خامہ صبح،امتیاز عباسی
آزادکشمیر کا سب سے بڑا مسئلہ قیادت کا فقدان ہے۔ یہاں “لیڈرشپ” ہی نہیں۔ لیڈر کیلئے ضروری ہے کہ وہ اُس خطے، متعلقہ ریاست یا قوم کو درپیش مسائل کا بغور جائرہ لیتے ہوئے اپنا الگ نظریہ، بیانیہ یا لائحہ عمل دے۔ لہٰذا قیادت کا فقدان کسی بھی قوم کیلئے بےمعنی نہیں۔ جس ریاست یا قوم کو قیادت ہی میسر نہ ہو اُنھیں منزل کیسے مل سکتی ہے۔ ایک اچھی قیادت منزل کی جانب ریاست کا تعین کرتی ہے۔ لیکن آزادکشمیر میں وہ نظریہ یا لائحہ عمل ہے جو پاکستان سے دیا جاتا ہے۔ کشمیر کا ایک حصہ جو کشمیری شہداء اور غازیوں کی عظیم جدوجہد کے بعد آزاد کروایا گیا۔ اِس حصے کو لوگ “آزادکشمیر” کے نام سے جانتے ہیں۔ آزادکشمیر جو ماضی میں لیڈرشپ کا “مرکز” سمجھا جاتا تھا۔ اِس خطے نے ماضی میں ایسے لوگ پیدا کئے جو صحیح معنوں میں قیادت کے مستحق تھے۔ اِن لوگوں میں کسی بھی تحریک کی قیادت کرنا کے اوصاف بلکل نمایاں تھے۔ اِن ناموں کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ اِن لوگوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کہ پلیٹ فارم سے ہوکر اپنے سیاسی سفر کو جاری رکھا اور لمحہ با لمحہ مسئلہ کشمیر کو بھی عالمی سطح تک اجاگر کروانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی اِس مسئلے کیلئے سنجیدگی سے سوچنے پر زور دیا۔ اِس مقصد میں یہ لوگ کس حد تک کامیاب رہے یہ ایک الگ اور طویل بحث ہے۔
اِن میں سردار عبدالقیوم خان، ممتاز راٹھور، سردار ابراہیم خان، سردارسکندر حیات خان اور چند دیگر لوگ ہیں۔ اِن لوگوں میں سے چند لوگ ایک ہی نظریہ کے ساتھ بھی چلے اور سیاسی سفر میں رائیں جدا بھی کی۔ اِن لوگوں کی سیاسی پالیسوں یا نظریات سے کئی لوگ اختلاف بھی رکھتے رہیں ہیں۔ یہ دنیا اختلاف رائے پہ قائم ہے اور کئی لوگ ان کے سیاسی ہمسفر بھی ضرور رہے ہیں۔ یہ تمام لوگ جو ماضی میں آزادکشمیر کی سیاست میں بڑے نمایاں کردار رہے ہیں۔ یہ لوگ ایک باغ میں “گلاب” کے پھول کی مانند تھے۔ جو باغ سے اُٹھا لیا جائے باغ تو قائم رہتا ہے لیکن باغ کا حسن ماند پڑجاتا ہے۔ بلکل اسی طرح اِن کے جانے کے آزادکشمیر کی سیاست، حکومتوں کا بننا وغیرہ… یہ سب تو چل رہا ہے لیکن اِن کے بغیر آزادکشمیر کی سیاست میں وہ حسن باقی نہیں رہا۔ ہم واقعی یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ شاہد کبھی پورا نہ ہوسکے۔ لیکن اِن کی دی گئی سیاسی تربیت یا پھر اخلاقی تربیت ہمیں کہیں نہ کہیں ضرور نظر آرہی ہے۔
اِس وقت مسئلہ کشمیر جس دو رائے میں موجود ہے وہاں سب سے زیادہ مضبوط اور جاندار آواز اگر کسی کی ہونی چاہئے تو وہ بلخصوص آزادکشمیر کی لیڈرشپ کی ہونی چاہئے۔ کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں موجود کشمیری قیادت اکثر و بشتر نظربند ہی رہتی ہے۔ لیکن اِس وقت آزادکشمیر میں اُس طرز کا کوئی لیڈر نظر نہیں آرہا جو تاؤبٹ سے بھمبر تک لوگوں میں مقبول ہو۔ جیسے لوگ حقیقی معنوں میں اپنا قائد تسلیم کرتے ہوں اور جس پر کشمیری مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اُس کی ایک کال یا سگنل پہ لوگ نکلتے ہوں۔ جس کا کشمیر اور کشمیری قوم کے مفاد کیلئے اپنا ایک الگ نظریہ یا لائحہ عمل ہو۔ اِس وقت آزادکشمیر میں درجن سے زاہد سیاسی جماعتیں فعال ہیں۔ ان میں دو چار تو بڑی نمایاں نظر آرہی ہیں۔ جو آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی میں بھی کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں۔ اِن سیاسی جماعتوں میں قیادت بھی ضرور موجود ہے۔ لیکن اِن قیادتوں میں وہ اوصاف نظر نہیں نظر آرہے جو مسئلہ کشمیر جیسے پیچیدہ مسئلے کو صحیح طریقے سے لےکر چل سکیں یا آزادکشمیر کے انتظامی ڈھانچے میں کوئی مثبت تبدیلی لاسکیں۔ آزادکشمیر کی موجودہ لیڈرشپ میں مجھے صرف شخصی رونمائی ہی نظرآرہی ہے۔
آزادکشمیر میں جہاں قیادت کا فقدان نظرآرہا ہے، وہاں دو شخصیات راجہ فاروق حیدر خان اور سردار عتیق احمد خان دیگر کی نسبت کچھ قدرے بہتر دیکھائی دیتے ہیں۔ اِن دونوں میں ایک دوسرے سے مختلف اوصاف موجود ہیں، ان دونوں کی طرز سیاست بھی بلکل جدا ہے۔ راجہ فاروق حیدر خان جارحانہ انداز سیاست اپنائے ہوئے ہیں۔ اِسی جارحانہ مزاجی کے باعث کئی بار پاکستانی قیادت کے سامنے بھی کھڑے ہوئے ہیں بلکہ اپنی پارٹی قیادت کے سامنے بھی بڑا واضع اور دوٹوک رکھ دیتے ہیں۔ اِن کی نسبت سردار عتیق احمد خان کا انداز سیاست تھوڑا مختلف ہے۔ یہ نرم مزاج اور سوچ سمجھ کر بولتے ہیں۔ یہ کسی بھی موضوع کو زیربحث لانے سے قبل اُس پر مکمل تحقیق اور مشاہدہ ضرور کرتے ہیں۔ اِن دونوں شخصیات کو مکمل “لیڈر” تو نہیں کہا جاسکتا لیکن آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی یا اسمبلی سے باہر پورے آزادکشمیر میں نظر دوڑائی جائے تو اِن سے بہتر بھی کوئی نہیں دیکھائی دے رہا۔
آپ کتابیں اُٹھائیں اور تاریخ کے اوراق کو پلٹیں۔ آپ کو تاریخ صرف یہی سچ دے گی کہ دنیا بھر میں جو قومیں اپنی حالت بدل کر دنیا میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوئی، اُن خوش نصیب قوموں کو اچھے رہنما ملے تھے۔ جنہوں نے اپنی قوم کی کایا پلٹی اور اُنھیں باوقار اور ترقی یافتہ قوموں کی صف میں لاکھڑا کیا۔ لیکن ہمارے ہاں صورتحال اس کے بلکل مختلف ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے قوم خود بھی کسی لیڈر کو سامنے لانے یا کوئی لیڈر پیدا کرنے میں رکاوٹ ہوتی ہے۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں باپ کے بعد اُس کے بیٹے کو آگے لانے کیلئے ہم اُس سے بھی زوردار اور باآواز بلند نعرہ لگاتے ہیں۔ ہم بغیر کسی نظریہ یا سوچ و فکر کے اِس “بیٹے” کو قائد بنادیتے ہیں۔ حالانکہ نعرے لگانے والوں کی صفوں میں اِن باپ بیٹا دونوں سے قابل لوگ موجود ہوتے ہیں۔ لیکن معاشرے کا المیہ ہے کہ معاشرہ اِن لوگوں کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں!
میرے خیال سے یہی نظام(باپ بیٹا) سب سے بڑی وجہ ہے کہ آزادکشمیر میں “قیادت” کا فقدان ہے۔ جو اِس نظام اور طرزعمل کے باعث ختم ہوتا دیکھائی نہیں دے رہا۔ جب تک ہم اپنی سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں لائیں گے۔ اُس وقت تک کوئی مثبت قیادت بھی ہمارے حصے میں نہیں آئے گی۔