998 کو چاغی کے پہاڑوں نے ایٹمی دھماکوں کے ذریعے ناقابلِ تسخیر ہونے کا اعلان کر کے حاصل کیا تھا۔
اس سارے منظرنامے کا آغاز 22 اپریل 2025 کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے پہلگام میں ہونے والے ایک مشکوک واقعے سے ہوا، جسے بھارت نے ایک سوچی سمجھی فالس فلیگ کارروائی کے طور پر استعمال کیا۔ بیسرن کے سیاحتی مقام پر 26 بھارتیوں کی ہلاکت کو بنیاد بنا کر مودی حکومت نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ اس کارروائی کا اصل مقصد اپنی داخلی سیکیورٹی کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا اور عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کر کے ایک نئی جنگی مہم جوئی کا جواز پیدا کرنا تھا۔ بھارت نے اس واقعے کو عالمی برادری کو گمراہ کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا، مگر سچائی کو چھپانا اتنا آسان نہ تھا جتنا نئی دہلی کے پالیسی سازوں نے گمان کر لیا تھا۔
بھارتی جارحیت اور جنگی جنون کے جواب میں پاکستان کی عسکری قیادت نے کمال ضبط اور مابعد انتہائی موثر عسکری حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ 10 مئی 2025 کو جب دشمن کی جانب سے سرحدوں کی پامالی کی کوشش کی گئی تو افواجِ پاکستان نے “آپریشن بنیان مرصوص” کے ذریعے اسے وہ دندان شکن جواب دیا جو تاریخ کا حصہ بن گیا۔ فیلڈ مارشل اور فورسز کی جدید ترین جنگی مہارت، فضائی برتری اور زمین پر مربوط کارروائیوں نے دشمن کے نام نہاد دفاعی حصار، بشمول رافیل طیاروں اور ایس 400 سسٹم کے گھمنڈ کو پیوندِ خاک کر دیا۔ یہ معرکہ حق محض ایک دفاعی کارروائی نہیں تھی بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور ایمانی قوت کے اس حسین امتزاج کا مظاہرہ تھا جس نے دشمن کے عسکری ڈھانچے کو لرزا کر رکھ دیا اور ثابت کر دیا کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔
اس معرکے کے دوران ایک دلچسپ صورتحال میڈیا کے محاذ پر بھی دیکھنے کو ملی۔ جہاں بھارتی میڈیا اپنی روایتی بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر جھوٹے بیانیے اور من گھڑت فتوحات کے دعوے کرتا رہا، وہیں پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا کے نوجوانوں نے ذمہ دارانہ اور حقیقت پر مبنی رپورٹنگ کے ذریعے دشمن کے پروپیگنڈا سیل کو مفلوج کر دیا۔ پاکستان نے اطلاعات کی اس جنگ میں سچائی کا دامن تھامے رکھا، جس کی وجہ سے عالمی برادری تک حقائق پہنچے اور بھارت کی جگ ہنسائی ہوئی۔ یہ پاکستانی میڈیا کی پیشہ ورانہ پختگی کا ثبوت تھا کہ دنیا نے بھارت کے شور و غوغا کے بجائے پاکستان کے مدلل بیانیے کو ترجیح دی، جس نے بھارتی مکارانہ بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔
سفارتی محاذ پر بھی پاکستان کو وہ کامیابی حاصل ہوئی جو دہائیوں تک یاد رکھی جائے گی۔ بھارت جو پاکستان کو تنہا کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا، خود عالمی سطح پر رسوائی کا شکار ہوا۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی بصیرت کا نتیجہ تھا کہ دنیا نے پاکستان کو ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست اور خطے میں امن کے ضامن کے طور پر تسلیم کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی قیادت کی بارہا تعریفیں اور عالمی سطح پر ثالثی کے لیے پاکستان پر بڑھتا ہوا اعتماد اس بات کی علامت تھا کہ پاکستان عالمی معاملات میں ایک کلیدی اور باوقار کھلاڑی بن کر ابھرا ہے۔ وہی بھارت جو کبھی تکبر میں ڈوبا تھا، اب پژمردہ چہرے کے ساتھ دنیا کے سامنے اپنی سبکی مٹانے کی ناکام کوششیں کر رہا تھا۔
پاکستان کی یہ کامیابی دراصل قومی اتحاد اور “واعتصموا بحبل اللہ” کی جیتی جاگتی تصویر تھی۔ پوری قوم اپنے محافظوں کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی، جس نے ثابت کیا کہ جب عوام اپنی فورسز کے شامل بشانہ ہوں تو بڑی سے بڑی مادی طاقت بھی شکست سے نہیں بچ سکتی۔ تاہم خطے میں پائیدار امن کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک بنیادی تنازع، یعنی مسئلہ جموں و کشمیر، کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں ہو جاتا۔ 10 مئی کا دن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ آزادی کی حفاظت کے لیے ہر قربانی دی جا سکتی ہے اور حق پر ڈٹی رہنے والی قوم کو کبھی ذلیل نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد