والد کا سایہ رحمت ربی ہے

76

زندگی سے اگر رشتے نکل جائیں تو ہم کس قدر نامکمل اور ادھورے ہو جائیں اسی طرح ان رشتوں سے جڑے لفظ زندگی سے نکل جائیں تو زندگی کتنی بدمزہ کھوکھلی اور سنسان سی ہو جائے۔ کیونکہ لفظوں کا ذائقہ بھی ہوتا ہے اور احساس بھی۔ کچھ لفظ میٹھے ہوتے ہیں۔ کچھ کڑوے اور کچھ پُرتاثیر … کچھ الفاظ ایسے بھی ہوتے ہیں جو آپ کو اپنے حصار میں لے لیتے ہیں۔ ایسے ہی پرتاثیر لفظوں میں ایک لفظ ہے ’’ماں’’ جسے سنتے ہی ہم محبت کے حصار میں بندھ جاتے ہیں… اور ایک لفظ ہے ’’باپ‘‘ اعتبار، اعتماد اور تحفظ کے حصار میں لے لینے والا جاندار لفظ۔ ابا جان، والد صاحب ،بابا جانی، ابو جان، کیسے خوبصورت الفاظ ہیں کہ خودبخود ہماری آنکھوں کے سامنے ایک تصویر سی بن جاتی ہے۔۔ باپ کی رہنمائی، شفقت اور محبت کےبغیر ہماری ذات تو ذرۂ بے نشان کی مانند ہوتی ہے۔ باپ کا رشتہ عظیم نعمت خداوندی ہے۔ زندگی کے تپتے صحرا اور نفسانفسی کے دور میں ماں کے بعد باپ ہی وہ ہستی ہے جو اولاد کی معمولی سی تکلیف پر پریشان اور بے چین ہو جاتی ہے۔ بظاہر رعب اور دبدبے والی اس ہستی کے پیچھے ایک شفیق اور مہربان چہرہ ہوتا ہے جسے ماں کی طرح اپنے جذبات کا اظہار کرنا نہیں آتا۔

جو زمانے کے سرد و گرم برداشت کرتے ہوئے مسلسل ایک مشین کی طرح کام کئے جاتا ہے تاکہ اس کے جگر گوشوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ انکے چہروں پرہمیشہ مسکراہٹ رہے۔ انہیں کسی چیز کی کمی یا حسرت نہ رہے۔ شاید اپنے آپ کو بہت مضبوط ثابت کرنے کے لئے اپنے اوپر ایک رعب اور سختی کا خول چڑھائے رہتا ہے۔ جبکہ اپنے اندر پیار، محبت، ایثار، شفقت اور تحفظ چھپائے رکھتا ہے۔ ساری زندگی مسلسل کام اور صرف کام مجھے تھکنے نہیں دیتا ہے یہ ضرورت کا پہاڑمیرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتےیہی وہ عظیم باپ ہے جو اولاد کے سکھ، خوش حالی، تعلیم، صحت اور روشن مستقبل کی خاطر سخت محنت کرتے زندگی گزار دیتا ہے۔ صبح سے شام تک رزق کی خاطر ہزار صعوبتیں برداشت کرنے کے باوجود بچوں کو دیکھتے ہی اپنی تھکن بھول کر ان کی ناز برداریاں کرنا والد ہی کا خاصہ ہے۔ دنیا کا ہر باپ اپنی اولاد کے لئے ایسے ہی جیون ہے خود اپنی ذات سے غافل ہوکر اپنی ہر ضرورت بھول کر اولاد کی ہر خواہش اور فرمائش پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اس کے اختیار میں ہو تو کسی بچے کی آنکھ میں ہلکی سی نمی بھی نہ آنے دے۔ ان کی زندگی میں کوئی تشنگی نہ رہنے دے اس کا بس چلے تو بچوں کی زندگی میں آنے والے غم مشکلات اور محرومیوں کو سمیٹ کر سمندر میں بہادے۔والد ایک نعمت، ایک مہربانی، اور ایک لازوال تحفہ ہے۔ وہ شخصیت ہیں جو بلاشبہ ایک گھر کی بنیاد ہوتے ہیں۔ والدوں کے بغیر کوئی خاندان مکمل نہیں ہوتا۔ وہ حقیقت میں خدا کی طرف سے ہمیں دی گئی ایک بہت بڑی نعمت ہیں جو ہمیں زندگی میں سہارا دیتی ہیں، ہمیں حمایت دیتی ہیں، اور ہمیں پیار اور محبت سے لبریز کرتی ہیں۔والدین کی محبت اور دیانت ہر ایک بچے کے دل کو چھوتی ہیں۔ وہ ان کی محنت، قربانیوں، اور دیانت کا نمونہ ہوتے ہیں جو ایک نیک بچے کے دل کو چھوتا ہے اور اسے ایک بہترین انسان بنانے کی سمجھ دیتا ہے۔

جنت کی تحفے میں یہ ہمارے لئے بے حد قیمت ہیں کیونکہ والدیں ہماری تربیت کے لئے بے شمار دلوں میں سے ایک ہیں۔ ان کی دل کی محبت اور دیانت ہمیشہ ہمارے ساتھ ہوتی ہیں، ہمیں سمجھتی ہیں، اور ہمیشہ ہمیں سمجھاتی ہیں۔
دوستو کبھی سوچا کہ وہ کون ہے جو ہمیں بچپن میں ہوا میں اچھالتا ہے تو ہم خوف سے رونے کے بجائے قلقاریاں مارتے ہیں کیونکہ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ یہ توانا بازو ہمیں سنبھال لیں گے۔ گرنے نہیں دیں گے۔ یقیناً یہ تحفظ میں جکڑنے والے بازو ہمارے والد کے ہوتے ہیں یاد ہے جب پہلی بار ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اب … بو یا با…با بولا تو کیسے ان کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا تھا وہ ابو جان ہی تھے جنہوں نے زندگی کے پہلے اٹھتے قدموں کو اپنے مضبوط پیروں پر رکھ کر ہمارے ننھے ننھے ہاتھ تھام کر یوں چلنا سکھایا کہ زندگی میں اعتماد سے چلنے کا حوصلہ مل گیا۔

والدین کی محنت، قربانیوں، اور محبت کو کوئی موازنہ نہیں کر سکتا۔ وہ دن رات محنت کرتے ہیں تاکہ ہمیں خوش رہنے کیلئے ہر چیز فراہم کر سکیں۔ ان کی محنت اور قربانیاں بے شمار ہیں۔ وہ اپنی مشقت بھری زندگی کے بعد بھی ہمیشہ مستقبل کیلئے خوابوں کو سنبھالنے کے لئے کام کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے خود کی خوشیوں اور خواہشات کو نظرانداز کرکے ہمیشہ ہماری خوشی کو پہلے رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہماری خوشی ہماری خواہشات کے آگے آتی ہے اور اسلامی طریقے سے ہمیشہ ہمارے خوشیوں کو تسلیم کرتے ہیں۔والد محنت کرتے ہیں، لیکن ان کی محنت محض روزی کمانے کے لئے نہیں ہوتی۔ وہ ہمیشہ محنت کرتے ہیں تاکہ ہماری طرف سے کچھ کمی نہ رہ جائے۔ وہ کششیں کھینچتے ہیں، کہانیاں سناتے ہیں، اور ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ محنت کی قیمت کیا ہوتی ہے۔ ان کی محنت اور قربانیوں کے بغیر ہم آج کی حالت میں نہیں ہو سکتے۔

باپ ہی وہ عظیم ہستی ہے جو ماں کے بعد اولاد کی معمولی سی تکلیف پر پریشان اور مضطرب ہو جاتا ہے۔ اولاد کے لیے ماں اور باپ خالق کائنات کا ایک ایسا معجزہ ، نعمت اورعطا ہے جس کا کوئی ثانی نہیں ۔ زندگی کا حسین ترین احساس، ایسا حسین اور خوب صورت احساس جو ہر حال میں اولاد کے لئے ڈھال ہے ۔ جیسے بنجر زمین کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی طرح اولاد کو زندگی کے ہر موڑ پر والدین کی ضرورت ہوتی ہے۔
مجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خود بھی وہ جلتا رہا
میں نے دیکھا اک فرشتہ باپ کی پرچھائیں میں
یہ کڑکتی دھوپ ہے زندگی وہ شجر سایہ دار ہے
میری روح و جاں کا قرار ہے میری خواہشوں کا وقار ہے

ہر بچے کے لیے اس کے والد بہترین نمونہ ہوتے ہیں۔ میرے والد محترم میرے لئے بھی ایک رول ماڈل ہیں کیونکہ وہ ایک سادگی پسند انسان ہیں. وہ مہنگی چیزیں پسند نہیں کرتے اور ایک سادہ، پرامن زندگی گزارتے ہیں۔ میرے والد اس لئے بھی میرے لئے رہنما ہیں کیونکہ وہ وقتاً فوقتاً مجھے اچھی اور بری چیزوں سے خبر دار کرتے رہتے ہیں۔ میرے والد پیشہ سے ایک کامیاب استاد ر ہے ہیں اور نظم و ضبط کے انتہائی پابند ہے اور ہمیں بھی ہمیشہ ڈسپلن میں رہنا سکھاتے ہیں۔ صبح سے رات تک ان کا پورا کام کاج نظم وضبط کے ساتھ انجام پاتا ہے سے انھیں کاموں میں سستی و کاہلی نا پسند ہے۔

باپ کی بات غور سے سنو! تاکہ دوسروں سے نہ سننی پڑے۔باپ کااحترام کرو! تاکہ تمہاری اولاد تمہارا احترام کرے ۔باپ کی سختی برداشت کرو! تاکہ دنوں جہانوں میں عزت ملے ۔باپ کے سامنے اونچا نہ بولو! ورنہ تم کو اللّٰلہ نیچا دکھا دے گا۔باپ کے سامنے نظریں جھکا کر رکھو! تاکہ تم کو اللّٰلہ دنیا میں بلند کرے۔باپ کے آنسو تمہارے دکھ سے نہ گریں ،ورنہ اللّٰلہ تم کو جنت سے گرا دے گا۔باپ ایک کتاب ہے جس پر تجربات تحریر ہوتے ہیں۔ باپ ایک مقدس محافظ ہے جو سارے خاندان کی نگرانی کرتا ہے ۔باپ ایک ذمہ دار ڈرائیور ہے جو گھر کی گاڑی کو اپنے خون پسینے سے چلاتاہے۔باپ گرمی میں جل کر بچوں کو پالتا ہے ۔باپ سردی میں جم کر بچوں کو جوان کرتا ہے۔باپ کی کمائی بچے کھاتے ہیں ۔باپ کما کر مر جاتاہے بچے اس کے مال پر عیاشی کرتے ہیں ۔باپ خود بھوکا رہ کر بچوں کو کھلاتا ہے۔ باپ دس بچوں کو پال لیتا ہے ،دس بچے باپ کو نہیں سنبھال سکتے۔باپ راضی تو جنت حاصل باپ ناراض تو دوزخ جال۔ باپ کی دعا دونوں جہانوں میں کمال ،باپ ناراض تو دونوں جہانوں میں زوال ۔باپ سر کی چھتری ہے اور ماں ٹھنڈی چھاں ہے۔باپ اور ماں کی ہاں میں جنت ہے ،باپ اور ماں کی نہ میں دوزخ ہے ۔
والد کا وجود بے پناہ عزیز اور ضروری ہوتا ہے۔

والد کا وجود بے پناہ عزیز اور ضروری ہوتا ہے۔ والد دعاؤں کا خزانہ ہوتا ہے۔ والد کی دعائیں ہمیں ہمیشہ لیتے رہنا چاہیے کیونکہ ان کی دعائیں خاموش سمندر کی طرح ہوتی ہے جس کی لہروں میں شدت پنہاں ہوتی ہے ۔ اب بھی وقت ہے جائیے کمائیے اپنی جنت۔ اگر وقت گزر جائے تو واپس نہیں آتا صرف یادیں رہ جاتی ہیں اسی لئے ہمیں وقت کی قدر کرتے ہوئے ان قیمتی لمحات کا فائدہ اٹھانا چاہیے ان کا ادب و احترام کرنا چاہیے، ان کے لئے راحت کا ذریعہ بننا چاہیے، ہمیں چاہیے کہ ماں باپ کو ہمیشہ خوش رکھے تا کہ ان کے دل سے دعائیں نکلیں۔ ماں باپ کی خدمت سے زندگی میں خوشحالی آتی ہے، رزق میں برکت ہوتی ہے، اولاد فرمانبردار ہوتی ہے، دعائیں اور عبادت اللہ رب العزت کی بارگاہ میں قبول ہوتی ہیں۔
اللہ تعالی ہمیں والدین کا فرمانبردار بنائے۔ ان کے مقام و مرتبہ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان کی خدمت گزار بنائے
(آمین یا ذالجلال والاکرام)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں