تحریر؛جسٹس(ر)سید منظور گیلانی
یونان میں کشتی میں سوار روز گار اور خوشحالی کے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈتے سینکڑوں پاکستان کشتی ڈوبنے سے خوابوں کی تعبیر پائے بغیر سمندر کی بے رحم موجوں کے شکار ہوگئے .جن میں آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے تقریبآ ڈیڑھ سو لوگ بھی شامل تھے- اللہ ایسی آفت کاکسی کو شکار نہ کرے. اللہ مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب کرے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل اور وہ وسیلہ فراہم کرے جس کی تلاش میں ان کے عزیز جاں گنوا بیٹھے – میں اور میرے گھر والے اس صدمے پر بہت دکھی ہیں . ہماری ہمدردیاں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں .
میں اپنے کئی کالموں میں لکھ اور پبلک فنگشنز میں کہہ چکا ہوں کہ حب الوطنی اس زمانے کی سنہری بات تھی جب کسی بادشاہ کی حکومت کے دوران گاؤں میں رہنے والے آدمی کا یہ عقیدہ پختہ کیا گیا تھا کہ اس بادشاہ کے جغرافیائی حدود سے پیار ہی تمہاری زندگی اور عزت کا واحد زریعہ ہے. جس کو حب الوطنی کے جذباتی کلمات سے موسوم کیا جاتا تھا . فی زمانہ جسم و جاں کا رشتہ ہی زندگی نہیں بلکہ باعزت زندہ رہنے کے لئے بے شمار لوازمات کی ضرورت ہے .جس کے لئے وسائل درکار ہیں. وسائل کے لئے مواقع کی ضرورت ہے ، مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے انصاف پر مبنی معاشرہ چاہیے ، جہاں یہ سب کچھ نہ ہو وہاں حب الوطنی کے سنہرے الفاظ ان لوازمات کو پورا نہیں کر سکتے . اس کے لئے بہت کچھ کیا جاتا ہے. چوری ، بد دیانتی، خیانت ، دشمن ملک کا ایجنٹ بننا ایک عام سا ، گوکہ جان لیوا عمل ہے لیکن اس کے راستے میں عقل ، عقیدہ ، اخلاقیات حائل ہوتے ہیں اس لئے یہ بے غیرتی ہر کوئی نہیں کر سکتا .
فی زمانہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے اللہ کی دنیا کو ایک گاؤں بنا دیا ہے اور دنیا کے ہر کونے میں رہنے والا شخص اس گاؤں کا باسی ہے . اس دنیا کے سارے گاؤں محنت کشوں اور ہنر مندوں کے لئے اس کے گھر کے آنگن اور صحن ہیں ، جہاں اس کو روز گار، عزت اور انصاف کے بہتر مواقع میسر ہوں .وہ جائز طریقے سےوہاں جاکر حاصل کر سکتا ہے . جائز طریقے اور ذرائع مہیا کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے کیونکہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے . باعزت قومیں اپنی نسلوں کی ایسے خطوط پر تربیت کرتی ہیں کہ وہ ہر شخص، ملک اور قوم کے لئے نا گزیر ہو جائیں اور جہاں ان کو اچھے مواقع میسر ہوں وہاں آباد ہوجاتے ہیں . اس سے اس کا وطن مولود سے رشتہ نہیں کٹتا بلکہ وہ اس کا بو جھ ہلکا کرنے اور اپنے اور اپنے گھر بار کے لئے بہتر مواقع تلاش کر کے کسی دوسرے ایسے ملک کو اپنی خدمات سپرد کرکے وہاں روز گار ، عزت، تحفظ اور انصاف کے لئے قسمت آزمائی کرتا ہے .
فی زمانہPatriotism کا متبادل بہتر opportunism ہے. اس کے لئے تیاری اور رہنمائی کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے .جب وطن مولود کے اندر ہنر مند ی کی تعلیم کا فقدان ہو، روز گار میسر نہ ہو ، سرکار کفالت نہ کرتی ہو ، زندگی ، جان ، مال کا تحفظ اور انصاف میسر نہ ہو ، وہاں دینی تعلیمات کے مطابق بھی ہجرت واجب ہوجاتی ہے اور فی زمانہ امیگریشن کے قوانین نے ہجرت کو آسان بنا دیا ہے لیکن اس کے لئے کار آمد ورکر کی ضرورت ہوتی ہے اور کار آمد بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے اگر ریاست یہ ذمہ داری ادا نہ کر سکتی ہو اور ایسے لوگوں کی پرورش بھی نہ کر سکتی ہو تو ایسے لوگوں کے نصیب یونانی سمندروں کی موجوں سے ہی بندھ جاتے ہیں . ہمارے ہم وطن ریاست کی اسی مجرمانہ غفلت کے شکار ہوئے ہیں ، جس کا ازالہ کرنا اس ریاست کی زمہ داری ہے .