تحریر : سید زین نقوی
۸ محرم الحرام کے دن کے آغاز کو اچانک ایک المناک اور پُرحسرت خبر پھیلی کہ دور حاضر کے عظیم داعی اتحاد بین المسلمین ملت جعفریہ آزاد کشمیر کے رہنما و جعفریہ سپریم کونسل آزاد کشمیر کے سرپرست اعلیٰ سید شبیر حسین بخاری صاحب نے مظفرآباد کے کے ایک اسپتال میں داعیٔ اجل کو لبیک کہا اور مولائے حقیقی سے جا ملے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
عصررواں کی ایک برگزیدہ شخصیت، مثالی محدث، یکتا فقیہ، ترجمانِ ملت جعفریہ، و درخشندہ ایک مہتاب ِ شریعت، فطین، بلند فکر، راستی پسند، ظریف الطبع، فصاحت وبلاغت کا رمز شناس، جامع علوم وفنون، تاریخ ساز زندگی کے حامل ایک معتبر انسان تھے، آپ اپنی مخلصانہ جدوجہد، تبحر علمی، خداداد ذہانت، ممتاز قوت حافظہ اور نرالی شان کے اخلاق کے ذریعے ملت جعفریہ میں ایک نمایاں مقام اور پوزیشن حاصل کیے تھے، اور طویل مدت تک چیئرمین جعفریہ سپریم کونسل و صدر مرکزی انجمن جعفریہ کی مسند کو رونق اور صدارت کی زینت بخشی.
ان کے چشمۂ علم وحکمت سے ریاست جموں و کشمیر اور بیرون ریاست کے ہزاروں تشنگانِ علوم ومعارف سیراب ہوئے۔ آپ کا انتقال ملت جعفریہ کے لیے ناقابل جبر نقصان اور جانکاہ حادثہ ہے، بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کی رحلت سے دینی مجال میں جو خلا پیدا ہوا وہ کبھی پُر نہ ہوگا۔ اس رحلت حسرت آیات پر ریاست بھر کے مختلف مکاتب فکر سر سے تعلق رکھنے والے افراد بے حد حزین وغمگین ہیں اور دیگر احباب واقارب کے ساتھ شریک غم ہورہے ہیں ۔ بالآخر دربارِ خداوندی میں التجاء ہے کہ ان کی تمام دینی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازیں ، اور ان کے شاہکار علمی کارنامے تاقیامت یاد رکھے جائیں گے ، ان کو جنت الفردوس کے اعلیٰ مقام عطا فرماویں ،جوار آئمہ معصومین علیہم السلام میں حصوصی جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کوصبر جمیل کی توفیق عنایت فرماویں ۔ آمین!