9 مئی اور 9/11 کی مماثلت

63

اس لمحے نے دنیا کو ششدر کر دیا جب القاعدہ کے انتہا پسندوں نے امریکیوں کے لیے موت کا سامان کرتے ہوئے دو طیارے ہائی جیک کیے اور نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دونوں ٹاورز سے ٹکرا دیئے ۔ ایک اور طیارہ واشنگٹن ڈی سی میں پینٹاگون کی جانب اڑایا گیا۔ چوتھا طیارہ، جو ممکنہ طور پر وائٹ ہاؤس یا یو ایس کیپیٹل کی طرف جا رہا تھا، مسافروں نے بہادری کے ساتھ موڑ دیا اور پنسلوانیا کے ایک خالی میدان میں گر کر تباہ ہو گیا۔ پہلے طیارے کے نارتھ ٹاور سے ٹکرانے کی اطلاعات کے بعد لاکھوں لوگوں نے دوسرے طیارے کو ساؤتھ ٹاور سے ٹکراتے ہوئے براہ راست ٹیلی ویژن پر دیکھا۔ 11 ستمبر کے حملے جنہیں 9/11 کے حملے بھی کہا جاتا ہے، 2001 میں اسلامی شدت پسند گروپ القاعدہ سے وابستہ 19 عسکریت پسندوں کی طرف سے امریکہ میں اہداف کے خلاف ہوائی جہازوں کی ہائی جیکنگ اور خودکش حملے امریکی سرزمین پر اور امریکی تاریخ میں سب سے تباہی کن دہشت گردانہ حملے تھے۔ نیویارک شہر اور واشنگٹن ڈی سی پر ہونے والے حملوں سے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں اور تباہی ہوئ اور پھر دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے امریکی کوششوں کو منظم کیا گیا-

نیویارک میں تقریباً 2,750 افراد ہلاک ہوئے، پینٹاگون میں 184، اور پنسلوانیا میں 40 افراد ہلاک ہوئے (جب ہائی جیک ہونے والے طیاروں میں سے ایک کو مسافروں کی طرف سے واپس لینے کی کوشش کے بعد تباہی کا سامنا کرنا پڑا)؛ تمام 19 دہشت گرد مارے گئے۔ نیویارک میں پولیس اور فائر ڈپارٹمنٹ خاص طور پر زیادہ متاثر ہوئے: سیکڑوں افراد حملے کے مقام پر پہنچ گئے، اور 400 سے زیادہ پولیس افسران اور فائر فائٹرز ہلاک ہوئے۔جبکہ، 9 مئی 2023 کو سابق پاکستانی وزیر اعظم اور سیاست دان عمران خان کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے اسلام آباد میں ہائی کورٹ کے اندر سے القادر ٹرسٹ کے سلسلے میں بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا، جس کے وہ اپنی بیوی بشریٰ بی بی کے ساتھ شریک مالک ہیں۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد ان کی پارٹی نے مظاہروں کی کال دی۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں پولیس اور پی ٹی آئی کے حامیوں کے درمیان پرتشدد تصادم دیکھنے میں آیا جس کے بعد پارٹی کے حامیوں پر کریک ڈاؤن کیا گیا۔ راولپنڈی میں پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے جی ایچ کیو اور حمزہ کیمپ (اوجھڑی کیمپ) سمیت حساس تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ پی ٹی آئی کارکنوں کے ساتھ تصادم میں دو پولیس اہلکار وارث خان ڈی ایس پی طاہر سکندر اور رتہ امرال کے ایس ایچ او چوہدری ریاض بھی زخمی ہو گئے۔ دونوں شہروں کے درمیان میٹرو بس سروس بھی معطل کردی گئی۔

لاہور میں پی ٹی آئی کے کارکن لبرٹی چوک پر جمع ہوئے اور کنٹونمنٹ کی طرف مارچ کرنے لگے۔ فوجی کور کمانڈر کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے چھاؤنی پہنچنے کے لیے سوشل میڈیا سائٹس پر اعلانات کیے گئے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی فوٹیج میں پی ٹی آئی کے کارکن لاٹھیاں اور پارٹی کے جھنڈے اٹھائے چھاؤنی کے علاقے میں کور کمانڈر کے گھر پہنچے۔مظاہرین اپنے چیئرمین کی گرفتاری کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے زبردستی گھر میں گھس گئے۔ انہیں گھر کی کھڑکیوں کے شیشے، ٹی وی اور فرنیچر کو توڑتے ہوئے اور درختوں اور فرنیچر کو آگ لگاتے بھی دیکھا گیا۔ ایک اور ویڈیو میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کو مال روڈ پر فوجی قافلے پر پتھراؤ اور بوتلیں پھینکتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ کارکنوں نے فورٹریس سٹیڈیم لاہور کے باہر پولیس کی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی اور کینٹ میں کئی سکیورٹی چوکیوں کو بھی نذر آتش کر دیا-

کراچی میں پی ٹی آئی کے سیکڑوں کارکنان پارٹی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے خلاف مختلف علاقوں میں سڑکوں پر نکل آئے جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے علی زیدی، دو ایم پی ایز اور اپوزیشن پارٹی کے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔ شارع فیصل عمران خان کی گرفتاری کے بمشکل ایک گھنٹہ بعد میدان جنگ میں تبدیل ہو گئی جب پی ٹی آئی کراچی چیپٹر کے صدر آفتاب صدیقی نے کارکنوں سے پارٹی ہیڈ کوارٹر یعنی انصاف ہاؤس پہنچنے کی اپیل کی۔ کارکنوں نے شارع فیصل پر مارچ کرتے ہوئے اہم لنک روڈ پر ٹریفک معطل کردی، پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کا سہارا لیا جس پر احتجاج کرنے والوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان تین گھنٹے تک جاری رہنے والے تصادم میں پولیس وین سمیت ایک درجن سے زائد گاڑیوں اور کراچی پولیس اور پاکستان رینجرز کی دو، دو چیک پوسٹوں کو آگ لگا دی گئی۔ کے پی میں پی ٹی آئی کے سربراہ کی گرفتاری کے بارے میں سننے کے بعد حزب اختلاف کی جماعت کے سینکڑوں کارکنان پشاور کے ہشت نگر چوک پہنچ گئے اور گرینڈ ٹرنک روڈ بلاک کر دی۔ مظاہرین نے اس چاغی پہاڑ کی یاد گار کو نذر آتش کر دیا، جہاں پاکستان نے 1998 میں اپنا پہلا ایٹمی تجربہ کیا تھا۔

انہوں نے صوبائی اسمبلی کی عمارت کے مین گیٹ کو بھی توڑ دیا اور احاطے کے اندر پتھر پھینکے۔کوئٹہ میں عمران خان کی گرفتاری کے خلاف مظاہرے کے دوران پی ٹی آئی کے احتجاجی کارکنوں اور پولیس کے درمیان تصادم میں ایک شخص جاں بحق اور ایک درجن سے زائد زخمی جبکہ 6 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ گلگت بلتستان میں مظاہرین نے شاہراہ قراقرم سمیت متعدد سڑکوں کو مختلف مقامات پر بلاک کر دیا جس سے متعدد مسافر پھنس گئے۔ یہ واقعات عمران خان اور ان کی پارٹی قیادت کی اشتعال انگیز تقریروں اور حوصلہ افزائی کا نتیجہ تھے۔ عمران خان کی اشتعال انگیز تقریریں اور پی ٹی آئی کے لیڈران کی وائرل ویڈیوز سب دیکھ چکے ہیں-واضح رہے کہ نائن الیون کے بعد امریکہ نے گوانتاناموبے میں مبینہ مجرموں اور سہولت کاروں کے لیے فوجی عدالتیں قائم کیں (جن تک میڈیا کو رسائی حاصل نہیں تھی اور ان کے فیصلوں کی کسی بھی عدالت میں اپیل نہیں کی جا سکتی تھی) ۔

انہوں نے نہ صرف غیر انسانی مظالم کیے بلکہ افغانستان پر بھی حملہ کیا۔ بلکل اسی طرح، امریکہ اور دیگر ممالک کے پاس 9 مئی کے مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے کے سلسلے میں ریاست پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے خلاف شور مچانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ستمبر 2001 میں صدر بش نے ایک مشترکہ قرارداد پر دستخط کیے جس میں 11سثمبر کے حملے کرنے والوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت دی گئی – اس مشترکہ قرارداد کو بعد میں بش انتظامیہ کی طرف سے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کرنے کے فیصلے کے لیے قانونی دلیل کے طور پر گردانا گیا- جس میں افغانستان پر حملہ کرنا، عدالتی حکم کے بغیر امریکی شہریوں کی گرفتاری اور گوانتاناموبے، کیوبا میں حراستی کیمپ بنانا شامل تھا- پھر امریکی فوج برطانوی حمایت کے ساتھ طالبان افواج کے خلاف بمباری کی مہم شروع کرتی ہے اور باضابطہ طور پر آپریشن اینڈورنگ فریڈم کا آغاز کرتی ہے۔

آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، اور جرمنی مستقبل میں تعاون کا وعدہ کرتے ہیں۔ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں بنیادی طور پر القاعدہ اور طالبان کی افواج پر امریکی فضائی حملے شامل تھے جن کی مدد تقریباً ایک ہزار امریکی اسپیشل فورسز، شمالی اتحاد، اور نسلی پشتون طالبان مخالف قوتوں کی شراکت سے کی جاتی ہے۔ روایتی زمینی افواج کی پہلی کھیپ بارہ دن بعد آتی ہے۔ زیادہ تر زمینی لڑائی طالبان اور اس کے افغان مخالفین کے درمیان ہوتی ہے۔ ایک طرح سے نائن الیون کے بعد امریکہ نے پوری دنیا کو افغان جنگ میں دھکیل دیا۔دوسری طرف پاکستان میں 9 مئی کے واقعات اس لحاظ سے منفرد تھے کہ ان کو ملک کے اندر سے ایک سیاسی جماعت نے منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیا تھا۔ بعض اطلاعات کے مطابق ان واقعات کا مقصد صرف فوجی تنصیبات پر حملہ کرنا نہیں تھا بلکہ ان کا منصوبہ ملک اور فوج کو تقسیم کرنا بھی تھا۔ وہ شرپسند عناصر عوام اور فوج کو ایک دوسرے کے سامنے لانا چاہتے تھے لیکن پاک فوج نے انتہائی دانشمندی سے حالات کو سنبھال لیا اور دشمنان وطن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا-

قارئین، اصولی طور پر دونوں واقعات کے لیے معیار ایک جیسا ہونا چاہیے۔ اگر کوئی دوسرا ملک اپنے قوانین اور ضابطوں کے مطابق دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے آزاد ہے تو پاکستان کو بھی یہی حق حاصل ہے۔ انسانی حقوق کے علمبردار اس وقت تو خاموش تھے جب ڈرون حملوں اور بمباری میں ہزاروں بے گناہ افغانوں کی جانیں گئیں لیکن وہ پاکستان کے معاملے میں اس وقت چیختے اٹھتے ہیں جب ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے واضح ثبوتوں اور شواہد کے ساتھ اپنے دہشت گردوں کو گرفتار کر کے اپنے ملکی قوانین کے تحت سزائیں دلوانا چاہتے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان 9 مئی کے واقعات کے دہشت گردوں کو اپنے قوانین اور ضابطوں کے مطابق سخت سے سخت سزائیں دینے کے لیے کسی بھی طرف سے دباؤ کی پرواہ نہ کرے اور تمام کرداروں اور سہولت کاروں کو قرار واقعی اور منطقی انجام تک پہنچائے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں