حویلی میں قتل عام اور پولیس کی نااہلی

59

تحریر : الطاف راٹھور
نہ جا اُس کے تحمل پر کہ بے ڈھب ہے گرفت اس کی
ڈریں اس کی دیر گیری سےکہ سخت ہے انتقام اس کا
یوں تو دنیا میں قتل و غارت کا بازارِ گرم ہے ریاست آزاد جموں کشمیر بلخصوص ضلع حویلی جس کو عُرف عام میں حویلی سب کی سہیلی کہا جاتا تھا، بڑا پُر امن خطہ تصور کیا جاتا تھا کبھی کبھار ہی کسی قتل کی کوئی خبر ہوتی تھی نابلد سیاست نے اس کی بنیاد رکھی۔ چرون کا واقعہ ہو یا پلنگی گگڈار سانحہ ہو یا ہالن شمالی کے قتل کے دو نوجوانوں کا قتل خواجہ یاسر یا پھر 2016 میں آزاد کشمیر اسمبلی میں پہنچنے کے لیے دو بے گناہ خواتین کیا ضیاع ان کیسوں کے انصاف پر مبنی فیصلے نہ ہونے کی وجہ سے اب قتل کو کوئی جرم اور گناہ ہی نہیں سمجھا جانے لگا.�

گذشتہ دنوں میں ممتاز آباد کے گاؤں نکر کے رہائشی نوجوان نبیل مشتاق کا قتل جس کی اب تک ایف آئی آر ہی درج نہیں ہوئی جبکہ تین ماہ گزر گئے. ساتھ پلاں کا ایک شاداب نامی لڑکا جس کا پولیس یہ تک پتہ نہ کر سکی کہ یہ قتل تھا یا حادثہ پلاں چوہدریاں میں ایک 20 سالہ لڑکی کا انتہائی بے دردی اور درندگی سے قتل کر دیا گیا مگر پولیس حسب روایت اس اتنے بڑے سانحہ میں بھی تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے. آزاد کشمیر پولیس عوام کے ٹیکسوں سے لی جانے والی تنخوا کو بھرتی کے وقت دی ہوئی رشوت کی ریکوری سمجھتی ہے اور اب لی جانے والی رشوت کو اپنا حق تصور ہونے لگا۔

17 -18 جولائی کو حاجی سید مقصود حسین شاہ کاظمی جن کا تعلق ممتاز آباد کے گاؤں بانڈی سے تھا .مرتضیٰ عطاری اور عرفان نامی اشخاص کی ایماء پر چند لاکھ کے عوض کرایے کے قاتل راولاکوٹ سٹی قتل گاہ کے بظاہر ایس ایچ او رفاقت عباسی اور تفتیشی الیاس چند نامعلوم پولیس اہلکاروں نے دن دیہاڑے راولاکوٹ شہر سے حاجی پیر سید مقصود حسین شاہ کاظمی کو پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے سٹی قتل گاہ۔( تھانہ) راولاکوٹ لے جا کر انتہائی بے رحم تشدد کرتے ہوئے قتل کر دی.ا اتنا ہی نہیں ان اہلکاورں نے مرے ہوئے اس شخص کی لاش کو بھی معاف نہ کیا .

گلے میں پھندا ڈال کر خود کشی کا ڈرامہ رچایا تاکہ خود بچ سکیں اور سی ایم ایچ راولاکوٹ میں لاش پھینک کر یہ کہتے ہوئے بھاگنے کی کوشش کی یہ لاوارث لاش ہے. جب تک ورثاء اور اس کے علاقے کے عمائدین اور راولاکوٹ کے مقامی مسلمانوں کے تعاون سے لاش برآمد کی جاتی ہے مگر ان قاتلوں کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں ہوتی .جس کے لے ورثاء ممتاز آباد اور راولاکوٹ کے عوام لاش رکھ کر احتجاج پر مجبور ہوتے ہیں اور احتجاج کر کے ایف آئی آر درج کرواتے ہیں. پھر بھی ایس ایچ او کو صرف معطل کیا جاتا ہے .

تفتیشی الیاس اور دیگر قاتلوں کی گرفتاری نہیں ہوئی. ذرائع کے مطابق جن قیدیوں کے سامنے یہ قتل ہوا ان کو کھانے میں زہر دیا گیا. جس سے یہ قیدی زندگی اور موت کی کش مکش میں سی ایم ایچ راولاکوٹ میں زیر علاج رہے . حویلی کے ان قاتلوں کی تفتیش میں سست روی جانب داری اور تاخیری حربوں کو پرنٹ الیکٹرانک سوشل میڈیا کےصحافیوں نے جب معاشرتی آنکھ سے دیکھا اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے آواز بلند کرنی چاہی تو پھر ایف آئی آر اور دھمکیوں تک نوبت جا پہنچی. صحافی برادری ڈرانے سے کب ڈری اس کا فاٸدہ یہ ہوا کہ ضلع حویلی کی عوام بھی اٹھ کھڑی ہو گی .

ان مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے شراب کی خالی بوتلیں سامنے آگئیں. یاد رہے صرف یہ چار ہزار خالی بوتلیں نہیں .یہاں تو یہ ایک ری فیلنگ سٹیشن تھا بلکہ چار لاکھ سے بھی زائد بھری ہوئی شراب کی بوتلیں آتی رہی ہیں. صرف شراب نہیں کروڑوں روپے کی ہیروئن اور چرس بھی آتی تھی آتی ہے اور آتی رہے گی. بے سہارا لوگوں کو سزائیں اور مافیا کے با اثر لوگ بری ہو رہے ہیں کون روکے گا؟ ان جرائم کو؟ ناانصافی کسی بھی معاشرے کی بگاڑ کیلئے پہلی اینٹ ہوتی ہے .ذرائع کے مطابق ضلع حویلی سے چند پولیس اور انتظامیہ کے آفیسران کو تبدیل کیا جارہا ہے بلکل یہ ان مسائل کا حل نہیں ہے .

ان کی جگہ فرشتے یا کوئی ولی اللّٰہ نہیں آئےگا. ان تبادلوں سے ان ملازمین کو تحفظ فراہم ہوتا ہے اگر وہ اپنے عہدے کے مطابق کام نہیں کرتے تو ان کو ڈی گریڈ کیا جائے نئے آنے والے بھی ان کے پاٶں پر پاؤں رکھیں گے .سیاسی لحاظ سے موجود وزیر حکومت فیصل ممتاز راٹھور نے واشگاف الفاظ میں یہ کہا ہوا ہے کہ میں کبھی کسی قاتل ڈکیٹ منشیات فروش اغواء کار کسی بھی جرم میں ملوث کسی مجرم کی حمایت یا مدد نہیں کروں گا اور نہیں کی گو کہ اس کا ان کو سیاسی نقصان بھی پہنچ سکتا ہے .حویلی کی عوام کی نظریں اب آزاد کشمیر کی عدلیہ آئی جی پی پر جمی ہوئی ہیں کہ ان ڈراموں کا ڈراپ سین کیا کرتے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں