تحریر:عبدالباسط علوی
کسی بھی قوم میں سویلین اور فوجی شعبوں کے درمیان تعلقات ترقی اور مجموعی سماجی بہبود کی رفتار کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ استحکام کو فروغ دینے، پائیدار ترقی کو دوام بخشنے اور ملک کی خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے سول اور فوجی اداروں کے درمیان ایک مضبوط باہمی اشتراک کا ہونا ضروری ہے۔ جب یہ دونوں شعبے ہم آہنگی کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں تو وہ چیلنجوں سے زیادہ مؤثر طریقے سے نمٹ سکتے ہیں، وسائل کو موثر طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں اور ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔
سول ملٹری تعاون سے مراد سویلین حکومتی اداروں اور کسی قوم کی مسلح افواج کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی ہے۔ اس مد میں مختلف شعبوں میں مشترکہ کوششیں شامل ہیں، جیسے آفات سے نمٹنا، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، صحت عامہ، تعلیم، اور قومی سلامتی وغیرہ۔ یہ تعاون اس بات کو تسلیم کرنے پر منحصر ہے کہ ملک کی مجموعی فلاح و بہبود کو فروغ دینے میں سویلین اور ملٹری دونوں شعبے ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہیں۔ قدرتی آفات کے دوران سول ملٹری تعاون سب سے اہم ہو جاتا ہے۔ فوج کی لاجسٹک صلاحیتیں اور تیزی سے نقل و حرکت شہری ایجنسیوں کو قدرتی آفات سے نمٹنے اور متاثرہ آبادیوں کو انسانی امداد فراہم کرنے میں نمایاں طور پر مدد کر سکتی ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں سول ملٹری تعاون، جیسے سڑکوں کی تعمیر اور توانائی کی ترقی وسائل کی موثر تقسیم اور بیرونی خطرات کے خطرے سے دوچار علاقوں میں سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے بہت ضروری ہے۔
اندرونی تنازعات یا عدم استحکام کا سامنا کرنے والے خطوں میں امن کی کوششوں اور تنازعات کے حل کے لیے سویلین اور فوجی اداروں کے درمیان تعاون بہت ضروری ہے۔ مشترکہ اقدامات اعتماد کی بحالی اور مفاہمت کے لیے سازگار ماحول کو فروغ دینے میں مدد کر سکتے ہیں۔ شہری اور فوجی سیکٹرز سے تعلق رکھنے والے صحت کے پیشہ ور افراد صحت عامہ کے بحرانوں یا وبائی امراض کے وقت تعاون کر سکتے ہیں اور صحت کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور ضروری طبی خدمات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے وسائل جمع کر سکتے ہیں۔تعلیم اور تربیتی پروگراموں میں سول ملٹری تعاون دونوں شعبوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتا ہے.
جس سے ایک ایسی ہنر مند افرادی قوت پیدا ہو سکتی ہے جو متنوع چیلنجوں سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے لیس ہو۔ سول ملٹری تعاون صرف سہولت کی شراکت داری نہیں ہے۔ یہ ترقی کا ایک بنیادی پہلو ہے جو کسی قوم کو استحکام اور خوشحالی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ سویلین اور فوجی شعبوں کی منفرد طاقتوں اور کرداروں کو تسلیم کرکے اور تعاون کو فروغ دے کر ممالک کثیر جہتی چیلنجوں سے نمٹ سکتے ہیں اور ایک خوشحال اور ہم آہنگ معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ پالیسی سازی، وسائل کی تقسیم اور سماجی ترقی میں اس تعاون کی اہمیت پر زور دینا دنیا بھر کی قوموں کے روشن مستقبل کی تعمیر کے لیے ضروری ہے۔
ایس آئی ایف سی، پاکستان میں سول ملٹری تعاون کی بہترین مثال ہے جس کا مقصد ملک کی ترقی کے لیے روڈ میپ ترتیب دینا ہے۔ چونکہ دنیا بھر کے ممالک براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کو راغب کرنے اور اپنی اقتصادی ترقی کو تقویت دینے کی کوشش کر رہے ہیں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل(SIFCs) کے کردار کو اہمیت حاصل ہوئی ہے۔ یہ کونسلیں سرمایہ کاری کو فروغ دینے، سرمایہ کاروں کو مدد فراہم کرنے اور سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے کے لیے ضروری پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتی ہیں۔ پاکستان جیسے وسیع اقتصادی صلاحیت کے حامل ملک نے پاکستان اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (PSIFC) قائم کرکے اس سمت میں ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔
پاکستان اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کا قیام غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے، کاروبار کرنے میں آسانی کو بڑھانے اور ملک میں معاشی ترقی کو تیز کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔یہ بورڈ آف انویسٹمنٹ (BOI) کی چھتری کے تکے کام کرتی ہے جو پاکستان کی اعلیٰ سرمایہ کاری کو فروغ دینے والی ایجنسی کے طور پر کام کرتا ہے۔ SIFC ایک ایسےخصوصی ادارے کے طور پر کام کرتی ہے جو سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی کرنے، چیلنجوں سے نمٹنے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار پالیسیاں تیار کرنے کے لیے حکومتی نمائندوں، نجی شعبے کے رہنماؤں اور مختلف صنعتوں کے ماہرین سمیت اہم اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کرتا ہے۔
ایس آئ ایف سی، پاکستان کی اقتصادی صلاحیت، مارکیٹ کے مواقع اور سرمایہ کار فرینڈلی پالیسیوں کو نمایاں کرتے ہوئے غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ کونسل بیوروکریٹک عمل کو ہموار کرنے، ریڈ ٹیپ کو کم کرنے اور ریگولیٹری طریقہ کار کو آسان بنانے کے لیے کام کرتی ہے تاکہ سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان میں کاروبار قائم کرنے اور چلانے میں آسانی ہو۔ SIFC سرمایہ کاری کے لیے ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کرتی ہے اور ہدف شدہ پالیسیوں اور اقدامات کے ذریعے ان کی ترقی پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ اس نقطہ نظر کا مقصد سرمایہ کاری کے اثرات کو زیادہ سے زیادہ کرنا اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔کونسل نجی شعبے اور حکومت کے درمیان رابطے کے طور پر کام کرتی ہے اور ایسی پالیسیوں کی وکالت کرتی ہے جو سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کی ضامن ہیں۔ SIFC سرمایہ کاروں کو جامع امدادی خدمات پیش کرتی ہے،جیسا کہ پروجیکٹ کی منظوریوں، اجازت ناموں، لائسنسوں، اور سرمایہ کاری کے سفر کے دوران انہیں درپیش دیگر چیلنجوں میں مدد۔
پاکستان اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل نے سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور معاشی نمو کو آسان بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں: SIFC سرمایہ کاری کانفرنسوں اور سمٹوں کا اہتمام کرتی ہے، ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ان اقدامات سے سرمایہ کاری کی منزل کے طور پر پاکستان کی صلاحیت کو اجاگر کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے میں مدد ملتی ہے۔ کونسل پالیسی سازوں کے ساتھ فعال طور پر ایسی اصلاحات کی تجاویز پیش کرتی ہے جو سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنائیں اور سرمایہ کاروں کے داخلے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں۔ SIFC پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اور کاروباری امکانات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے مختلف ذرائع سے سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے آگاہی مہمات کا انعقاد کرتی ہے۔ کونسل کا مقصد سرمایہ کاروں کے لیے ایک ون اسٹاپ شاپ قائم کرنا ہے جو انھیں مرکزی اور موثر انداز میں تمام ضروری معلومات اور خدمات فراہم کرے۔ SIFC اعلی ترقی کی صلاحیت کے حامل اہم شعبوں کی نشاندہی کرتی ہے جیسے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، قابل تجدید توانائی، مینوفیکچرنگ، اور زراعت اور ان شعبوں میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے مخصوص مراعات اور معاونت فراہم کرتی ہے۔
پاکستانی معیشت کی دگرگوں حالت کے بعد اب الحمدللہ اب اس کی بہتری اور مستقل بنیادوں پر خود انحصاری کے لیے وسیع اور جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں SIFC کے پلیٹ فارم کے تحت پاکستان کے قدرتی وسائل اور شعبے جن میں وسیع امکانات موجود ہیں کی ترقی شامل ہے. ان پر کام پوری توجہ اور یکسانیت کے ساتھ شروع ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقائی رابطوں، علاقائی تجارت اور CPEC منصوبوں پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔ جن منصوبوں پر حکومت اور فوج نے مشترکہ طور پر ایس آئی ایف سی کے ذریعے کام شروع کیا ہے ان میں زرعی شعبے میں بنجر زمینوں پر جدید تقاضوں کے مطابق کاشتکاری، ماڈل فارمنگ، لائیو سٹاک، لینڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم، آئی ٹی کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری وغیرہ شامل ہیں۔ SIFC کا مقصد پاکستان کے کان کنی اور معدنیات کے وسیع وسائل سے فائدہ اٹھانا اور SIFC کے ون ونڈو آپریشن کے ذریعے بیرونی سرمایہ کاری، دفاع اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا ہے۔ ان تمام اقدامات سے پاکستان کے لیے اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے بے شمار مواقع کھلے ہیں اور اب پاکستان معاشی خود کفالت کی طرف جا رہا ہے کیونکہ پاکستان کے دوست ممالک کے ساتھ ان شعبوں میں براہ راست سرمایہ کاری تیزی سے جاری ہے۔
وہ قوتیں جو پاکستان کو خود انحصاری کے سفر پر گامزن نہیں دیکھ سکتیں وہ بھی پوری طرح متحرک ہو چکی ہیں۔ وہ بیرونی طاقتیں اندرونی عناصر کو استعمال کر کے ملک میں معاشی بدحالی، مایوسی، قیامت خیز صورتحال کے پرچار اور اداروں کو بدنام کرنے میں پوری طرح مصروف ہیں۔ ماضی میں قیصر بنگالی جیسے معاشی ماہرین نے یہ کہہ کر مایوسی پھیلائی تھی کہ پاکستان ڈوب رہا ہے اور ڈیفالٹ ہونے جا رہا ہے۔ پاکستان دشمن عناصر عوام کو مسلسل مایوسی میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں اور ملک کو معاشی طور پر ان قوتوں کے چنگل سے نکلنے نہیں دینا چاہتے۔ پاکستان کی معاشی خود انحصاری کے سفر میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ دشمن عناصر ہیں جو پاکستان میں ایسے تمام اقدامات کو ناکام بنانا چاہتے ہیں جس سے پاکستان کو ان قوتوں کے معاشی رحم و کرم سے نجات مل سکے۔ ملک کے اندر اور باہر ان قوتوں اور ان کے سہولت کاروں کی جانب سے پاکستان میں معاشی بہتری کے حالیہ اقدامات کو متنازعہ بنانے اور ناکام بنانے کی حتی الامکان کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان کی کمزور معیشت ہمیں ہمیشہ معاشی طور پر ان قوتوں پر انحصار کرنے پر مجبور کرتی رہے گی۔وہ قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ ہم ہمیشہ ان کے سامنے ہاتھ پھیلائے رہیں۔ حالیہ دنوں میں دیکھا گیا ہے کہ ملک کے اندر اور باہر بیٹھے یہ عناصر ایک مخصوص اور مذموم ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور پاکستانی معیشت کے خود انحصاری کے سفر پر جھوٹا اور گمراہ کن پروپیگنڈہ کر کے عوام میں مایوسی اور انتشار پھیلا رہے ہیں۔
پاکستان بہت خوش قسمت ہے کہ اب ہمارے پاس ایک ایسا آرمی چیف ہے جو خود ملک کی معاشی بحالی کے عمل کی تگ ودو میں پیش پیش ہے۔ انہوں نے بہت سے ممالک کا دورہ کیا اور پاکستان میں بھی بہت سے غیر ملکی حکام سے ملاقاتیں کیں جن میں چینی نائب وزیر اعظم ہی لائفنگ، لیفٹیننٹ جنرل الفوناس ماس، چیف آف جرمن آرمی وغیرہ شامل ہیں۔ ظاہری سی بات ہے کی ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دفاعی تعاون کے ساتھ ملک کی معاشی ترقی پر بھی گفتگو ہوئ ہوگی۔ حال ہی میں پاکستان میں CPEC کی 10ویں سالگرہ بھی منائی گئی اور سول اور ملٹری قیادت نے ملک کے بنیادی مسائل کے ساتھ مکمل وابستگی کا مظاہرہ کیا۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے پاک چین تعلقات کو “منفرد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی فوجیں “اجتماعی مفادات کا تحفظ” جاری رکھیں گی۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے یہ باتیں راولپنڈی میں جی ایچ کیو میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے قیام کی 96 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔
پاکستان کے آرمی چیف سپیشل انوسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے امور کے ہموار تسلسل کے لیے بھی گہری دلچسپی لے رہے ہیں جو کہ ایک اچھی علامت ہے۔ حال ہی میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ ہماری سرزمین معدنیات سے مالا مال ہے اور ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کرنا ہماری سماجی ذمہ داری ہے۔پاکستان منرل سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا کہ حکومت پاکستان نے تمام اداروں کے ساتھ مل کر ایس آئی ایف سی کے قیام کو یقینی بنایا ہے۔ یہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے کاروبار کرنے میں آسانی کے لیے نئے اصول وضع کرتی ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ استقامت ہی امن اور خوشحالی کی راہ پر گامزن رہنے کا واحد راستہ ہے. معدنی منصوبے عوام کی ترقی کی سیڑھی ہیں۔ جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ اللہ تعالی نے سورہ رحمن میں فرمایا اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ آرمی چیف نے قرآن پاک کا حوالہ دے کر واضح کیا کہ اللہ ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کو دیکھیں تو برف پوش پہاڑوں سے لے کر صحراؤں کی وسعتوں تک، ساحلی پٹی سے لے کر میدانوں تک اس سرزمین میں کیا نہیں ہے۔ آئیے اپنا کردار ادا کریں، ہمیں کبھی امید نہیں ہارنی چاہیے، ہماری سرزمین معدنیات سے مالا مال ہے، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں چھپے خزانے تلاش کرنے کی دعوت دیں۔ اس موقع پر آرمی چیف نے بیرک گولڈ کے سی ای او اور صدر مارک برسٹو کا شکریہ ادا کیا جب کہ انہوں نے سعودی وزیر برائے کان کنی انجینئر خالد بن صالح المدفر اور دیگر سرمایہ کاروں کا بھی شکریہ ادا کیا۔
پاکستان کی معاشی بحالی کے لیے آرمی چیف اور پاک فوج کی نمایاں خدمات ہمارے سامنے ہیں تو دوسری طرف ریاست دشمن عناصر کا شرمناک کردار ہے جو ہمیشہ افواج کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان عناصر نے حالیہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 ترمیمی بل کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانے کی کوشش کی۔ معتبر ذرائع سے موصول ہونے والے حقائق کے مطابق اس امینڈمینٹ کا تعلق ۹ مئی کے واقِعات سے قطعا نہیں ہے اور اِس کا اطلاق کسی بھی کیس سے ریٹروسپیکٹویلی نہیں ہے
– یہ امینڈمینٹ آفیشل سیکریٹ ایکٹ ۱۹۲۳ جوکہ ۱۰۰ سال پرانا قانون ہے جسکو نئے قوانینی تقاضوں کے مطابق اپڈیٹ کیا گیا ہے تاکہ عصرِ حاضر کے قوانین کے مطابق اِس قانون کو موثر طور پر استعمال کیا جا سکے۔ انگلینڈ جس نے اس قانون کو اُس وقت تخلیق کیا وہ بھی اپنے آفیشل laws کو جدید تقاضوں کے مطابق بارہا اپڈیٹ کر چکا ہے۔ یہ قانون ہر کسی پر لاگو نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعلق ملک کی سیکورٹی سے متعلق حساس معلومات اور انفارمیشن لیک کرنے والوں لوگوں پر ہی ہوتا ہے کیونکہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا مقصد ملک کی حساس معلومات کو گارڈ اور پروٹیکٹ کرنا ہوتا ہے۔ پرانے ۱۹۲۳ کے قانون میں عصرِ حاضر میں espionage اور spying کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال کا کوئی ذکر نہیں تھا جسے شامل کیا گیا ہے – اور آج کے دور کی ڈیجیٹل اسپیونیج techniques کو کاؤنٹر کرنے کی شقوں کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کے اِس امینڈمینٹ میں بھی کسی بھی فرد کو arrest کرنے کا اختیار FIA کے پاس ہی رکھا گیا ہے ۔
اس امینڈمینٹ میں پرانا لکھا ہوّا لفظ ڈاکومنٹ اور انٹیلیجنس ایجنسیز کو explain اور expand کیا گیا ہے – جس میں ڈاکومنٹ میں ایک لکھے ہوئے ڈاکومنٹ کے علاوہ الیکٹرونک، ڈیجیٹل، ایگریمینٹس، میمورنڈم، پلانز کو بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ انٹیلیجینس ایجنسی کا مطلب آئی ایس آئی اینڈ انٹیلیجینس بیورو واضح کر دیا گیا ہے۔ میونیشنز آف وار کو expand کر کے اس میں ships، submarines، ایئرکرافٹ، ٹینک، گاڑیاں، اور ایسا اسلحہ جو جنگ میں استعمال ہو سکتا ہے کو شامل کیا گیا ہے ۔ غرض یہ کہ جدید سیکورٹی چیلنجز جن کو exploit کر کے دشمن پاکستان کو نقصان پہنچا سکتا ہے کو آج کے قانونی تقاضوں کے مطابق اپڈیٹ اور اپگریڈ کیا گیا ہے۔ بلاشبہ پاکستان میں موجودہ حالات غیر معمولی ہیں اور دشمن اپنی جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے جدید سپائنگ تکنیکس کو بروئے کار لا رہا ہے جس کو کاؤنٹر کرنے کے لیے آفیشل سیکریٹ ایکٹ ۱۹۲۳ میں ترامیم کی گئی ہیں جس پر منفی پروپیگنڈا کرنا اور اُسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا افسوس ناک ہے۔ قوم پاک فوج کی نمایاں خدمات کو تسلیم کرتی ہے اور دشمنوں کے ایسے مذموم پروپیگنڈے کی مذمت کرتی ہے۔ ریاست دشمن عناصر کے تمام گھناؤنے ہتھکنڈوں کے باوجود پاکستان کو آگے بڑھنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔
قارئین، پاکستان اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کا قیام پاکستان کی اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوششوں کے ضمن میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہوئے، ریگولیٹری عمل کو ہموار کرتے ہوئے اور سرمایہ کاروں کے لیے موزوں تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے PSIFC پاکستان میں معاشی ترقی اور ایک متحرک کاروباری منظر نامے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جیسا کہ کونسل نے شراکت داری قائم کرنا اور عالمی سطح پر ملک کی صلاحیت کو فروغ دینا جاری رکھا ہے تو امید کی جاتی ہے کہ یہ پاکستان کی اقتصادی صلاحیت کو کھولنے اور ایک خوشحال اور پائیدار مستقبل کی راہ ہموار کرنے میں مدد کرے گی۔ SIFC سول ملٹری تعاون کی ایک بہترین اور قابل ذکر مثال ہے جس کا مقصد پاکستان کی ترقی کے اہداف کو حاصل کرنا ہے اور ملک کے عوام اس کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہیں۔ پاکستان تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور قوم پر امید ہے کہ اس سلسلے میں ہماری سول اور ملٹری قیادت کی جانب سے کی جانے والی تمام مخلصانہ کوششیں کامیاب ہوں گی۔