کپتان کا تکبر

81

عمران خان کا سیاسی کیرئیر جھوٹ اور فریب سے بھرا رہا ہے۔ وہ جو بھی کہتے تھے اور جو بھی وعدہ کرتے تھے اس کو کبھی بھی پورا نہیں کرتے تھے۔ میں یہ ثابت کرنے کے لئے چند مثالیں دے رہا ہوں جہاں وہ اپنے اقوال اور وعدوں پر قائم رہنے میں ناکام رہے۔ اپنی کابینہ کے دوسرے اجلاس کے دوران عمران خان نے کابینہ کے ارکان کے غیر ملکی دوروں پر پابندی عائد کر دی لیکن وہ خود اپنے ہر غیر ملکی دورے میں نصف درجن وزراء کے ساتھ گئے۔ چین کے دورے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر خزانہ اسد عمر، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، وزیر ریلوے شیخ رشید، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال اور دیگر بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔ عمران خان نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت افغان اور بنگالی شہریوں کو شہریت دے گی تاہم بعد میں نا معلوم وجوہات کی بنا پر فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ نواز شریف کی بطور وزیراعظم نااہلی کے بعد عمران خان نے قوم سے کہا تھا کہ وہ کسی نااہل شخص کو پارٹی کے معاملات نہیں چلانے دیں گے تاہم، جہانگیر ترین نے پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا کیونکہ وہ پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم پر بہت سے آزاد امیدوار لائے تھے۔

درحقیقت عمران خان نے انہیں لائیو سٹاک اور زراعت کی ٹاسک فورس کا کنوینر بھی بنایا تھا۔ حکومت میں آنے سے پہلے عمران خان پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے معاملات میں سیاسی اثر و رسوخ پر تنقید کرتے تھے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ پی سی بی کو غیر سیاسی کر دیں گے تاہم اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے اپنے قریبی دوست احسان مانی کو چیئرمین پی سی بی کے عہدے کے لیے نامزد کیا۔ عمران خان نے وعدہ کیا کہ وہ اپنی کابینہ کو مختصر رکھیں گے اور صرف 20 وزراء تعینات کریں گے تاہم وفاقی کابینہ ان کے کئے گئے وعدے سے تقریباً دوگنی تھی۔ عمران خان نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں وعدہ کیا تھا کہ وہ ہر ہفتے پارلیمانی اجلاس کے دوران ارکان پارلیمنٹ کے سوالات کا جواب دیں گے تاہم 100 دن گزرنے کے باوجود عمران خان نے قومی اسمبلی کے 28 میں سے صرف سات اجلاسں میں شرکت کی۔عمران نے پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا وعدہ کیا جہاں سب برابر ہوں گے اور وی آئی پی کا کوئی تصور نہیں ہوگا۔ تاہم حقیقت اس کے برعکس تھی اور عملی طور پر انہوں نے وی آئی پی کلچر کے خاتمے کے لیے کچھ نہیں کیا۔

عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر کئی رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ وہ حکومت میں آنے کے بعد تقریباً 200 ارب ڈالر کی لوٹی ہوئی رقم پاکستان واپس لائیں گے لیکن بعد میں ان کی کابینہ کے ارکان نے واضح کیا کہ 200 ارب ڈالر کی رقم درست نہیں اور یہ مفروضوں پر مبنی ہے۔ عمران خان اور ان کے قریبی ساتھی اسد عمر پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے پر پچھلی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ پیٹرولیم کی قیمتوں کے تعین کے لیے ایک مناسب طریقہ کار وضع کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی وعدہ کیا کہ وہ پیٹرولیم لیوی میں کمی کریں گے اور بالآخر پیٹرولیم کی قیمتوں میں بھی کمی کریں گے تاہم اقتدار میں آنے کے بعد ان کی حکومت نے پٹرولیم کی قیمتوں میں دو گنا اضافہ کیا۔ عمران نے وعدہ کیا کہ اقتدار میں آنے کے بعد بجلی کی قیمت کم کریں گے تاہم پی ٹی آئی کی حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں 2 روپے فی یونٹ اضافہ کر دیا۔

عمران خان اور اسد عمر نے گیس کی قیمتوں میں اضافے پر پچھلی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور وعدہ کیا کہ وہ قدرتی گیس کی قیمتیں کم کریں گے تاہم عمران خان کی حکومت نے خود گیس کی قیمتوں میں 143 فیصد تک اضافہ کیا جو کہ ماضی قریب میں سب سے زیادہ اضافہ ہے۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے پی ٹی آئی میں انضمام کے وقت عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ پنجاب میں نیا صوبہ بنانے کے لیے پارلیمنٹ میں قرارداد منظور کی جائے گی تاہم حکومت کے پہلے سو دنوں میں پارلیمنٹ میں کوئی قرارداد پیش نہیں کی گئی۔عمران خان نے وعدہ کیا کہ وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور گورنر ہاؤسز کو تعلیمی اداروں میں تبدیل کیا جائے گا تاہم نہ صرف عمران خان خود وزیراعظم ہاؤس منتقل ہوئے بلکہ ان کی پارٹی کے وزرائے اعلیٰ اور گورنرز کو بھی وزیراعلیٰ اور گورنر ہاؤسز میں منتقل کردیا گیا۔عمران خان کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے سی پیک سے متعلق متنازع بیان جاری کیا۔ داؤد نے فنانشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ حکومت CPEC منصوبوں کا جائزہ لینے کا منصوبہ بنا رہی ہے تاہم مشیر نے اس کی وجہ سے پی ٹی آئی حکومت پر ہونے والی تنقید کے بعد اپنے الفاظ سے لاتعلقی اختیار کر لی۔

عمران خان مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کرنے پر نواز شریف پر بھی تنقید کرتے تھے کیونکہ ان کے خیال میں یہ کام متعلقہ محکمے کے سربراہ کو کرنا چاہیے تھا پھر عوام نے انہیں اپنی ہی کہی ہوئ بات کے خلاف جاتے دیکھا جب انہوں نے راولپنڈی-میانوالی ایکسپریس کا افتتاح کیا۔ عمران خان نے وعدہ کیا کہ وہ اپنی پارٹی میں الیکٹیبلز کو کبھی خوش آمدید نہیں کہیں گے کیونکہ وہ حکومتوں کو بلیک میل کرتے ہیں تاہم عمران خان 2018 کے انتخابات کے دوران کثیر تعداد میں الیکٹیبلز حاصل کرنے والوں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے اپنی پارٹی میں الیکٹیبلز کو خوش آمدید کہنے کے اپنے فیصلے کو یہ کہہ کر بھی درست قرار دیا کہ وہ الیکشن لڑنے کا فن جانتے ہیں۔ عمران خان نے وعدہ کیا کہ وہ کسی بھی نیب کے داغدار شخص کو اپنی پارٹی یا کابینہ میں شامل نہیں کریں گے تاہم وزیر دفاع پرویز خٹک، زلفی بخاری سمیت کئی رہنما جو نیب کی تحقیقات کا سامنا کر رہے تھے وہ بھی وفاقی کابینہ کے رکن تھے۔ عمران خان دوہری شہریت والوں کو اہم سرکاری عہدوں پر فائز کرنے پر پچھلی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ لیکن زلفی بخاری عمران خان کی حکومت کی سب سے بڑی مثال تھے جن کی دوہری شہریت ہے۔

عمران خان نے وعدہ کیا کہ ان کی حکومت کے پہلے 100 دنوں میں قوم واضح تبدیلی دیکھے گی تاہم، بعد میں انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے کم از کم چھ ماہ کا وقت دیا جانا چاہیے۔ بعد ازاں پی ٹی آئی کے چند وزراء نے دعویٰ کرنا شروع کر دیا کہ انہوں نے سو دن کی بات ہی نہیں کی۔ عمران خان نے ایک بار ایک ٹی وی ٹاک شو میں دعویٰ کیا تھا کہ میں شیخ رشید کو اپنا چپراسی بھی نہیں لگاؤں گا تاہم شیخ رشید نہ صرف عمران خان کی کابینہ کے رکن تھے بلکہ وہ ان کے اہم مشیروں میں سے ایک تھے۔ عمران خان کی زیرقیادت حکومت کے پہلے کابینہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے ارکان اپنے غیر ملکی دوروں کے لیے خصوصی طیارہ استعمال نہیں کریں گے۔ وزیراعظم اور ان کی کابینہ کمرشل پروازوں کے ذریعے سفر کریں گے لیکن عمران خان نے اپنے تمام غیر ملکی دوروں میں وزیراعظم کے لیے خصوصی طیارے ایئرفورس ون کا استعمال کیا یہاں تک کہ وزیر خارجہ شاہ محمود نے اپنے دورہ افغانستان کے لیے بھی چارٹرڈ طیارہ استعمال کیا۔

عمران خان اپنے سیاسی مخالفین کو اقربا پروری پر تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ وعدہ کیا کہ وہ اہم عہدوں پر اہل افراد کو تعینات کریں گے کیونکہ وہ اقربا پروری کے خلاف ہیں۔تاہم زلفی بخاری، نعیم الحق، عون چوہدری سمیت ان کے تمام قریبی دوستوں کو ان کی حکومت میں اہم ذمہ داریاں دی گئیں۔ عمران خان نے قوم سے وعدہ کیا کہ پولیس میں سیاسی مداخلت برداشت نہیں کریں گے اور پنجاب پولیس میں اصلاحات لائیں گے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ ناصر درانی ( سابق آئی جی پی کے پی) کو پولیس ریفارمز کمیٹی کا سربراہ مقرر کریں گے تاہم ڈی پی او پاکپتن کے واقعے کے بعد درانی نے محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت کے خلاف احتجاجاً کمیٹی کے سربراہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ عمران خان نے عام انتخابات سے قبل قوم سے وعدہ کیا تھا کہ میں کرپٹ لوگوں کو اپنی ٹیم میں نہیں لوں گا تاہم ان کی صوبائی اور وفاقی کابینہ کے کئی اہم ارکان نیب کے مقدمات کا سامنا کر رہے تھے جن میں پرویز خٹک، علیم خان اور زلفی بخاری شامل ہیں۔

عمران خان نے انتخابات سے قبل قوم سے وعدہ کیا تھا کہ میں آئی ایم ایف سے بھیک مانگنے کی بجائے خودکشی کو ترجیح دوں گا تاہم انہوں نے نہ صرف اپنے وزیر خزانہ کو آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج حاصل کرنے کی اجازت دی، بلکہ انہوں نے خود بھی پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے دیگر ممالک سے مالی امداد کے لیے رابطہ کیا۔ فخر درانی نے بھی اپنے مضمون میں خان کے جھوٹ کا بہت جامع اور مفصل موازنہ کیا ہے۔قارئین، پھر آتے ہیں ایک اور نکتے کی طرف۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے کئی برے وقت دیکھے ہیں۔ لیاقت علی خان مارے گئے، ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی، ضیاء الحق کا طیارہ کریش ہوا اور بے نظیر بھٹو کو قتل کر دیا گیا لیکن ان کے سیاسی وارثوں اور پیروکاروں نے کبھی قانون ہاتھ میں نہیں لیا۔ میں آصف علی زرداری کا بڑا ناقد ہوں لیکن ان کے بدترین دشمن بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے ’’پاکستان کھپے‘‘ کا نعرہ لگا کر پاکستان کو بچایا۔دوسری طرف کپتان، ان کی پارٹی کے لیڈروں اور پیروکاروں نے جو کچھ کیا وہ ڈھکا چھپا نہیں۔ انہوں نے ملک کے ان محافظوں پر حملہ کیا جو ہماری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی جانیں اور آرام قربان کرتے ہیں۔

عمران خان کی حکومت کے دوران انکا تکبر عروج پر رہا۔ انہوں نے پولیسنگ اور نیب کیسز کے ذریعے اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے اور ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا۔ ان کے دور میں میڈیا کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اب جب جھوٹ اور تکبر کا یہ بت پاش پاش ہو چکا ہے تو لوگوں کے لیے یہ سمجھنا اور احساس کرنا ضروری ہے ایسے شخص پر کیونکر بھروسہ کیا جاسکتا ہے جسکا ماضی اور حال جھوٹ اور تکبر سے بھرا پڑا ہے ؟ قوم ہرگز ایسے لیڈر کے ساتھ نہیں کھڑی ہے جو صرف اپنے ذاتی سیاسی مفادات کے لیے اور ملک دشمن ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے ملک کے حقیقی محافظوں اور انکی املاک پر حملے کرائے –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں