جناب سردار الیاس خان. کاروبار، وقار اور قومی خدمت کا روشن استعارہ

58

تحریر: مشتاق احمد ڈار
آزاد ریاست جموں و کشمیر کی سرزمین ہمیشہ ایسی باوقار اور باصلاحیت شخصیات پیدا کرتی رہی ہے جنہوں نے اپنی جدوجہد، محنت، بصیرت اور کردار کے ذریعے نہ صرف اپنے خاندان اور خطے کا نام روشن کیا بلکہ عالمی اور بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی منفرد پہچان قائم کی۔ انہی درخشندہ اور عظیم المرتبت شخصیات میں ایک انتہائی معزز، معتبر اور قابلِ فخر نام جناب سردار الیاس خان صاحب کا ہے، جو آج پاکستان بلکہ عالمی ممتاز کاروباری حلقوں میں نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ عرصۂ دراز سے سعودی عرب میں مقیم اس عظیم کشمیری شخصیت نے کاروبار، فلاح اور قومی خدمت کے میدان میں جو نمایاں مقام حاصل کیا ہے، وہ نئی نسل کے لیے ایک روشن مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔

اسلام آباد کے معروف اور جدید تجارتی مرکز “سینٹورس مال” کے مالک جناب سردار الیاس خان صاحب نے اپنی غیر معمولی کاروباری بصیرت، وسیع وژن، جہدِ مسلسل، بے لوث خدمت اور مستقل مزاجی سے یہ ثابت کیا کہ اگر ارادے نیک اور مضبوط ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت انسان کی کامیابی کی راہ نہیں روک سکتی۔ ایک عام کشمیری نوجوان سے بین الاقوامی باوقار کاروباری شخصیت تک ان کا سفر عزم، دیانت، محنت، استقامت اور مسلسل جدوجہد کی ایک متاثر کن داستان ہے۔جناب سردار الیاس خان صاحب کا تعلق آزاد جموں و کشمیر کی اس دھرتی سے ہے جہاں غیرت، محبت، محنت اور وفاداری نسل در نسل منتقل ہوتی آئی ہیں۔ یہی اوصاف ان کی شخصیت میں بھی نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔

سعودی عرب میں طویل عرصہ قیام کے دوران انہوں نے نہ صرف اپنے کاروباری دائرۂ کار کو وسعت دی بلکہ پاکستانی کمیونٹی، کشمیری عوام اور دنیا بھر کے محنت کشوں کے لیے ہمیشہ ایک مضبوط سہارا ثابت ہوئے۔ جناب سردار الیاس خان صاحب ان عالمگیر اور باوصف شخصیات میں شامل ہیں جو صرف دولت جمع نہیں کرتیں بلکہ لوگوں کے دل بھی جیتتی ہیں۔اسلام آباد میں قائم “سینٹورس مال” محض ایک تجارتی منصوبہ نہیں بلکہ جدید پاکستان کے معاشی اعتماد، شہری ترقی اور کاروباری وژن کی ایک روشن علامت ہے۔ اس منصوبے نے نہ صرف سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولے بلکہ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں ضرورت مند نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے۔

ایک ایسے وقت میں جب ملک کو معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے، جناب سردار الیاس خان صاحب جیسے محبِ وطن سرمایہ کار امید کی ایک روشن کرن بن کر سامنے آئے ہیں۔
ان کی شخصیت کا ایک قابلِ تحسین پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنی قومی، ریاستی اور علاقائی شناخت پر فخر کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہونے کے باوجود انہوں نے آزاد جموں و کشمیر اور وطنِ عزیز پاکستان کے ساتھ اپنے تعلق کو ہمیشہ مضبوط رکھا۔ وہ بیرونِ ملک مقیم ان پاکستانیوں میں شامل ہیں جو خاموشی کے ساتھ اپنے وطن کی معیشت، سماجی ترقی اور مثبت تشخص کے فروغ کے لیے قابلِ قدر کردار ادا کر رہے ہیں۔

سماجی اور کاروباری دنیا میں کامیابی حاصل کرنا یقیناً ایک بڑا اعزاز ہے، مگر اصل عظمت اس وقت جنم لیتی ہے جب انسان اپنی کامیابی کو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا ذریعہ بنائے۔ جناب سردار الیاس خان صاحب اسی اعلیٰ سوچ کے حامل انسان ہیں۔ آفاقی اور عالمگیر شہرت کے باوجود ان کی گفتگو میں شائستگی، رویّے میں عجز و انکساری اور انداز میں وقار نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ یہی اوصاف بڑی شخصیات کو ممتاز بناتے ہیں۔آج کے نوجوانوں کے لیے جناب سردار الیاس خان صاحب کی زندگی ایک واضح پیغام رکھتی ہے کہ خواب وہی پورے ہوتے ہیں جن کے پیچھے مسلسل محنت، دیانت اور صبر و استقامت شامل ہو۔ محدود وسائل کے باوجود اگر انسان کے اندر آگے بڑھنے کا جذبہ موجود ہو تو وہ سردار صاحب کی طرح بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت قائم کر سکتا ہے۔

ملکِ پاکستان اور ریاستِ آزاد جموں و کشمیر کو آج ایسے ہی باصلاحیت، محبِ وطن اور دوراندیش افراد کی ضرورت ہے جو سرمایہ کاری، ترقی اور قومی خدمت کے ذریعے نئی نسل کے لیے امید کے نئے دروازے کھول سکیں۔ جناب سردار الیاس خان صاحب بلا شبہ انہی قابلِ فخر شخصیات میں شامل ہیں جن پر پوری کشمیری اور پاکستانی قوم کو ناز ہے۔اللہ تعالیٰ جناب سردار الیاس خان صاحب کو مزید کامیابیاں، عزت، صحت اور استقامت عطا فرمائے اور انہیں وطنِ عزیز پاکستان، آزاد جموں و کشمیر بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے مزید خیر و بھلائی کا ذریعہ بنائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں