دوسری اردو صحافت کانفرنس

75

تحریر:ڈاکٹر رقیہ عباسی
ادارہ فروغِ قومی زبان اسلام آباد کے زیر اہتمام دوسری ایک روزہ “بین الاقوامی اُردو صحافت کانفرنس” اُردو صحافت کے پچھتر سال کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ وزیراعظم پاکستان کے مشیر انجینئر امیر مقام نے کانفرنس کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انھوں نے تین روزہ کتاب میلے ،قومی لسانی پراسیسنگ لیبارٹری کے تیار کردہ تین سافٹ ویئرز خود کار اردو ترجمہ مشین (ٹرانسلیشن مشین )،بصری حروف شناسی (او سی آر) اور تکلم شناسی کے الفاورژن کا بھی افتتاح کیا۔ کانفرنس تین سیشن پر مشتمل تھی۔ افتتاحی تقریب میں وفاقی سیکریٹری فارینہ مظہر، افتخار عارف، مجیب الرحمن شامی، حفیظ اللہ نیازی،اشفاق حسین(کینیڈا) اورادارے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راشد حمید نے بھی اظہارِ خیال کیا جبکہ نظامت ڈاکٹر فہمیدہ تبسم نے کی۔دوسری نشست کی صدارت سینئر صحافی محمد نواز رضا نے کی۔ جبکہ مہمانانِ گرامی میں حافظ طاہر خلیل، تزئین اختر اور رباب عائشہ تھے، نظامت رباب تبسم نے کی۔ جبکہ تیسرے اور اختتامی سیشن کی صدارت سینئر صحافی حنیف خالد نے کی ۔مہمانانِ خصوصی ،ڈاکٹر فاروق عادل، پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ، رخسانہ صولت، عزیز علوی، نمود مسلم، بیناگوئندی (امریکا) ، اظہر سلیم مجوکہ، شفیق مراد(جرمنی) ،شعیب مرزا اور مظہر شہزاد شامل تھے،نظامت ڈاکٹر ناہید قمر نے کی۔

کانفرنس میرے لیے ذیادہ دلچسپی کا باعث اس لیے بھی تھی کہ یہ میرے اپنے شعبہ کے متعلق تھی۔ اردو سے میرا شروع سے قلبی لگاؤ ہے اسی لیے جب میں پی ایچ ڈی کی جانب بڑھی تو اردو کا انتخاب کیا۔اردو ہماری قومی زبان ہونے کے باوجود ملک کے دیگر شعبوں اور ادروں کی طرح مسائل کا شکار ہے۔ ملک کی اعلی ترین عدالتیں اردو زبان کو سرکاری طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ دے چکی ہیں لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا یا یوں کہیے کہ کرنے نہیں دیا جا رہا، کیونکہ شاہد ملک کے فیصلہ سازوں کے مفادات انگریزی سے وابستہ ہیں۔ خیر ادارہ فروغِ قومی زبان کے زیر اہتمام اردو کے فروغ کیلئے کچھ نہ کچھ سرگرمیاں جاری رہتی ہیں اور اگر میں کہوں کہ ادارہ فروغ قومی زبان کی یہ کانفرنس اپنے مقاصد کے حصول کیلئے بہترین کاوش ہے تو بے جا نہ ہو گا۔

پاکستان میں اردو صحافت کی 75 سال پر محیط ایک بھرپور اور متنوع تاریخ ہے۔ اس نے رائے عامہ کی تشکیل، سماجی بیداری کو فروغ دینے اور ادبی اظہار کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم مہیا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اردو صحافت نے 19ویں صدی کے اوائل میں اس وقت جنم لیا جب اردو برصغیر پاک و ہند میں ابلاغ اور اظہار کی ایک بڑی زبان کے طور پر ابھرنا شروع ہوئی ۔ جام جہاں نما“ 1822 اور “صحیفہِ رام پور” 1855 کے اشاعتی آغاز نے اردو بولنے والی آبادی تک خبروں کی ترسیل، ادبی کاموں کے فروغ اور سماجی اور سیاسی خدمات کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سر سید احمد خان کی ادارت میں چھپنے والے “تہذیب الاخلاق” (1870) نے سماجی اور تعلیمی اصلاحات پر زور دیا ۔اسی دور میں “زمیندار،” “ہمدرد” اور “کامریڈ” جیسے اخبارات نے مسلم قومیت کے تصور کو اجاگر کرنے، مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کے قیام کے مطالبے اور مسلمانوں کے حقوق کی وکالت کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

1947 میں تقسیم کے وقت برصغیر ہند میں مجموعی طور پر 415 اردو اخبارات تھے جن میں روزانہ، ہفتہ وار، پندرہ روزہ اور ماہانہ رسالے بھی شامل تھے۔ تقسیم کے بعد ان میں سے 345 ہندوستان میں رہ گئے جبکہ 70 کے قریب اخبارات کے مالکان ہجرت کر کے پاکستان آگئے ۔پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی اردو زبان کو قومی زبان کا درجہ دے دیا گیا جس کے نتیجے میں ایک متحرک اردو میڈیا نے جنم لیا جو عوام کی امنگوں، جدوجہد اور کامیابیوں کی عکاسی کرنے کے لیے ایک اہم اور متحرک قوت کے طور پر کام کر رہا ہے۔پاکستان میں اردو صحافت کے ابتدائی سال ایک نئے ملک کے قیام اور قومی تشخص کی تشکیل کے چیلنجوں سے عبارت ہیں ۔ 1947 میں تقسیم کے نتیجے میں بہت سے اردو اخبارات اور صحافی ہندوستان سے پاکستان ہجرت کر کے آئے ۔ ابتدائی مشکلات کے باوجود، اردو صحافت نے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قوم کی تعمیر میں ایک لازمی ذریعہ بن گئی۔ اردو کے ممتاز اخبارات جیسے کہ جنگ، نوائے وقت اور ڈان کے قیام نے نوزائیدہ قوم کی امیدوں اور امنگوں کے اظہار کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا۔

پاکستان میں اردو صحافت کئی ایک خصوصیات کی حامل ہے جنہوں نے اس کی شناخت کو تشکیل دیا اور معاشرے میں اس کے کردار کو متعن کیا ۔ ان خصوصیات میں لسانی تنوع، سماجی و سیاسی مشغولیت ، ادبی شراکت داری ، علاقائی تغیرات اور عوام کے ساتھ گہرا تعلق شامل ہے۔ اردو صحافت نے پاکستان کے عوام کے درمیان اتحاد اور مشترکہ مقصد کے احساس کو فروغ دیتے ہوئے مختلف خطوں اور برادریوں کے درمیان ایک پل کا کام کیا ہے۔قیام پاکستان کے بعد، اردو صحافت بدلتے ہوئے سماجی و سیاسی منظرنامے کے مطابق ارتقا کرتی اور جدید دور کے تقاضوں کے سانچوں میں ڈھلتی رہی۔ اس دور میں نئے اخبارات کا اجرا، اردو رسائل کی ترویج اور اردو صحافت کے ذرائع کے طور پر ریڈیو اور ٹیلی ویڑن کی ترقی اہم سنگ سنگ میل ہیں ۔ صحافت سے وابسطہ ممتاز شخصیات نے فیض احمد فیض وغیرہ نے اپنی بصیرت افروز تحریروں اور معاشرتی مسائل کے تنقیدی تجزیے کے ذریعے اردو صحافت میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

اردو صحافت کی ترقی کے لیے اظہار رائے کی آزادی بہت ضروری ہے۔ پاکستان کا آئین اس بنیادی حق کی ضمانت دیتا ہے، اردو صحافت کو ہر دور میں سنسر شپ، صحافیوں کے تحفظ کو لاحق خطرات اور مختلف اداروں کے دباوجیسے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ان چیلنجوں نے اردو صحافت کی آزادی اور معروضیت کو متاثر کیا ہے اور آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت کواجاگر کیا ہے۔پاکستان میں اردو صحافت نے جمہوریت کی ترقی اور بقا کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس نے ایک واچ ڈاگ کے طور پر کام کیا ہے، اقتدار میں رہنے والوں کو جوابدہ ٹھہرایا ہے، بدعنوانیوں کو بے نقاب کیا ہے، اور جمہوری اقدار کے بارے میں عوامی بیداری کو بڑھایا ہے۔ پریس نے متنوع آوازوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے اور باخبر عوامی گفتگو کو فروغ دینے، جمہوری اداروں کی ترقی اور مضبوطی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان میں اردو صحافت کو مختلف چیلنجوں کا سامنا رہا ہے جس نے اس کی ترقی اور پائیداری کو متاثر کیا ہے۔ ان چیلنجوں میں مالی رکاوٹیں، تکنیکی ترقی، قارئین کی گرتی ہوئی تعداد، پولرائزیشن اور سوشل میڈیا کا عروج شامل ہیں۔ ان چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے جدت، موافقت اور اعلیٰ صحافتی معیارات کو برقرار رکھنے کے عزم کی ضرورت ہے۔تکنیکی ترقی نے پاکستان میں اردو صحافت پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ انٹرنیٹ، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا کی آمد نے خبروں کو پھیلانے اور استعمال کرنے کے طریقے کو تبدیل کر دیا ہے۔ گو کہ اردو صحافت وسیع تر سامعین تک پہنچنے، قارئین کے ساتھ مشغول ہونے اور خبروں کی بروقت ترسیل کے لیے ان ذرائع کو استعمال میں لا رہی ہے تاہم اسے غلط معلومات کے پھیلاو کو روکنے اور ڈیجیٹل دور میں اپنے ساکھ کو برقرار رکھنے کی ضرورت کے حوالے سے مختلف قسم کے چیلنجوں کا سامنا ہے جن کا مقابلہ کرنے کے لیے ریگولیٹری نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

اردو صحافت نے سماجی بیداری کو فروغ دینے اور سماجی تبدیلی کی وکالت کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس نے غربت، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، صنفی مساوات اور انسانی حقوق جیسے مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ تحقیقاتی رپورٹنگ، فیچر آرٹیکلز، اور انسانی دلچسپی کی کہانیوں کے ذریعے، اردو صحافت نے عوامی بیداری میں اضافہ کیا، بحث و مباحثے کو جنم دیا، اور رائے عامہ کو متاثر کیا، سماجی ترقی میں اپنا حصہ ڈالا۔صحافتی اخلاقیات اور پیشہ ورانہ مہارت اردو صحافت کے ضروری ستون ہیں۔ اردو صحافت کی ساکھ اور اعتبار کو برقرار رکھنے کے لیے درستگی، معروضیت، انصاف پسندی اور جوابدہی جیسے اصولوں کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔ اخلاقی معیارات کی پاسداری، مفادات کے تصادم سے بچنا، اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو یقینی بنانا اردو صحافت کی ترقی اور بقا کے لیے بہت ضروری ہے۔

اردو صحافت نے شاعروں، ادیبوں اور ادبی نقادوں کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرکے اہم ادبی شراکت داری کا فریضہ انجام دیا ہے۔ بہت سے اردو اخبارات اور رسائل نے شاعری، ادبی جائزوں اور ادبی مباحث کے لیے حصے مختص کیے ہیں۔ اردو صحافیوں نے فعال طور پر اردو ادب کی حمایت اور اسے فروغ دیا ہے، اس کے تحفظ، پہچان اور ترقی میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔پاکستان میں اردو صحافت کا مستقبل ؛ چیلنجز اور مواقع دونوں کا حامل ہے۔ تکنیکی ترقی، میڈیا کے استعمال کی بدلتی عادات، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا عروج اردو صحافت کے منظر نامے کو تشکیل دیتا رہے گا۔ ڈیجیٹل تبدیلی کو اپنانا، اخلاقی طریقوں کو یقینی بنانا، سامعین کی مصروفیت کو فروغ دینا، اور ابھرتے ہوئے میڈیا ایکو سسٹم کے مطابق ڈھالنا اردو صحافت کی مستقبل کی کامیابی اور مطابقت کے اہم عوامل ہیں۔

پاکستان میں اردو صحافت نے رائے عامہ کی تشکیل، سماجی بیداری کو فروغ دینے اور ادبی ورثے کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس نے چیلنجز کو نیویگیٹ کیا ہے، خود کو تکنیکی ترقی سے ہم آہنگ کیا ہے اور پاکستانی معاشرے میں ایک متحرک قوت کا کردار ادا کر رہی ہے ۔ اردو صحافت کو میڈیا کے بدلتے ہوئے منظر نامے میں خود کو بھی بدلنا ہو گا ، صحافتی اخلاقیات کو برقرار رکھنا ہو گا اور متنوع سامعین اور ناظرین کے ساتھ مشغول رہنا ہو گا تاکہ وہ ملک کے منظر نامے کے ایک اہم ستون کے طور پر خدمات انجام دینے ، اپنی بنیادی اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے زمانے کے ساتھ ترقی کرتے ہوئے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتی رہے۔ اس کانفرنس میں شرکت اور اظہار خیال میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ میرے لیے یہ پروگرام اس لیے بھی اہم تھاکہ میرے سارے اساتذہ عرصے بعد ایک جگہ اکھٹے ملے۔

اساتذہ سے بھی آپ کا روح کا رشتہ ہوتا کچھ سخت ہوتے لیکن وہ بھی اتنے ہی دل کے قریب ہوتے اور جو دوست ہوتے وہ تو پھر حبیب ہوتے۔ وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد کے اردو ڈیپارٹمنٹ کے اساتذہ سے میرا بھی کچھ ایسا ہی تعلق ہے۔ آج تین اساتذہ موجود تھے اس محفل میں۔ ڈاکٹر ناہید خوبصورت لب و لہجے کی شاعرہ، بے حد قابلیتوں کی حامل، ڈاکٹر فہمیدہ جو چڑیا جیسا دل رکھتی ہیں اور تمام طالبعلموں کے لیے مشعل راہ ہیں اپنے بس میں ہر کسی کے کام آنے والی ہیں۔ڈاکٹر وسیم ہم سب طالبعلموں کے لیے قابل اخترام علمی اور ادبی حلقوں میں جانے پہچانے جاتے ہیں اور اپنے طالبعلموں کے لیے شفیق ہیں۔ ڈاکٹر شیر علی کا تعلق ہماری یونیورسٹی سے نہیں ہے لیکن دور جدید کے ادبی حلقوں کے معروف نثر نگار ہیں۔
اس محفل کی خاص بات یہ تھی کہ پیرانہ سالی والے لوگوں سے لے کر عہد حاضر کے کئی لوگوں نے اس کو رونق بخشی۔
3
کچھ نے صحافت کے حق میں دلائل دیے تو کچھ نے اردو زبان کی ترویج پر بات کی۔ کچھ نے صحافی کے معاشی مسائل کو اجاگر کیا۔ لیکن خوشی کی بات یہ تھی کہ جو لوگ اردو ادب صحافت کوہڈبیتی کے طور پر نھبا چکے ہیں انہوں نے نو آموز اور آئندہ آنے والے لوگوں کی بہترین تربیت کا فریضہ انجام دیا۔ یہ ایک خوبصورت روش ہے جس کی روَایت کا سہرا ادارے کے چیرمین ڈاکٹر راشد حمید اور دوسرے منتظمین جن میں خاص طور پر تجمل شاہ شامل ہیں کے نام جاتا ہے۔ادارے کی پہلے بھی علم و ادب کے لحاظ سے خدمات ہیں ہم سب امید کرتے ہیں کہ یہ روایت برقرار رہے گی۔ کسب کمال کے چیرمین مظہرشہزاد جو واقعی اپنی ذات میں کمال کی صلاحیتں رکھتے ہیں۔

شاعری اور افسانے کا زوق رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی رسالوں کے مدیران اور ممبران سے بات ہوئی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اردو زبان جو ہماری تہزیب اور روایات کی امین ہے اس کی ترویج ممکن بنائی جائے۔ جہاں ہمارے پاس انگریزی کا نعم البدل موجود ہے ہم اہل ادب کم از کم اپنی زبان کی حفاظت کریں اور اس کو قومی زمہ داری سمجھتے ہوئے ہر فورم پر اردو زبان کی ترویج کے لیے کوشاں رہیں۔ یہی وقت کی ضرورت ہےاور بطور اردو کے طالب علم اور اساتذہ کے ہم سب کی زمہ داری بھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں