پاکستانی تاریخ کا کم ترین سطح والا دفاعی بجٹ

85

پاکستان کو بھارت سے شدید خطرات کا سامنا ہے۔ اپنے قیام کے بعد سے ہی پاکستان کو مشرق سے مسلسل خطرات کا سامنا رہا ہے۔ کشمیر دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تنازع کی بڑی وجہ رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر پر تین بڑی جنگیں ہو چکی ہیں۔ 1971 میں پاکستان کے ٹکڑے ہونے کا ذمہ دار بھی بھارت ہے جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش بنا۔ 1999 میں کارگل کی جنگ اور فروری 2019 میں بھارت کی طرف سے غلط مہم جوئی نے پاکستان کو بھارتی خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط فوج رکھنے پر مجبور کیا۔ افغانستان ماضی میں بھی دہشت گردوں کی میزبانی اور سہولت کاری کرتا رہا ہے جو پاکستان کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے رہے ہیں۔ ایک مضبوط فوج پاکستان کی محنت سے حاصل کی گئی آزادی اور خودمختاری کے تحفظ میں مدد کرتی ہے۔ مضبوط فوج نہ ہوتی تو پاکستان کبھی ایک آزاد ریاست نہ ہوتا۔ مزید یہ کہ 2001 میں امریکہ کی طرف سے شروع کی گئی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعد سے پاکستان کو دہشت گردی کے خطرے کا سامنا ہے۔ دہشت گردی کی لعنت سے نمٹنے کے لیے پاکستانی فوج کو قبائلی علاقوں اور سوات میں بڑے فوجی آپریشن شروع کرنے پڑے۔ اپنے قلیل وسائل کے باوجود پاک فوج نے دہشت گردی کو شکست دی۔ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اور پاکستان کو اپنے شہریوں اور خودمختاری کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک مضبوط فوج کی ضرورت ہے۔ عصر حاضر میں ہونے والی دہشت گردی کی نئی لہر کو آہنی ہاتھوں سے کچلنے کے لیے بھی ہمیں ایک مضبوط فوج کی ضرورت ہے۔

مزید برآں، پاکستان کی فوج قدرتی آفات کے وقت ہمیشہ آگے رہی ہے۔2005 کے زلزلے کے دوران پاک فوج کی جانب سے بڑی امدادی کارروائیاں کی گئیں۔ اسی طرح پاک فوج نے 2010 اور 2022 کے سیلاب کے دوران لوگوں کو آفت زدہ علاقوں سے نکالنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ قومی ہنگامی حالات میں فوج نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ درحقیقت، پاک فوج نے ہمیشہ انسانی اور قدرتی دونوں بحرانوں میں قوم کی حفاظت کی ہے۔ یہ بہت سی دوسری وجوہات میں سے چند وجوہات ہیں جو پاکستان کے لیے ایک اچھی طرح سے لیس اور پیشہ ور فوج کی ضرورت کو کئی گنا بڑھا دیتی ہیں۔

ہمارے دشمن کہتے ہیں کہ گزشتہ برسوں میں پاکستان کے دفاعی اخراجات میں ہمیشہ اضافہ ہوتا رہا ہے۔ پھر یہ عناصر کہتے ہیں کہ اگرچہ پاکستان کی کمزور معیشت اسے سہارا دینے سے قاصر رہی ہے، لیکن پاکستان میں فوجی اخراجات ترقیاتی اخراجات کی قیمت پر ہوتے رہے ہیں۔ جبکہ، جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے، پاکستان کے لیے معقول دفاعی اخراجات کی بڑی وجوہات میں بھارت کی طرف سے سیکیورٹی کو درپیش خطرات، افغانستان سے خطرے کا عنصر، قدرتی آفات سے نمٹنے اور گھریلو عوامل جیسے سماجی تشدد، دہشت گردی اور فرقہ واریت وغیرہ شامل ہیں۔ ریاست مخالف عناصر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فوج کو فیصلہ سازی کے عمل پر بہت زیادہ کنٹرول حاصل ہے اور اس طرح دفاعی بجٹ کو سماجی شعبے پر ترجیح دی گئی ہے۔ ان عناصر کے مطابق یہ پاکستان میں سماجی شعبے کی پسماندگی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے غیر ترقیاتی بجٹ نے ترقیاتی بجٹ میں بھی بڑی کٹوتی کی ہے اور اس طرح پاکستان کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ابتدائی طور پر گرتے ہوئے ترقیاتی بجٹ کو قرضوں کے ذریعے خرچ کیا گیا۔نتیجتاً قرضوں کی ادائیگی اور قرض کی سروسنگ نے غیر ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ قرضے لینے سے غیر ترقیاتی بجٹ کو بھی مالی امداد ملتی ہے۔ اس وقت پاکستان ایک ایسی پوزیشن میں ہے جہاں پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے نئے قرضے حاصل کیے جا رہے ہیں۔ ان چند عناصر کا دعویٰ ہے کہ دفاعی اخراجات نے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

ہمارے دشمنوں کی پروپیگنڈا مشینیں کہتی ہیں کہ قرضوں کا بھاری بوجھ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ترقی کی طلبگار قوم پاکستان کی معیشت کو تنزلی کی طرف لے کر جا رہی ہے، لیکن اس کی توجہ مسلسل بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات پر مرکوز ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ سماجی اور اقتصادی سلامتی کے مقابلے میں علاقائی سلامتی کو ترجیح دی ہے اور انکے مطابق ایسا کرنے میں پاکستان اس دلیل کا استعمال کرتا ہے کہ یہ فوجی طاقت اور استحکام ہے جو ملک کی مجموعی سلامتی کو یقینی بنا سکتا ہے۔

قارئین، یہ تو تھا ہمارے دشمنوں اور ریاست مخالف عناصر کا بے بنیاد اور جھوٹا پروپیگنڈہ۔ اب آتے ہیں اصل تصویر کی طرف۔ مجھے مصدقہ ذرائع اور کچھ میڈیا رپورٹس سے مستند تفصیلات اور دلچسپ اعدادوشمار ملے ہیں۔ بجٹ دستاویز میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال کے 1591 ارب روپے کے دفاعی اخراجات کے مقابلے میں 2023-2024 کے لئے دفاعی بجٹ کا تخمینہ 1804 ارب روپے ہوگا ۔مبصرین کا خیال ہے کہ گزشتہ سال کی ریکارڈ مہنگائی اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کے پیش نظر 15.7 فیصد اضافہ جائز ہے۔ بجٹ دستاویز 2023-24 کے مطابق 1804 ارب روپے میں سے ملازمین سے متعلق اخراجات کے لیے 705 ارب روپے، آپریٹنگ اخراجات کے لیے 442 ارب روپے، اسلحہ و گولہ بارود کی مقامی خریداری اور درآمد کے لیے 461 ارب روپے اور سول ورکس کے لیے 195 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تینوں سروسز یعنی فوج، بحریہ اور فضائیہ کو بجٹ میں یکساں اضافہ دیا گیا، حالانکہ فوج اپنے حجم اور کردار کے لحاظ سے بڑا حصہ لیتی ہے۔

پاکستان کے دفاعی اخراجات اب اس کی جی ڈی پی کا 1.7 فیصد ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ 2022-23 میں دفاعی اخراجات ملک کے جی ڈی پی کا تقریباً 2 فیصد تھے، جس کا حجم معیشت کی بحالی کی وجہ سے بڑھ گیا ہے۔

پاکستان اوسطاً 13,400 ڈالر فی فوجی خرچ کرتا ہے، بھارت 42,000 ڈالر، سعودی عرب 371,000 ڈالر، ایران 23,000 ڈالر جبکہ امریکہ 392,000 ڈالر فی فوجی سالانہ مختص کرتا ہے۔ پاکستان دیگر علاقائی ریاستوں کے مقابلے میں دفاع پر کم خرچ کرتا ہے۔پاکستان کے سخت ترین حریف بھارت نے اپنے دفاع پر 72.6 بلین ڈالر خرچ کر دیئے۔ اسی طرح سعودی عرب اپنے دفاع پر 55 ارب ڈالر خرچ کرتا ہے۔ چین 293 ڈالر اور ایران 24 بلین ڈالر خرچ کرتا ہے۔ ان تمام ممالک کے مقابلے میں پاکستان اپنے دفاع پر صرف 11 ارب ڈالر خرچ کرتا ہے۔

ہمارے دشمنوں اور ریاست دشمن عناصر کی پروپیگنڈہ مشینوں کو ایک بار پھر سے جواب ہے کہ پاکستان کا دفاعی بجٹ جی ڈی پی اور کل قومی بجٹ کے فیصد کے حساب سے دہائیوں کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔ نئے مالی سال 2023-24 کے لیے دفاعی بجٹ 70 کی دہائی میں 6.5 فیصد سے کم ہو کر جی ڈی پی کے 1.7 فیصد پر آ گیا ہے۔ پاکستان کے دفاعی اخراجات عالمی اوسط شرح سے 22 فیصد کم ہیں۔ اس کے مقابلے میں دشمن ملک بھارت نے اپنے دفاع کے لیے سالانہ 72 ارب ڈالر مختص کیے ہیں۔ پاکستان نے نئے مالی سال میں 6.3 بلین ڈالر مختص کیے ہیں جو کہ جی ڈی پی کا 1.7 فیصد ہے۔ اگر ہم گزشتہ 6 سالوں کے دفاعی اخراجات پر نظر ڈالیں تو پاکستان کا دفاعی بجٹ 10.2 بلین ڈالر سے کم ہو کر ڈالر کے لحاظ سے 6.3 بلین ڈالر رہ گیا ہے جبکہ انہی 6 سالوں میں بھارت نے 35 فیصد اضافہ کیا ہے۔

یہ حقائق اور اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان اپنی فوج پر بہت کم خرچ کرتا ہے۔ تاہم، پاکستان اور دیگر ممالک میں فرق یہ ہے کہ ان کی معیشتوں کا حجم پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔ دفاعی اخراجات ہمیشہ سے بحث کا موضوع رہے ہیں کچھ لوگ فوج کے بجٹ کے بارے میں زیادہ شفافیت اور کھلی بحث کے خواہاں ہیں۔حالیہ برسوں میں حکومت دفاعی بجٹ کے بارے میں کھل کر تفصیلات فراہم کرتی ہے۔ تاہم، معاملے کی حساسیت کی وجہ سے اس موضوع پر پارلیمنٹ کے اندر کبھی کھلی بحث نہیں ہوئی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے بیرونی اور داخلی سلامتی کے چیلنجوں کے پیش نظر دفاعی بجٹ میں اضافہ جائز ہے۔ پڑوسی ملک افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کے باوجود، پاکستان دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے مغربی سرحدوں کے ساتھ ساتھ سابقہ قبائلی علاقوں میں اب بھی ہزاروں فوجی تعینات کرتا ہے۔ اسی طرح پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اب بھی برقرار ہے، حالانکہ سیز فائر کی بحالی کی وجہ سے قدرے مہلت ملی ہوئ ہے۔

قارئین، پاکستان کے دفاعی بجٹ میں خاطر خواہ کمی تشویشناک ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کی مسلح افواج محدود وسائل کے ساتھ اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔ بھاری دفاعی بجٹ کے بارے میں تمام پروپیگنڈا اور قیاس آرائیاں سراسر غلط اور بے بنیاد ہیں۔ پوری قوم کو یہ کہتے ہوئے فخر محسوس کرتی ہے کہ پاکستانی فوج تمام اندرونی اور بیرونی خطرات سے بیک وقت نبرد آزما ہے۔ بلاشبہ ہماری مسلح افواج کم ترین اخراجات میں بہترین اور پیشہ ورانہ دفاعی خدمات سرانجام دے رہی ہیں-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں