فرزندِ مجاہدِ اول: سردار عتیق احمد خان ،وقت سے پہلے بولنے والی بصیرت

46

تحریر: اظہر اعجاز
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو ہنگامے میں دبتی نہیں، بلکہ وقت آنے پر تاریخ خود ان کی گواہ بن جاتی ہے۔ سردار عتیق احمد خان ایسی ہی ایک آواز ہیں۔ انہیں “فرزندِ مجاہدِ اول” کہنا محض نسب کی نسبت نہیں، بلکہ فکر، ویژن اور کمٹمنٹ کی وراثت کا اعتراف ہے۔

1. ملٹری ڈیموکریسی کا نظریہ: استحکام کی پہلی اینٹ
جب ملک میں سول-ملٹری تعلقات پر بحث ہیجان کا شکار تھی، سردار عتیق احمد خان نے “ملٹری ڈیموکریسی” کا تصور دیا۔ ان کا موقف سادہ تھا: پاکستان جیسے جغرافیائی حقائق اور سیکیورٹی چیلنجز والے ملک میں سیاسی استحکام تب ہی آئے گا جب فوج اور سول قیادت ایک پیج پر ہوں۔ نہ فوج کو سیاست سے الگ کیا جا سکتا ہے، نہ سیاست کو قومی سلامتی سے۔

آج فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم میاں شہباز شریف کا ہم آہنگ ورکنگ ریلیشن اسی نظریے کی عملی تصدیق ہے۔ پارلیمنٹ میں اعتماد، SIFC جیسے پلیٹ فارم پر مشترکہ فیصلے، اور دہشتگردی کے خلاف یکسوئی یہ سب بتاتا ہے کہ ملٹری ڈیموکریسی نعرہ نہیں، ضرورت تھی۔

2. ملٹری ڈپلومیسی: سرحدوں سے آگے کا ویژن
جب دنیا بدل رہی تھی اور روایتی سفارتکاری ناکافی ہو رہی تھی، سردار عتیق نے اگلا قدم بتایا: “ملٹری ڈپلومیسی”۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنی جغرافیائی پوزیشن، ایٹمی قوت اور پیشہ ور فوج کو ڈپلومیٹک اثاثہ بنانا ہوگا۔ آپریشن بنیان المرصوص نے دنیا کو دکھا دیا کہ پاکستان کی ڈپلومیسی صرف دفتر خارجہ تک محدود نہیں۔ جب بھارت کی جانب سے جارحیت ہوئی تو عسکری قیادت نے پروفیشنل رسپانس کے ساتھ خطے کا توازن برقرار رکھا۔ اس کے بعد عالمی دارالحکومتوں میں پاکستان کی سنی گئی۔ یہی ملٹری ڈپلومیسی ہے: طاقت کے ساتھ بات، اور بات کے ساتھ طاقت۔

3. ایران-امریکہ کشیدگی اور پاکستان کا کردار
موجودہ ایران امریکہ تناؤ میں پاکستان کا متوازن کردار بھی اسی دوراندیشی کا نتیجہ ہے۔ نہ آنکھ بند کر کے کسی کیمپ میں جانا، نہ غیر ضروری دشمنی۔ GHQ اور دفتر خارجہ کا مشترکہ بیانیہ، ایران سے برادرانہ تعلق اور امریکہ سے اسٹریٹجک ڈائیلاگ یہ وہ بیلنس ہے جس کی بنیاد اور نظریاتی سوچ سردار عتیق جیسے رہنما برسوں پہلے رکھ چکے تھے۔

4. “کشمیر بنے گا پاکستان” سے “بنیان” تک: نظریے کا تسلسل
سردار عتیق احمد خان کی سیاست نعروں کی سیاست نہیں، نظریے کی سیاست ہے۔ چاہے “پاک فوج زندہ باد” ریلی ہو یا “کشمیر بنے گا پاکستان” کا نعرہ، ان کے لیے یہ الفاظ کمٹمنٹ ہیں۔ مشکل سیاسی حالات، جماعتی کمزوری، مخالف ہوا اس سب کے باوجود انہوں نے اپنا ویژن نہیں بدلا۔

آج جب ہر پارٹی اپنی “باری” کے لیے جلسے کر رہی ہے، سردار عتیق کا فوکس صرف ایک ہے: پاکستان کا استحکام، سلامتی، اور وقار۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی استحکام معاشی استحکام کی کنجی ہے، اور معاشی استحکام عسکری استحکام کے بغیر ناممکن ہے۔

5. وقت نے جسے ثابت کیا
لیڈر وہ نہیں جو ہجوم کے پیچھے چلے۔ لیڈر وہ ہے جو ہجوم سے پہلے بولے اور وقت اس کی بات ثابت کرے۔ سردار عتیق احمد خان نے ملٹری ڈیموکریسی کہا آج وہ حقیقت ہے۔ ملٹری ڈپلومیسی کہا آپریشن بنیان المرصوص اور موجودہ خارجہ پالیسی اس کی مثال ہے۔ فرزندِ مجاہدِ اول کی سیاست اقتدار کی نہیں، ریاست کی محافظ ہے۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ ریاست سے وفاداری کا صلہ دیر سے ہی سہی، ملتا ضرور ہے۔پاکستان زندہ باد۔ افواجِ پاکستان پائندہ باد۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں