تحریر : امام بی بی
ہم کب تک اپنے آباو اجداد کے
بوے ہوئے بیجوں کو پانی دیتے رہیں گے، اس امید پر کہ وہ کسی دن پھل دیں گے؟
یہ سوال آزاد کشمیر کے ہر با شعور باشندے کے دل میں اٹھنا چاہیے۔ ہم کب تک پرانی روایات، موروثی سیاست، وراثتی اقتدار اور فرسودہ نعروں کے سہارے اپنی امیدوں کو زندہ رکھیں گے۔ کب تک ہم انہی چہروں پر اعتبار کریں گے جو اپنا دیدار الیکشن سے چند ماہ پہلے کرواتے ہیں اور عوام کو سنہری خواب دکھا کر چلے جاتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے آنے والے انتخابات ایک بار پھر ہمارے دروازے پر دستک دے رہے ہیں ، ایک بار پھر وعدوں، نعروں اور دعوؤں کا بازار گرم ہوگا ایک بار پھر عوام کو سنہرے خواب دکھائے جائیں گے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم انہی بیجوں کو پانی دیتے رہیں گے جو برسوں سے پھل دینے سے قاصر ہیں۔
آزاد کشمیر کے مسائل ان سیاس نعروں اور جھوٹے وعدے کرنے والوں سے کہیں گنا بڑے ہیں۔ خالی نعروں، وقتی دعووں اور بڑی بڑی تقریروں سے عوام کی تقدیر نہیں بدلتی۔ برسوں سے یہی سیاست دہرائی جا رہی ہے کہ انتخابات کے قریب عوام سے بڑے بڑے وعدے کیے جاتے ہیں اور اقتدار ملتے ہی یہی وعدے فائلوں میں دفن ہو جاتے ہیں۔ یہ المیہ صرف وعدہ خلافی تک محدود نہیں بلکہ حکمرانی کے پورے ڈھانچے کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ اقتدار میں آنے والے حکمران عوامی مسائل کے حل کے بجائے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے، اپنے حامیوں کو نوازنے اور اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
ریاستی وسائل عوام کی فلاح پر خرچ ہونے کے بجائے سیاسی مفادات کی نذر ہو جاتے ہیں، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عام آدمی مہنگائی، بےروزگاری اور محرومیوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے جبکہ حکمران اشرافیہ مراعات اور آسائشوں سے لطف اندوز ہوتی ہے۔آج آزاد کشمیر میں عام آدمی کی حالت یہ ہے کہ وہ بنیادی اشیائے ضروریہ کے لیے پریشان ہے۔ ایک آٹے کی تھیلی دیہاڑی دار مزدور کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ بوڑھی اور ضرورت مند خواتین چند ہزار روپے کی امداد کے حصول کے لیے دفاتر کے چکر لگاتی ہیں، گھنٹوں انتظار کرتی ہیں ذلت برداشت کرتی ہیں، مگر افسوس کہ حکمرانوں کے ضمیر پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ان کے لیے عوام کی مشکلات محض اعداد و شمار ہیں، رپورٹس ہیں، یا وقتی سیاسی بیانات کا حصہ ہیں۔
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہی حکمران انتخابات کے دنوں میں عوام کے خادم بن کر سامنے آتے ہیں۔ وہی چہرے جو پانچ سال تک عوام سے کٹے رہتے ہیں، اچانک گلیوں اور محلوں میں نمودار ہوتے ہیں۔ عاجزی اور انکساری کا ڈھونگ رچایاجاتا ہے ، جھوٹی ہمدردی دکھائی جاتی ہے، عوام کے دکھ درد بانٹنے کے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر جیسے ہی ووٹ حاصل ہو جاتا ہے، عوام پھر تنہا چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ یہی سیاسی منافقت عوامی بداعتمادی کو جنم دیتی ہے۔ عوام کو سمجھنا ہو گا کہ ووٹ کی طاقت ان سیاستدانوں کے جھوٹ سے اور موروثی اقتدار سے بہت بڑی ہے۔ اگر ایک بیج بار بار پانی دینے کے باوجود پھل نہ دے تو عقل یہی کہتی ہے کہ نیا بیج بویا جائے۔
مگر ہماری سیاست میں برسوں سے ناکام قیادتوں کو ہی بار بار آزمایا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسائل بڑھتے جا رہے ہیں اور ترقی ایک خواب بن چکی ہے۔ جب تک عوام پرانی سوچ، برادری ازم، شخصیت پرستی اور وقتی مفادات سے اوپر نہیں اٹھیں گے، اس وقت تک کوئی حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔آزاد کشمیر کے عوام کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ مزید جھوٹے وعدوں اور نمائشی نعروں کے سہارے زندگی گزاریں گے یا حقیقی تبدیلی کے لیے کھڑے ہوں گے۔ اگر اس بار بھی ووٹ برادری، ذاتی مفاد یا وقتی فائدے کی بنیاد پر دیا گیا تو آنے والے سال بھی محرومیوں، بے بسی اور مایوسی کے نام ہوں گے۔ لیکن اگر عوام نے شعور، دیانت اور اجتماعی مفاد کو ترجیح دی تو یہی ووٹ ایک نئے سیاسی انقلاب کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
قوموں کی تقدیر جلسوں کے نعروں سے نہیں بدلتی بلکہ عوام کے باشعور فیصلوں سے بدلتی ہے۔ اب یہ آزاد کشمیر کے عوام کے ہاتھ میں ہے کہ وہ ماضی کی ناکام سیاست کے بانجھ بیجوں کو پانی دیتے رہیں یا ایک ایسے سیاسی انقلاب کی بنیاد رکھیں جو حقیقی معنوں میں عوامی فلاح، انصاف اور خوشحالی کی ضمانت بن سکے۔