صبح آزادی،حماس ذاکر
طلبہ یونین کسی بھی ملک میں سیاسی قیادت کی تیاری میں نرسری کے طور پر کام کرتی ہیں اور ملک و قوم کو اعلیٰ سیاسی قیادت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں جب تک طلبہ یونین بحال رہی طلبہ یونین ملک پاکستان کو پڑھی لکھی اور سیاسی بصیرت رکھنے والی قیادت فراہم کرتی رہیں جنھوں نے پاک سر زمین میں مثبت اور تعمیر رول ادا کیا اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا نہ صرف ملک کے اندر بلکہ ملک کے باہر بھی اچھا کردار ادا کیا جہان طلبہ یونین ملک و قوم کو بہترین قیادت فراہم کرنے کا فراضہ سر انجام دے رہی تھی.
وہی پر طلبہ کے ہر محاذ پر طلبہ حقوق کا تحفظ کرتی تھیں اور طلبہ کا ہر فورم پر آواز بنتی تھی اور طلبہ تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ سیاست میں بھی حصہ لیتے پھر یہی طلبہ معاشرے کے اندر جا کر مثبت اور تعمیر کام کے ذریعے اپنے وجود کا لہوا منواتے اور ملک کو ترقی کی طرف گامزن کرتےلیکن پاکستان کے جنرل ضیاالحق نے ایک سوچی سمجھی پلانگ کے تحت اور اپنی امریت کو قائم رکھنے کے لیے 9فروری1984 طلبہ یونین پر پابندی عائد کر دی پچھلی چار دہائیاں سے طلبہ اپنے بنیادی حق سے محروم رکھا گیا طلبہ یونین یہ طلبہ کا بنیادی حق ہے.
طلبہ کو چار دہائیوں سے طلبہ کے بنیادی حق سے محروم رکھنا نام نہاد جمہوریت کے دل دادوں پر سوالیہ نشان ہے طلبہ یونین کی پابندی کی اصل وجہ پاکستان کو ترقی کے راستے میں رکاوٹ ڈالنا تھی چونکہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا جوکہ مغربی دنیا کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا بلا وہ کیسے گوارا کر سکتے تھے کہ پاکستان کو اچھی قیادت میسر آئے جو پاکستان کو ترقی کے راستے میں ڈال سکے مغرب ہمشیہ ہماری قیادت کو پاکستان کے حلاف استعمال کرتا رہا ہے جس کے نتیجہ میں پاکستان کی موجودہ صورتحال آپ کے سامنے ہے لیکن طلبہ یونین سے یہ حطرہ لاحق ہونے لگا کہ اب پاکستان کی سیاسی قیادت ہمارے ہاتھ میں نہیں رہے گی.
اس لیے انھوں نے پاکستان کے ایک جنرل ضیاء خق کو استعمال کرتے ہوئے یہ کہہ کر پابندی عائد کر دی کہ تعلیمی اداروں میں لڑائیاں اور تعلیمی اداروں میں قتل غارت ہوتی ہے یہ کہہ کر طلبہ یونین پر پابندی عائد کر دی۔ اگر مان بھی لیا جائے کہ لڑائی جھگڑے اور قتل ہوتے ہیں تو کیا طلبہ یونین کی پابندی کے بعد نہیں ہوئے بلکہ اس سے کہیں زیادہ جھگڑے بھی ہوئے اور قتل بھی۔ طلبہ یونین کی پابندی کے بعد تعلیمی اداروں میں مزید ماحول خراب ہوا طلبہ کے حقوق پر ڈاکے ڈالے گئے طلبہ کا استحصال کیا گیا۔اب تعلیمی ادارے کرپٹ لوگوں کا گڑھ بن چکا ہیں طلبہ کی جنسی ہراسمنٹ بلیک میلنگ حال ہی میں اسلامیہ بہاولپور یونیورسٹی میں اسی طرح کا ایک پورا گینگ پکڑا گیا .
جن سے ہزاروں نازیبہ وڈیوز برامد ہوئی یہ صرف اسلامیہ بھاولپور یونیورسٹی کا واقع نہیں تقربنا ہر جامعہ میں طلبہ کو مختلف طریقوں سے بلیک میل کیا جاتا ہے یہ سب طلبہ کے نمائیدہ فورم کی غیر موجودگی جو طلبہ مسائل میں مسلسل اضافہ کر ہو رہا ہے جہاں سے کبھی تعلیمی ادارے پڑھے لکھے افراد معاشرے کو مہیا کرتے جو ملک و قوم کے سودمند ثابت ہوتے تھے اب ان درس گاہو سے نشہ کے عادی طلبہ نکلتے ہیں جو معاشرے کے لیے ناسور بن چکے ہیں۔طلبہ یونین کی بحالی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے تاکہ طلبہ کا مزید استحصال نہ کیا جائے اور طلبہ کسی کے ہاتھوں استعمال نہ ہواور ان تمام حرافات کا حل طلبہ یونین کی بحالی ہے.
معتبرحلقے اس کو سنجیدہ لیتے ہوئے جمہوری ہونے کا ثابوت دیں اگر ملک میں ترقی حوشحالی اور امن چاہتے ہیں تو طلبہ کا بنیادی خق ان کو فراہم کیا جا? طلبہ یونین کی بخالی روشن مستقبل کی ضمانت ہے تاکہ افراد صلاحیت کی بنیاد پر آگے آئیں اور مثبت اقدار کو فروغ دے سکیں ملک و قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکیں۔ ایک عام فرد علم کی بنیاد پہ اور صلاحیت کی بنیاد پہ آگے آ سکے اور سرمایہ داروں جاگیرداروں اور کرپٹ لوگوں کا راستہ روکا جائے جنھوں نے اس وطن عزیز کو تباہی کے دہانے پر لا کے چھوڑ دیا ہے۔