ہمارے لیے اس دنیا میں سب سے زیادہ توجہ کا مستحق کون ؟

85

ہم خود!ہم سب کو پتہ ہے کہ اس دنیا کے جھمیلے یونہی رہیں گے.افراتفری, پریشانیاں, الجھنیں تب تک ہیں جب تک دنیا ہے.ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گانہیں.ایسا کوئی دن نہیں آئے گا.ارادے بنتے ٹوٹتے رہیں گے.ٹائم ٹیبل دیوار پہ چسپاں ہوں گے مگر ہر دن ان کے مطابق نہیں گزرے گا.آپ کسی چیز سے خود کو روکیں گے لیکن کبھی کر بھی لیں گے.

ایک عادت اپنانا چاہیں گے مگر روز بھول جائیں گے.ایک عادت چھوڑنا چاہیں گے لیکن خود کو باز نہ رکھ پائیں گے.خود کو مضبوط بنائیں گے لیکن کسی لمحے ریت کی دیوار کی طرح ڈھ بھی جائیں گے.چلتے چلتے گر پڑیں گےاور اٹھنے کی کوشش میں پھر گریں گے.یہ سب ہوتا ہے اور یہی سب ہوگا.

لیکن کم از کم ارادے بنائیں توٹائم ٹیبل لگائیں تو سہی.خود کو کرنے اور نہ کرنے والے کاموں کی تعلیم تو دیں.خود ترسی اور کمزور شخصیت سے نکل کے کھڑے تو ہوں.زندگی ” ہیپلی ایور آفٹر” والی کہانی نہیں ہے.نہ ظالم دیو کی جان ایک طوطے میں ہے جسے مارنے سے سب مسئلے حل ہو جائیں.نہ شہزادے کو سات منزلیں پار کرنے کے لیے پہاڑی پہ کوئی بزرگ “اڑنے والا قالین” دے گا.نہ شہزادی کو دیو کی قید سے نکالنے کے لیے کوئی سورما آئے گا.

یہ فیری ٹیل سے باہر کی دنیا ہے جس میں سب کو اپنے لیے کوشش خود کرنی ہے.خود پہ کام کریں.اپنی شخصیت کے سب پہلووں پہ .اپنی صحت اور سنگھار پہ.عادات پہ،مزاج پہ،سوچ پر،علم حاصل کرنے پر ،اسے عمل بنانے پر اپنے مشاغل پر،اپنی کسی خاص مہارت (ٹیلنٹ) پر.

اس لیے نہیں کہ آپ کو کسی کے سامنے کچھ ثابت کرنا ہےبلکہ اس لیے کہ آپ کو اپنی نظروں میں معتبر ہونا ہے.
Live with Grace!!
اپنا خیال رکھیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں