تحریر:جسٹس (ر)سید منظور گیلانی
چار سال بعد ، گیارہ جولائی 2023 کو ہندوستانی سپریم کورٹ نے آئین کی دفعہ 370 میں 5 اگست 2018 کو ترمیم ، 6 اگست کو اس کی جزوی منسوخی اور 31 اگست کو ریا ست کو دو حصوں میں تقسیم کر کے مرکز کے زیر انتظام لینے کے ہندوستانی اقدامات کے خلاف ریاستی باشندوں کی تئیس ایک جیسی درخواستوں پر روزانہ کی بنیاد پر با قاعدہ سماعت شروع کردی -درخواست گذاروں میں ریاست کی بڑی جماعتوں کے سربراہ اور کئ ہندو اور مسلمان نامور شخصیات شامل ہیں . ان کی جانب سے الگ الگ 18 وکلاء پیش ہوئے جن کوسننے کے لئے 60 گھنٹے مختص کئے گئے اور ان کی سینیارٹی کے مطابق دس منٹ سے دس گھنٹے کا ٹائم مقرر کیا گیا ہے۔گیارہ جولائی کی ابتدائی سماعت پر سپریم کورٹ نے ہندوستانی حکومت( یونین) کے اس بیان حلفی کو مسترد کردیا جس کے تحت دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد ریاست میں مبینہ طور پر بے شمار اصلاحات، تعمیر و ترقی اور امن و امان کی بحالی کے اقدامات اٹھائے گئے۔یہ اعتراض بھی کیا گیا کہ یہ اقدامات ملک کی سلامتی اور دفاع سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے عدالت ان پر سماعت نہ کرے – چیف جسٹس نے اپنے حکم میں لکھا کہ عدالت نے متعلقہ احکامات کی آئینی حثییت کا جواز جانچنا ہے ( کار کردگی کا نہیں )۔دفعہ 370 ہندوستانی آئین کے اس حصے کی پہلی دفعہ ہے جس کے تحت ریاست جموں کشمیر کے علاوہ نو دیگر ریاستوں کو بھی خصوصی حثییت دی گئی ہے جو کم و بیش ایسے ہی حقوق ہیں جو دفعہ 35 اے میں درج ہیں۔
دفعہ 370 کے تحت ہندوستانی آئین کی ان دفعات کا اطلاق جو مہاراجہ کے الحاق نامہ سے مطابقت رکھتی ہیں کو ریاستی حکومت کی مشاورت اور دیگر دفعات کو ریاستی حکومت کی منظوری سے ریاست پر نافذ کیا جاسکتا ہے جبکہ ریاست کا اندرونی نظم و نسق چلانے کے لئے ریاست کی آئین ساز اسمبلی نے آئین مرتب کر کے مورخہ 17 نومبر 1956 کو پاس کیا۔ جس کے ساتھ ہی آئین ساز اسمبلی کی تحلیل کی منظوری بھی صادر کی اور آئین 26 جنوری 1957 کو نافذ کیا گیا۔ یہی آئین ساز اسمبلی دفعہ 370 کو جاری رکھنے یا منسوخ کرنے کے بارے میں بھی صدر مملکت کو سفارش کر سکتی تھی جو اس سفارش کی بنیاد پر ہی عمل کرنے کے پابند تھے۔ اس کے بغیر نہیں ۔چونکہ آئین ساز اسمبلی اس سفارش کے بغیر ہی توڑ دی گئ تھی اس لئے یہ دفعہ اب ہندوستانی آئین کا مستقل حصہ بن گئ ہے جو ختم نہیں کی جا سکتی ۔ہندوستانی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی آئینی بنچ کے دو فیصلے 1959 کا پریم ناتھ کول اور 1970 کا سمپت پرکاش اس کی بنیاد ہیں۔اس کے بعد متعدد مقدمات میں یہ فیصلے جات دہرائے جاتے رہے ۔ اس تسلسل میں سپریم کورٹ کا آخری فیصلہ 2018 میں Kumari Vijalakdhami jha کا بی جے پی کی واردات کے دو ماہ پہلے صادر کیا گیا ہے جبکہ ریاستی ہائی کورٹ نے کئ مقدمات میں اس دفعہ کو ہندوستانی آئین کا مستقل اور نا قابل تنسیخ حصہ قرار دیا ہے –
اس حد تک تو یہ معاملہ حتمی ہےلیکن اگست 2019 کے احکامات کا پس منظر اس لحاظ سے مختلف ہے کہ یہ احکامات ہندوستانی آئین کی دفعہ 367 میں ترمیم کرکے “ آئین ساز اسمبلی کوقانون ساز اسمبلی اور گورنر کو ریاستی حکومت کی تشریحات میں شامل کیا گیا۔ اس ترمیمی ہیرا پھیری کی روشنی میں زیر تنازعہ احکامات جاری کر کے ان کو دفعہ 370 کی منسوخی کے تقاضے پورے کرنے پر منطبق کیا جارہا ہے۔ یہ تشریح سپریم کورٹ مانتی ہے یا نہیں ، اس کے زیر سماعت درخواستوں کا فیصلہ اسی پر منحصر ہے۔ اس قسم کی صورت حال پہلے کبھی پیدا نہیں ہوئی تھی نہ عدالت کے زیر سماعت آئی تھی ۔پہلے والے مقدمات میں دفعہ 370 کی آئینی حثییت یا اس کے تحت جاری کئے گئے احکامات کی جوازیت کو چیلینج کیا گیا تھا جن میں یہ دفعہ collaterally زیر بحث آئی تھی جبکہ نئی صو رت حا ل کے تحت اس دفعہ کی منسو خی کو چیلینج کیا گیا ہے جو براہ راست زیربحث ہے ۔اس سے پہلے کے فیصلے دفعہ 370 کی موجودگی میں اس کی آئینی حیثیت کی بالواسطہ تشریح کی گئی تھی۔ اب اس کی منسوخی کی حثییت کو جانچنا ہے ۔اس لئے یہ معاملہ ان سے مختلف ہے۔ یہ ترمیم آئینی تقاضوں کے مطابق نہیں بلکہ سیاسی بالا دستی کی وجہ سے جمہوری آمریت کے ذریعہ عمل میں لائیگی ہے۔ دفعہ 370 بذات خود ایک آئین ہے کیونکہ اس کے تحت ہندوستانی آئین کی دفعات کو ریاست کی حکومت کی رضا مندی یا مشاورت سے ہو بہو ، اثتثنات یا ترامیم کے ساتھ نافذ کیا جا سکتا ہے ۔جس میں منطقی طور ان کی منسوخی بھی شامل ہے ۔جبکہ ملک بھر کے لئے آئین کو دفعہ 368 کے تحت ہی ترمیم کیا جا سکتا ہے۔
گوکہ دفعہ 370 بھی آئین کا حصہ ہے لیکن اس کی یا اس کے ذریعہ ریاست پر نفاظ کے باقی آئینی دفعات اور خود اس دفعہ کو بھی اسی کی زیلی دفعہ (3) کے پرو سیجر کے تحت ترمیم یا منسوخ کیا جا سکتا ہے ہندوستانی آئین کی نارمل سکیم کے تحت نہیں۔میری ذاتی رائے میں یہ دفعہ ایک پھندہ ہے جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو ریاستی اسمبلی کے ذریعہ قابو کر کے ہندوستان کشمیر میں داخل ہوکر مالک بن گیا ہے۔اس کے ریاست کو صرف دو فائدے ہیں ، ایک تو اس کے تحت 35A کے ذریعہ مقامی حقوق محفوظ کئے گئے ہیں جو ریاستی باشندہ کے قانون ہیں ، دوسرا ریاست کو اپنی مقامی حکومت کو چلانے کے لئے اپنا آئین میسر ہے- گوکہ یہ آئین بھی ہندوستانی آئین کے حصے vi کا چربہ ہے , جو دیگر ریاستی حکومتوں کے لئے ہے۔اس کے علاوہ نفسیاتی طور ریاست کے وجود کا ایک خیالی تصور بھی ہے۔ دفعہ 370 کے تحت ہندوستانی آئین کے کسی حصے کا اطلاق یا اس کے کسی حصے کو واپس کرنا ریاست کی حکومت کی مشاورت یا رضامندی سے ہی مشروط ہے اور اس کی مکمل تنسیخ آئین ساز اسمبلی کی رضامندی کے تابع ہے 5’ 6 اور 31 اگست 2019 کو نہ ریاستی حکومت موجود تھی نہ قانون ساز اور نہ ہی آئین ساز اسمبلی۔ گورنر ، صدر مملکت یا پارلیمنٹ دفعہ 370 کے تحت ان کا متبادل نہیں ہو سکتے ، نہ ہی ہندوستانی یا ریاستی آئین ایسا کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔
گورنرمرکز کی حکومت کا نمائندہ ہوتا ہے، بہ الفاظ دیگر ریاست میں وہ مرکز ہے ، ریاست کا نہیں نہ ہی ریاست کے کسی الیکٹورل کالج کا ، اس لئے مرکزی حکومت اپنے نمائیندے کی مشاورت پر اپنے آئینی اختیارات استمعال نہیی کر سکتی ۔بادی النظر میں زیر تنازعہ احکامات آئین سے مکمل طور متصادم ہیں – دفعہ 370 کے تحت ہندوستانی آئین کی دفعات 2 اور 3 کوبھی ریاست میں خصوصی ترامیم کے تحت نافذ کیا گیا ہے ۔دفعہ 2 کے تحت پارلیمنٹ کو کسی بھی علاقے کو کسی بھی شرط یا شرائط کے تحت وفاق میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔ریاست کو اس دفعہ کے تحت دفعہ 370 کی شرائط کے تحت شامل کیا گیا ہے جبکہ دفعہ تین کے تحت اس کے نام یا اس کی تقسیم اس کی تحریری رضامندی کے بغیر نہیں ہو سکتی۔دفعہ 370 اور ان دو دفعات کے ہوتے ہوئے مرکزی حکومت یا پارلیمنٹ کو تو ریاست کی حثییت بدلنے یا چھیڑنے کا اختیار ہی نہیں ، نہ ہی ان دو دفعات کو دفعہ 367 کی ہیرا پھیری والی ترامیم میں چھیڑا گیا ہے ۔اس لئے زیر تنازعہ احکامات ان وجوہات کی بناء پر بھی باطل ہیں۔دفعہ 370 کی ایک آئینی تاریخ ہے جو آزادی ہند کے 1947 ، گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے 1935 اور ان کے تحت مہاراجہ کا فوجی امداد کی درخواست ، الحاق نامے کی شرائط کے ساتھ مہاراجہ کا خط ، گورنر جنرل کا جواب اس دفعہ پر ہندوستانی آئین ساز اسمبلی کی مئ تا اکتوبر 1949 کی کاروائی ، بحث ، ریاستی اور مرکزی لیڈر شپ کی خط و کتابت، معاہدات اور آئین کی ان دفعات کی روشنی میں جانچا جا سکتا ہے۔
جن کا ریاست پر اطلاق کیا گیا ہے ۔یہ تاریخی رشتہ پچہتر سال کے ٹوٹتے، جڑتے حالات کے بھنور میں پھنسا ہے۔دو اگست کی سماعت کے دران عدالت کی طرف سے یہ اوبزر ویشن بھی آئی کہ “ اس سلسلے میں تاریخ کا کچھ حصہ بھی زیر بحث آئیگا – “ اصل بات یہی ہے کہ دفعہ 370 پر آئین ساز اسمبلی میں بحث ہی اس کی جوازیت ہے – ریاست کے مہاراجہ نے تقسیم ہند کے تحت کار فرما اصولوں کے مغائر اس کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی وجہ سے گورنر جنرل نے اپنی منظوری کے مکتوب کے تحت وہ الحاق صرف فوجی مدد کی حد تک منظور کیا تھا ۔ الحاق کا فیصلہ لوگوں کی رائے کے تابع چھوڑ دیا گیا تھا۔سلامتی کونسل نے بھی یہی فیصلہ کیا تھا۔ابھی ریاست کے وہ حالات بھی نہیں بدلے نہ ہی لوگوں کی خواہشات بلکہ ان میں پہلے سے زیادہ شدت آگئ ہے۔ جس وجہ سے گذشتہ پانچ سال سے وہاں صدر راج ہے، ریاست کی اسی خوف کی وجہ سے بندر بانٹ ، صدر راج نافذ ہے اور ریاستی انتخاب بھی نہیں ہوئے۔گوکہ عدالت 5 اگست اور اس سے پہلے کی آئینی پوزیشن کی روشنی میں متنازعہ احکامات کی جانچ کرے گی لیکن ان حقائق کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ اس لئے آئین ساز اسمبلی میں اس پر بحث آئین کی تشریح کے لئے نا گزیر ہے۔سپریم کورٹ کو صرف زیر تنازعہ احکامات کی جوازیت کو ہی نہیں ، بلکہ مجموعی طور پر ایسے احکامات کے ہندوستان کی دیگر ریاستوں پر اثرات کو بھی ملحو ظ خاطر رکھنا پڑے گا۔
وفاق کے آئینی ڈھانچے کی روشنی میں مرکزی حکومت اور پارلیمنٹ کے ریاستوں کے معاملات میں اس طرح کی چھڑ چھاڑ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں آئین کے Basic structure کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ جس میں Federalism کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔اس طرح کی مداخلت کی اگر تو ثیق یا اجازت دی گئ تو آئین اور ملک کا وفاقی ڈھانچہ زمین بوس ہو جائیگا ۔سپریم کورٹ ایسا نہیں ہونے دے گی۔ سپریم کورٹ اس سے پہلے آئینی ترامیم کو آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصاد م ہونے کی بنیاد پر کالعدم قرار دے چکی ہے۔ جس سلسلے میں 1973 کا ( کیسوا نند ا بھارتی )Kesavananda Bhartiکے کیس کا فیصلہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے ۔جس کے تحت آئین کا بنیادی ڈھانچہ ، فیڈرل سسٹم ، آ ئین کی بالا دستی ، مرکز اور ریاستوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم ، عدلیہ کی آزادی اور آئین کی ترمیم کے سخت اصول پر مبنی ہے۔میرے خیال میں سپریم کورٹ کے نزدیک کسی حکومتی عمل یا حکم کے مقابلے میں آئینی ڈھانچہ اور وفاق کی ریاستی اکائیوں کی پائیداری اور آئین کے اندر دی ہوئی خود مختاری زیر نظر اور قابل ترجیح رہے گی۔
سپریم کورٹ کی ہمدردیاں اپنے ملک کے ساتھ ہو نگی ۔ کسی جماعت یا علاقے کے ساتھ نہیں ۔ انفرادی یا عام قانون کے تحت مقامی نوعیت کے مقدمات زیر تجویز مقدمات سے مختلف ہوتے ہیں۔یہ بین الاقوامی نوعیت کا دور رس اثرات کا حامل مقدمہ ہے۔ جس کے ساتھ وفاقی اکائیوں اور ہندوستان کے وفاق کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔ کوئی بھی ذی شعور جج اس کو مقامی نوعیت سے نہیں دیکھ سکتا ۔ سپریم کورٹ نے اس سے قبل ریاستی اسمبلیوں کی تحلیل پر مثبت تشریحات کے ذریعہ کئ پابندیاں عائد کر کے وفاق کے یونٹس کو ملکی ایکتا کے لئے تحفظ دے کر وفاقی حکومت کو بے لگام ہونے سے روک دیا ہے۔دفعہ 370 کو بھی سپریم کورٹ اسی نظریہ کے تحت تحفظ دیتی چلی آئی ہے تاکہ ریاست اپنی مختلف نوعیت کے باوجود ہندوستان سے جڑی رہے۔