معرکۂ حق، قومی وحدت اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کا سیاسی و قومی بیانیہ

40

تحریر :سردار عبدالخالق وصی
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کی زیرِ صدارت 8 مئی 2026 کو ماڈل ٹاؤن لاہور میں منعقد ہونے والا اہم اجلاس محض ایک سیاسی نشست نہیں تھا بلکہ یہ قومی سیاست، ریاستی استحکام، قومی سلامتی اور آئندہ کے سیاسی منظرنامے کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت اختیار کر گیا۔ یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا جب پاکستان داخلی و خارجی سطح پر اہم چیلنجز سے نبرد آزما ہے، خطے میں کشیدگی، عالمی سفارتی تغیرات، مسئلہ کشمیر کی حساسیت، اور آزاد جموں و کشمیر و گلگت بلتستان کے متوقع انتخابات ملکی سیاست کو ایک نئی سمت دے رہے ہیں۔آزاد جموں و کشمیر کے آئندہ انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کی نامزدگی کے لیے منعقد ہونے والے اس اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی پارلیمانی بورڈ نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف نے کی جبکہ بورڈ کے اراکین میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف، سینیٹر محمد اسحاق ڈار، محترمہ مریم نواز شریف، پروفیسر احسن اقبال، خواجہ محمد آصف، انجینئر امیر مقام،رانا ثنا، اللہ، بیرسٹر اعظم نذیر تارڑ، خواجہ سعد رفیق، سینیٹر پرویز رشید، چوہدری برجیس طاہر، کیپٹن محمد صفدر،حمزہ شہبازشریف سینیٹر انوشہ رحمان، مریم اورنگزیب، شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر، مشتاق منہاس، چوہدری سعید، ڈاکٹر نجیب نقی، چوہدری طارق فاروق، بیرسٹر افتخار گیلانی اور چوہدری عبدالرحمن شامل تھے۔جبکہ سردار محمد یوسف اور چوھدری عابد رضا نے بھی اجلاس میں شرکت کی اجلاس میں آزاد جموں وکشمیر سے 33 اور مہاجرین جموں وکشمیر مقیم پاکستان و متاثرین منگلہ ڈیم کے 12 انتخابی حلقوں سے تعلق رکھنے والے امیدواران نے شرکت کی اور اپنے اپنے حلقہ جات کے سیاسی، سماجی اور انتخابی حالات کے حوالے سے پارلیمانی بورڈ کو بریفنگ دی۔

اس موقع پر قائد پاکستان مسلم لیگ (ن) میاں محمد نواز شریف نے امیدواران سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انکی خواہش تھی کہ یہ اجلاس مظفر آباد میں ھو لیکن موسم کی خرابی کے خدشہ کے پیش نظر یہ اجلاس لاہور منعقد کرنا پڑا اس اجلاس کے لیے خصوصی طور پر وزیراعظم پاکستان جناب محمد شہبازشریف نے بھی وقت نکالا اور اس اجلاس میں بطور خاص شریک ھوئے نایب وزیر اعظم اسحاق ڈار و محترمہ مریم نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی بطور خاص اجلاس میں شرکت کی۔ میاں نوازشریف نے کہا وہ اپنے لیے خوشی محسوس کرتے ہیں کہ آپ سب کو یہاں لاہور میں خوش آمدید کہتے ہیں اور آپکی مہمان نوازی کا شرف حاصل کر رھے ہیں کشمیری عوام اور آپ ھم سب کے دلوں کے قریب ہیں اور پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے کشمیری عوام کو ھمیشہ ترجیحات میں سرفہرست رکھا میاں نوازشریف نے کہا ھم نے فیصلہ کیا ھے باہر دوسری جماعتوں سے وقتی مفادات کی غرض سے آنیوالے افراد کو مخلص اور دیرینہ کارکنوں پر ترجیح نہیں دیں گے .مسلم لیگ (ن) کی سیاست کا محور ہمیشہ عوامی خدمت، قومی ترقی، جمہوری استحکام اور ریاستی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی رہا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں ایسے امیدواروں کو آگے لایا جائے گا جو عوامی خدمت، نظریاتی وابستگی، سیاسی بصیرت اور جماعتی نظم و ضبط کی بہترین مثال ہوں۔

اجلاس کا آغاز پروفیسر احسن اقبال کی طرف سے تلاوت کلام پاک سے ھوا میاں نوازشریف کی ابتدائی کلمات کے بعد وزیراعظم پاکستان محمد شہبازشریف نے بھی مختصر خطاب کیا۔ اور مسلم لیگ ن آزاد جموں وکشمیر کے کارکنان کو یقین دلایا کہ وفاقی حکومت آزاد جموں وکشمیر کی ترقی وخوشحالی کو ھر ممکن یقینی بنانے گی۔ اجلاس کے دوران ازاد جموں وکشمیر اور مہاجرین مقیم پاکستان کے 45 انتخابی حلقوں سے آیے,,200 سے زاہد امیدواران سے قائد مسلم لیگ ن نے فرداً فرداً انٹرویو لیا انکی تجاویز اور نکتہ نظر کو توجہ سے سنا اور انکی جماعت کے ساتھ وابستگی اور قیادت کے فیصلوں کو تسلیم کرنے کے جذبہ کو سراھا امیدواران نے اپنے حلقوں کے معروضی حالات، عوامی رجحانات اور اپنی سیاسی موزونیت کے حوالے سے قائد نواز شریف اور پارلیمانی بورڈ کے سامنے اپنا نقطۂ نظر پیش کیا۔ اس موقع پر امیدواران نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پارٹی قیادت جو بھی فیصلہ کرے گی، کارکنان اور امیدوار اس کی مکمل پاسداری کریں گے کیونکہ جماعتی نظم و ضبط اور قیادت پر اعتماد ہی مسلم لیگ (ن) کی اصل قوت ہے۔

اجلاس کا ایک اہم اور توجہ طلب پہلو حلقہ ایل اے 22 سے امیدوار اسمبلی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما سردار عبدالخالق وصی کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد تھی، جسے وقت کی قلت کے باعث پڑھنے کے بجائے اجلاس میں قائد کی اجازت سے ٹیبل کیا اسے “قرارداد برائے خراجِ تحسین بر کامیابیِ معرکۂ حق” کا عنوان دیا گیا۔ اس قرارداد نے نہ صرف اجلاس کی سیاسی فضا کو ایک قومی جذبے سے ہمکنار کیا بلکہ یہ پاکستان کے موجودہ دفاعی، سفارتی اور قومی بیانیے کی بھرپور ترجمانی بھی بن گئی۔قرارداد میں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت، افواجِ پاکستان اور پوری قوم کو “معرکۂ حق” میں حاصل ہونے والی تاریخی کامیابی پر مبارکباد پیش کی گئی۔ قرارداد میں اس حقیقت کو اجاگر کیا گیا کہ پاکستان نے قومی خودمختاری، دفاعی وقار اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے جس اتحاد، استقامت اور بصیرت کا مظاہرہ کیا، وہ قومی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔قرارداد میں قائد مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف کی قیادت کو خصوصی طور پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور اس حقیقت کا اعتراف کیا گیا کہ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے، دفاعِ وطن کو ناقابلِ تسخیر بنانے، موٹرویز، سی پیک، توانائی منصوبوں اور معاشی استحکام کی بنیاد رکھنے جیسے تاریخی اقدامات نے پاکستان کو ایک مضبوط ریاست میں تبدیل کیا۔ قرارداد میں اس امر کو بھی واضح کیا گیا کہ “معرکۂ حق” میں حاصل ہونے والی کامیابی دراصل اسی قومی وژن، مضبوط دفاعی پالیسی اور ریاستی تسلسل کا منطقی اظہار ہے۔

اجلاس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی انتھک کاوشوں، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی فعال سفارتی حکمت عملی اور وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے عوامی و قومی جذبے کو بھی سراہا گیا۔ قرارداد میں بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جراتمندانہ، بصیرت افروز اور فیصلہ کن عسکری قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بناتے ہوئے قومی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔قرارداد کا ایک اہم پہلو پاکستان کے عالمی کردار سے متعلق بھی تھا، جس میں اس امر کا خیر مقدم کیا گیا کہ پاکستان نے امریکہ۔ایران کشیدگی کے خاتمے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک ذمہ دار اور متوازن سفارتی کردار ادا کیا۔ اجلاس نے وزیراعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بروقت سفارتی کاوشوں اور قومی وقار کے مطابق اختیار کی گئی حکمت عملی کو پاکستان کی عالمی ساکھ میں اضافے کا سبب قرار دیا۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے قرارداد میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاریخی اور اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان ہر سیاسی، سفارتی اور اخلاقی فورم پر کشمیری عوام کی آواز بلند کرتا رہے گا۔ اس موقع پر آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے آنے والے انتخابات کو بھی نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ مسلم لیگ (ن) قائد نواز شریف کے ترقیاتی وژن، قومی وقار اور مسئلہ کشمیر پر دوٹوک مؤقف کی بنیاد پر بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔

اجلاس کے اختتام پر شہداءِ وطن کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی گئی اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے پوری قوم متحد ہو کر کام کرتی رہے گی۔ “پاکستان زندہ باد” اور “افواجِ پاکستان پائندہ باد” کے نعروں کے ساتھ اختتام پذیر ہونے والا یہ اجلاس درحقیقت ایک سیاسی اجتماع سے بڑھ کر قومی وحدت، ریاستی استحکام اور نظریاتی وابستگی کا مظہر بن گیا۔اجلاس کے بعد از اداءیگی نماز جمعہ ظہرانہ دیا گیا اسطرح آزاد جموں وکشمیر و مہاجرین جموں وکشمیر مقیم پاکستان سے آیے امیدواران خوشی خوشی اپنے گھروں کو واپس لوٹے ٹکٹ کا فیصلہ آنے والے تین چار روز میں اعلان کر دیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں