لٹمس ٹیسٹ

79

تحریر :سیماب عارف
ہم اکثر اپنے برے رویے کا یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ اُس وقت میرا موڈ خراب تھا.حالات بہت تلخ چل رہے تھے.مجھے غصہ بہت آیا ہوا تھا.وغیرہ وغیرہ.ورنہ میں بہت خوش اخلاق، نرم دل اور کیئرنگ ہوں۔یہ جواز مجھے تو بڑا بودا اور بے کار لگتا ہے.اخلاقیات کی ضرورت ہمیشہ تبھی پڑتی ہے جب حالات سخت ہوں, موڈ خراب ہو یا چیزیں مرضی کے مطابق نہ ہوں.چائے کی ٹیبل پہ پرسکون اور خوشگوار ماحول میں ہر ایک ہنس بول لیتا ہے اور خوش اخلاق بھی لگتا ہے.ہمارا اصل لٹمس ٹیسٹ تو “خراب حالات” ہی ہیں جو ہمارے کردار اور اخلاق کو سرخ یا نیلا رنگ دیتے ہیں.سرخ کو آپ خطرے یعنی بداخلاقی سے تشبیہ دے لیں اور نیلے کو امن یا اچھے اخلاق سے.رنگوں کی یہ پہچان سراسر میری ذاتی تفریق ہے….اس پہ کوئی سائنسی نکتہ لاگو نہ کیا جائے .ہماری شخصیت ایک چیز ہے اور اس میں ظاہری عنصر شامل ہے.کردار دوسری چیز ہے۔ یہ سراسر باطن سے تکمیل پاتا ہے۔اپنے اخلاق کا پیمانہ ہمیشہ گردشِ دوراں کو بنائیے ورنہ آپ کی مرضی کے مطابق ماحول میں تو اس کی ضرورت ہی کم پڑتی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں