تحریر:سیماب عارف
کتنے متضاد لفظ ہیں نا
جیسے دن اور رات
اندھیرا اور روشنی
زمین اور آسمان
وغیرہ وغیرہ
یوں بھی ایک ہی بار تو شادی ہوتی ہے اب بھلا بندہ کم از کم پچاس ہزار کا جوڑا نہ پہنے تو کیسے پتا چلے کہ شادی ہے.روز روز تھوڑی خریدنا ہوتا ہے.ویسے بھی اگر کچھ ہلکا پھلکا لے لیا تو لوگ ترس کھائیں گے کہ بے چارے غریب لوگ خرید نہیں سکتے تھے تو کم از کم کرایے کا بھاری بھرکم لدا پھندا جوڑا لے آتے.ویسے بھی ہم کوئی سلیبرٹی تو ہیں نہیں کہ اپنی امی کے جہیز کا سلم ستارے والا جوڑا بطور برکت اور بطور نشانی نکال کر پہنیں اور پھر “واٶ کیوٹ” کے کیپشن کے ساتھ خبروں کی زینت بنیں.ہماری ایسی حرکت پہ تو ہم پہ ترس ہی کھایا جا سکتا ہے.سو بھئی یہ تو مجبوری ہے ،سادگی نہیں ہوسکتی.
میک اپ
دلہن تبھی دلہن لگتی ہے جب ڈیکو پینٹ کی ایک موٹی تہہ اس کے چہرے اور ہاتھوں پہ لگادی جائے.کم از کم اتنی موٹی تو ہو کہ ناخن سے کھرچنے پر ”بیس“ اور دیگر لوازمات ناخن میں لازماً پھنسیں.ظاہر ہے اتنی موٹی تہہ تو کوئی مشاق اور کاریگر خاتون ہی بچھا سکتی ہے جس کے لیے پارلر جاکر پندرہ بیس ہزار لگانا بھی اشد ضروری ہے.مجبوری ہے بھائی! سادگی کا بھی کوئی موقع ہوتا ہے.شادی کا سادگی سے کیا لینا دینا.زیورات کی بات کریں تو وہ بھی اب سادہ نہیں ہو سکتے.کم از کم سٹار پلس کی سازشی جوڑ توڑ میں مصروف گھر میں تیار ہو کر پھرتی اور کھانا بناتی، زیورات سے لدی آنٹیوں سے تو کچھ زیادہ ہی ہونا چاہیے.
آخر کو شادی ہےروز روز تو نہیں ہوگی.اب یہاں بھی سادگی کریں گے کیا؟ پاگل ہو۔۔۔؟وہ میری دوست بھی یہی کہہ رہی تھی مجھے تو اس کی منطق کافی عجیب لگی کہ سادگی سے مراد بے ڈھنگا اور ویران رہنا نہیں بلکہ شائستہ انداز میں خود کو لے کر چلنا اور غیر ضروری فضول خرچی سے بچنا ہے۔بھلا بتاؤ ! اب ان سب باتوں میں کچھ غیر ضروری ہے؟ یہ سب تو انتہائی ضروری ہیں۔ ویسے بھی یارسادگی تو فیس بک کے اقوال زریں اور موٹیویشنل تقریروں یا تحریروں میں ہی اچھی لگتی ہے.