کوڑے کی بہتات اور اسکی وجوہات

66

تحریر :حماد خان
صفائی مسلمانوں کے لیے نصف ایمان ہے یہ تو ہم نے سن رکھا ہے مگر جب اس کی عملی مثال دیکھنی ہو تو کلمہ طیبہ کی بنیاد والے ملک میں ڈھونڈنے سے نہیں ملے گی ہمیں اس مقصد کی تکمیل کے لیے یورپ میں بسنے والے غیر مسلموں کے طرز زندگی سے سیکھنا ہو یہ کسی قدر شرم کی بات تو ضرور ہے مگر کیا کیجیئے کے یہی ایک راستہ جس سے ہم سبق سیکھ کر وطن عزیر کو کوڑے جیسی آفت سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ پاکستان میں ایک بڑا مسئلہ کوڑے کو ٹھکانے لگانے کا ہے۔ بڑے شہر ہوں یا دیہات ہر جگہ کچرے، گند اورکوڑے کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومتی اداروں کو جہاں دستیاب وسائل کا بہترین استعمال کرنا چاہیے، وہاں مستقبل کو پیش نظر رکھتے ہوئے طویل المدتی منصوبہ بندی کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے ہم رسول کریم کی تعلیمات پر عمل کریں تو اس بلا سے بھلائی ممکن ہو سکے گی۔ ہم یورپ میں بسنے والے غیر مسلموں سے سیکھ سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ملکوں میں صفائی کے بہترین ماڈلز کو کیسے عملی جامہ پہنایا۔ ہم اس ضمن میں بہت سے دیگر اہم اقدامات بھی اٹھا سکتے ہیں۔

‎ جیسے کہ شہریوں کو آگاہی دینا کہ وہ کس طرح اپنے علاقے اور شہر کی صفائی میں کردار ادا کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کی مدد کر سکتے ہیں۔عوام میں یہ آگاہی پھیلائی جائے کہ کم سے کم کوڑا پیدا کریں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیمی اداروں اور گھروں تک میں بچوں کو یہ بتایا ہی نہیں جاتا کہ آپ نے کچرے کو باہر سڑک پر، راستے یا میدان میں نہیں پھینکنا۔ بچوں سے کیا گلہ کریں یہاں تو پڑھے لکھے، سمجھدار لوگ موٹروے پر بھی کچرا پھینک دیتے ہیں۔اس لیے آپ کو وہاں بھی بوتلیں اور رپیرز نظر آئیں گے،ہر دکان کے باہر ڈبے، ٹشوییپر اور پلاسٹک کپ پڑے ہوئے ملتے ہیں۔بار بار کام آنے والی چیز استعمال کرناہمیں شاپنک وغیرہ کیلۓ ایسے شاپنک بیگز کا استعمال کرنا چاہے جو کہ آئندہ کیلۓ بھی کام آسکے ہمیں پلاسٹک کے بیگ استعمال کرنے کے بجاۓ کپڑے کے بیگز استعمال کرنے چاہۓ جوکہ ماحول دوست بھی ہیں اور بار بار کام آسکتے ہم اس کے علاوہ کچرے کو الگ الگ کر سکتے ہیں (segregation)یعنی خوراک والی چیزیں الگ، پلاسٹک، گتہ وغیرہ الگ اور لوہا شیشہ وغیرہ الگ،ان دونوں مراحل کو آسان الفاظ میں یوں سمجھیں کہ آپ کے گھر کا جو کوڑا ہوتا ہے اس کو موٹا موٹا تقسیم کیاجائے تو اس کی تین اقسام بنتی ہیں۔

ایک کچن کا کچرا ہے جس میں سبزی، فروٹ، بچا ہوا کھانا، روٹی چاول وغیرہ شامل ہے۔انھیں ہمیں بالکل ہی الگ کرنا چاہیے کیوں کہ یہ آگے جا کر سارے کوڑے کو خراب کر دیتا ہے۔ دوسرا عام قسم کا کوڑا ہے جس میں پلاسٹک، پیکنگ میٹریل، گستہ، کپڑا وغیرہ شامل ہیں۔ تیسری قسم میں لوہا اور شیشہ وغیرہ آتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اس کوڑے کو تین مختلف رنگوں کے کچرا بیگز میں ڈالا جاتا ہے یا ان رنگوں کے کچرا ڈبوں میں پھینکا جاتا ہے۔ اس سے کوڑے کی مقدار کم ہوتی ہے اور اسے ان کی ساخت کی مناسبت سے ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔سبز رنگ قدرتی کچرے (روٹی، سالن، چاول وغیرہ) کے لیے مقرر کیا ہے۔ پیلا رنگ پلاسٹک اور گتہ وغیرہ کے لیے ہے جبکہ لال رنگ لوس، شیشے وغیرہ کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔
ہم کچرا اٹھانے کے نظام میں بہتری لا کر بھی کچرے کے بڑھتے ہوئے مسئلے کو ختم کر سکتے ہیں۔ ہمارا ہاں بڑے بڑے مسائل کے حل کے لیے کہیں بھی کوئی مناسب اقدام ہوتا نظر نہیں آتا۔گھروں میں صفائی کرتے وقت سارا گند دروازے کے باہر جمع کرکے اس میں کچن کی بالٹی اور گھر کا کچرا بھی الٹ دیتے ہیں۔ راہ چلتے ہاتھ میں اٹھائی کوئی بوتل یا ڈبی کھل عام سڑک پر پھنکنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ ہمارے ہاں اس ضمن میں دبئی جیسے اقدامات کی ضرورت کے یعنی کے ہر چند سو میٹر بعد کچرا دان ہوں اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے کڑی سزائیں ہوں تو یقین کیجیے یہ مسئلہ چند مہینوں میں ختم ہو جائے بس شرط یہ ہے کہ عمل ظاہر کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں