یونان میں حادثہ اور احتجاج

88

تحریر:نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ
آج صبح سوشل میڈیا اوپن کرتے ہی یونان میں کشتی کو سمندری حادثے کی خبر ہرطرف گردش کر رہی تھی۔ہر کوئی افسوسناک حادثے پر دکھی ہے ۔ اللہ پاک جاں بحق ہونے والے نوجوانوں کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر عطا کرے آمین ! اس کشتی میں سوار اکثریت کا تعلق پاکستان،سیریااورمصر سے بتایا جا رہا ہے۔ اس حادثے کے بعد یونان کے لوگ ہزاروں کی تعداد میں متاثرین کے ساتھ یکجہتی کے لئے احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے اور اس حادثے کا قصور وار انہوں نے گریک کوسٹ گارڈ اور یورپی یونین کو قرار دیا ۔

عظیم قوم کی اعلیٰ اقدار کو سلام ہو۔ ایک وہ جن کے ہاں مہاجرین کوئی کسی ملک سے اور کوئی کسی سے تھا انکا ہم وطن کوئی نہیں تھا۔انسانی حقوق کی علمبرداری کا حق زندہ قومیں ہی نبھاتی ہیں۔ کہاں ہم جیسے تیسری دنیا کے لوگ جنکی سوچ پیٹ سے شروع اور پیٹ پر ختم ہو جاتی ہے۔ جو صرف پیٹ بھرنے کے لئے محض دوسروں کا پیٹ کاٹنے میں لگے ہوئے ہیں۔مجبور ہوکر حالات سے تنگ آکر ہمارے نوجوان بے بسی کی تصویر بن کر قرض لے کر اپنے لئے موت خرید کر یہاں سے ہجرت کر رہے ہیں۔

وہ اس ماحول میں رہنے کے بجائے موت کو ترجیح دے رہیے ہیں،کیا ممکن ہے کہ کسی بھی ملک کے نوجوان اگر اپنے وطن میں خوشحال ہوں تو وہ اس ملک سے ہجرت کے لئے ایسے پرخطر راستوں کو اختیار کریں گے؟
قطعی طور پر ناممکن ہے مگر جس ملک میں سیاسی انجنئیرنگ اور اناپرستی کی جنگ میں معصوم لوگوں کو جیلوں میں ڈالنا،ٹارچر کرنا ماؤں بہنوں ،بیٹیوں کو جنسی ہراساں کرنے کو اپنا ہتھیاربنالیا گیا ہو اس دھرتی ماں سے اپنے بیٹے جب منہ پھیر لیتے ہیں تو نہ ہی وہ بیٹے سکون پاتے ہیں کیونکہ جن کی ماں کو بھیڑیے نوچ رہے ہوں اور بیٹوں کے بارہا التجاکرنے پر کان پر جوں تک نہ رینگے تو وہ ماں اجڑ جاتی ہے۔

بات دور نکل گئی یقین کیجئے اس ملک کے حالات اس قدر گھٹن زدہ ہو چکے ہیں کہ بڑی تعداد ہجرت کر رہی ہے یہاں سے۔ ہمارے لئے واقعی ڈوب مرنے کا مقام ہے کیونکہ یونانی ہمارے نوجوانوں کی اموات پر اپنی حکومت سے باز پرس کر رہے ہیں۔ احتجاج کر رہے ہی لیکن ہماری حکومتیں اپنی موج مستیوں میں ہے۔ انہیں پرواہ نہیں ہے کیونکہ عوام کش پالیسیز سے انہیں عوامی حمایت ملتی نظر نہیں آرہی اسلئے یہ حکومت یا تو چاہتی ہے کہ آپ لوگوں کو جینے کا حق ہے ہی نہیں کیونکہ اگر آپ نے جینا ہے تو انکی مرضی سے جئیں ورنہ یا تو جیل میں جائیں یا خود کشیاں کر لیں۔یہ بھی نہیں تو حکومت اپنے ہاتھوں سے آپکو موت کے گھاٹ اتار دے گی کیونکہ آپ انکے کام کے جو نہیں رہے۔

آج ہمارے تین سو نوجوان روزگار کی تلاش میں جاتے ہوئے سمندر کی نظر ہو گئے اگر ہم میں انسانیت زندہ ہوتی تو ہم بھی آج ان تین سو خاندانوں کے حق میں سڑکوں پر ہوتے مگر ہم سمندر کی نظر ہو جائیں گے لیکن اس حکومت کا قبلہ درست کرنے کے لئے اپنے حق کے لئے آواز نہیں اٹھائیں گے۔ ہمیں چاہئے کہ یونانیوں نے ہمارے لئے آواز اٹھائی۔ پوری دنیا افسوس کا اظہار کر رہی ہے لیکن ہم خود جب تک نہیں اٹھ کھڑے ہوتے اس ظلم اور فسطائیت کے خلاف تاوقت ہم یوں ہی سمندروں،دریاؤں گلی کوچوں ،چوکوں چوراہوں میں مارے جاتے رہیں گے۔

آزاد کشمیر اور پاکستان حکومت ایک سکے کے دو رخ ہیں جو اپنی زمہ داریاں پوری کرنے میں کسی طور سنجیدہ نہیں ہیں۔ یہ نظام تب بدلے گا جب ہم بدلیں گے۔حکومت کی عوام دشمن پالیسیز پر اگر عوام خاموش رہے گے تو پھر اس قوم کا سلطان ہی فقط اسکی سزا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں