آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) اندرونی چپقلش، نئی صف بندیاں اور ٹکٹوں کی سیاست،اقتدار کی راہداریوں میں بڑھتی دراڑیں یا ایک نئے سیاسی باب کی تمہید

73

تحریر؛ڈاکٹر راجہ زاہد خان سیاسی و دفاعی تجزیہ کار
آزاد جموں و کشمیر کی سیاست اس وقت ایک ایسے نازک اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں سیاسی جماعتوں کے اندرونی اختلافات صرف تنظیمی معاملات نہیں رہے بلکہ براہِ راست انتخابی نتائج، آئندہ حکومت سازی اور وزارتِ عظمیٰ کی سیاست پر اثر انداز ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔پاکستان مسلم لیگ (ن) بظاہر آج بھی آزاد کشمیر کی سب سے بڑی، منظم اور تجربہ کار سیاسی قوت دکھائی دیتی ہے، مگر اندرونی طور پر جماعت کئی طاقتور دھڑوں، ذاتی سیاسی مفادات، حلقہ جاتی رسہ کشی، برادری ازم، electables کی سیاست اور “آئندہ وزیراعظم کون؟” کے سوال میں بری طرح الجھتی جا رہی ہے۔

پارٹی کے اندر اب صرف ٹکٹوں کی جنگ نہیں چل رہی بلکہ ایک خاموش مگر خطرناک طاقت کی جنگ جاری ہے، جس میں ہر گروپ اپنی سیاسی بساط بچھانے میں مصروف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاست میں مسلم لیگ (ن) کے اندر ہونے والی نئی صف بندیاں مستقبل کی حکومت، پارلیمانی طاقت کے توازن اور جماعتی کنٹرول کے تناظر میں دیکھی جا رہی ہیں۔

اقتدار بھی اپوزیشن بھی سیاست کا عجیب تضاد:
2021 کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) اگرچہ حکومت بنانے میں ناکام رہی، مگر بعد ازاں چوہدری انوار الحق کی حکومت میں ن لیگ کے وزراء کی شمولیت نے جماعت کے اندر پہلا بڑا نظریاتی اور سیاسی شگاف پیدا کیا۔ایک طرف کارکنان اپوزیشن کا کردار چاہتے تھے، دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں میں موجود بعض شخصیات “سیاسی حقیقت پسندی” کے نام پر حکومت کے ساتھ رہنے کو ضروری قرار دے رہی تھیں۔ یہ تضاد اس وقت مزید گہرا ہوا جب جنرل کونسل کے اجلاس میں حکومت سے علیحدگی کی آوازیں بلند ہوئیں، مگر پارلیمانی پارٹی نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر وزراء کو برقرار رکھنے کی سفارش کر دی۔

یوں آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک ایسا منفرد منظرنامہ سامنے آیا جہاں حکومت میں بھی شمولیت تھی، اپوزیشن کا دعویٰ بھی موجود تھا، قائد حزب اختلاف بھی انہی کے پاس تھا اور اقتدار کے فوائد بھی جاری تھے۔ یہ “دو کشتیوں کی سیاست” وقتی طور پر فائدہ مند ضرور رہی، مگر اس نے جماعتی نظم، نظریاتی وابستگی اور کارکنوں کے اعتماد کو شدید متاثر کیا۔

شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر دو مراکزِ طاقت:
اس وقت پارٹی کے اندر سب سے نمایاں تقسیم صدر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر شاہ غلام قادر اور سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کے گرد دکھائی دیتی ہے۔ دونوں رہنما اپنے اپنے سیاسی دھڑوں کو منظم کرنے، ٹکٹوں پر اثرانداز ہونے اور آئندہ اسمبلی میں اپنا بلاک مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شاہ غلام قادر نے خاموش مگر منظم انداز میں اپنی سیاسی بساط بچھا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق چوہدری شہزاد (لچھراٹ)، دیوان علی چغتائی (لیپہ ویلی)، چوہدری اظہر صادق (ڈڈیال) جیسے امیدواروں کے انتخابی معاملات ان کے ذریعے آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب راجہ فاروق حیدر خان نے بھی میدان خالی نہیں چھوڑا۔ ان کے قریب سمجھے جانے والوں میں چوہدری محمد رشید (لنگرپورہ/لیپہ)، چوہدری رزاق (سماہنی)، راجہ ثاقب مجید (کھاوڑہ)، راجہ یاسین (وسطی باغ) اور راجہ شفیق خان (چڑہوئی) جیسے نام شامل ہیں۔

یہ تقسیم اب صرف ٹکٹوں تک محدود نہیں بلکہ آئندہ وزیراعظم آزاد کشمیر کی دوڑ تک پھیلی ہوئی ہے۔ دونوں گروپس اپنے امیدواروں کو جتوا کر اسمبلی میں اپنا بلوک مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ نتیجتاً مسلم لیگ (ن) مجموعی طور پر سیاسی پولرائزیشن کا شکار ہو چکی ہے۔

مشتاق منہاس، بریگیڈیئر محمد خان اور وسطی باغ طاقت، ٹکٹ اور سیاسی توازن کی نئی جنگ
اسی دوران مشتاق احمد خان منہاس (چیف آرگنائزر) کی صورت میں ایک اور اہم پاور سینٹر ابھرا ہے، جو نواز شریف خاندان کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ وہ خاموشی سے مخصوص گروپ کی سرپرستی کر رہے ہیں تاکہ پارٹی کے اندر اثر و رسوخ برقرار رکھیں، مستقبل کی حکومت سازی میں فیصلہ کن حیثیت حاصل کریں اور وزیراعظم کلب میں اپنی جگہ محفوظ رکھیں۔

مگر وسطی باغ میں صورتحال نے سب سے دلچسپ اور پیچیدہ رخ اختیار کر لیا ہے۔ بریگیڈیئر محمد خان کی انٹری نے نہ صرف روایتی سیاستدانوں بلکہ مشتاق منہاس کے لیے بھی چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔بریگیڈیئر محمد خان صرف ایک امیدوار نہیں بلکہ ایک نیا سیاسی بیانیہ لے کر آئے ہیں . بڑا ووٹ بینک، مضبوط سماجی روابط، دفاعی پس منظر، نظم و نسق کی شناخت اور قومی سلامتی، کشمیر کاز اور نوجوانوں پر مختلف طرز کی بات۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ اگر راجہ یاسین خان کو ٹکٹ نہ ملا تو وہ اپنا مکمل وزن بریگیڈیئر محمد خان کے پلڑے میں ڈال سکتے ہیں۔

وسطی باغ اب صرف ایک حلقہ نہیں رہا یہ مسلم لیگ (ن) کے اندر طاقت، اثر و رسوخ، مستقبل کی صف بندیوں اور وزیراعظم کلب کی سیاست کا مائیکرو ماڈل بن چکا ہے جہاں پرانے دھڑے، نئے پاور بلاکس، electables اور تنظیمی سیاست ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔

ٹکٹوں کی جنگ یا طاقت کی بساط؟چند اہم حلقوں میں صورتحال خاص طور پر دھماکہ خیز ہے

– حلقہ چڑہوئی: راجہ شفیق خان بمقابلہ راجہ ریاست خان
– حلقہ کھوئی رٹہ: راجہ ایاز بمقابلہ راجہ شاداب سکندر
– حلقہ عباسپور: چوہدری یاسین گلشن بمقابلہ توصیف عزیز
– حلقہ کوٹلی شہر: فاروق سکندر بمقابلہ ملک نواز و فاتح کیانی
– سہنسہ (LA-25): 26 سے زائد امیدواروں کی فہرست پارٹی قیادت براہ راست ملوث

LA-14 باغ شرقی
میں اعجاز کٹھانہ بمقابلہ سردار میر اکبر
– LA-7 کھاوڑہ
راجہ قیوم، راجہ ابرار اور راجہ ثاقب مجید
– LA-14 لنگرپورہ
چوہدری رشید اور ڈاکٹر. مصطفی بشیر
– LA-9 لیپہ ویلی
چوہدری رشید ، دیوان چغتائی اور فرید خان
سمیت 14 سے 18 حلق میں پرانے اور نئے مسلم لیگیوں کے درمیان شدید رسہ کشی جاری ہے۔

نوجوان وزیراعظم کا نعرہ بیرسٹر افتخار گیلانی کی انٹری:

اس سب کے درمیان بیرسٹر افتخار گیلانی نوجوان قیادت کے بیانیے کے ساتھ میدان میں آ چکے ہیں اور ممکنہ وزیراعظم امیدواروں میں ان کا نام بھی لیا جانے لگا ہے۔

اصل مسئلہ پارٹی یا پاور بلاکس؟:
کیا جماعت اجتماعی سیاسی وژن کے تحت چل رہی ہے یا مختلف پاور بلاکس کے زیرِ اثر؟ جب ہر حلقہ الگ جنگ بن جائے، ہر گروپ اپنی وفاداریاں الگ ترتیب دے اور وزیراعظم بننے کی دوڑ جماعتی مفاد پر غالب آ جائے تو جماعتی نظم متاثر ہونا ناگزیر ہے۔

وقت کا تقاضا مفاہمت، وژن اور سیاسی بلوغت:
اگر مسلم لیگ (ن) واقعی فیصلہ کن قوت بننا چاہتی ہے تو اسے گروہی سیاست کم کرنی ہوگی، پرانے کارکنوں کو اعتماد میں لینا ہوگا، نئے آنے والوں کو مناسب جگہ دینی ہوگی اور نوجوان قیادت کو آگے لانا ہوگا۔

کشمیر کی سیاست صرف اقتدار نہیں — ایک قومی ذمہ داری ہے۔ عوام کو استحکام، معاشی ریلیف، روزگار اور تحریک آزادی کشمیر کے مضبوط مقدمے کی ضرورت ہے۔

آخری اور بڑا سوال:
کیا مسلم لیگ (ن) اپنی اندرونی تقسیم پر قابو پا کر متحد ہو سکے گی، یا پھر وزیراعظم کے خواب اور گروہی سیاست جماعت کو اندر سے کھا جائے گی؟”کیونکہ کبھی کبھی جماعتیں الیکشن مخالفین سے نہیں ہارتیں… بلکہ اپنے ہی اندر اُگنے والی سیاسی دراڑوں سے بکھر جاتی ہیں۔”
نوٹ: یہ تجزیہ تازہ ترین رپورٹس، پارٹی ذرائع اور زمینی حقائق پر مبنی ہے۔ حتمی ٹکٹس نواز شریف اور خصوصی کمیٹی کی سفارشات کے بعد متوقع ہیں۔اب وقت ہے کہ قیادت ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر پارٹی اور کشمیر کے بڑے مفاد کو ترجیح دے۔ اتحاد ہی طاقت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں