یوم آزادی اور اندرونی دشمنان وطن

87

تحریر :عبدالباسط علوی

1947 میں پاکستان کا معرض وجود میں آنا ایک اہم واقعہ تھا جس نے برصغیر کے سیاسی نقشے کو نئی شکل دی۔ اس نے آزادی کے لیے ایک طویل اور ہنگامہ خیز جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچایا جس میں متعدد سماجی، سیاسی اور تاریخی عوامل شامل تھے۔ پاکستان کے قیام کی کئی اہم وجوہات تھیں۔پاکستان کے قیام کا بنیادی محرک مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا مطالبہ تھا۔ برصغیر پاک و ہند برطانوی راج کے تحت ایک متنوع سرزمین تھی جس میں مختلف عقائد کے لوگ رہتے تھے۔ 20 ویں صدی تک ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی تھی جس کے نتیجے میں فرقہ وارانہ تصادم اور سیاسی نمائندگی پر تنازعات شروع ہوئے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ نے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کا مطالبہ کیا جہاں وہ اپنے سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق کو آزادانہ طور پر استعمال کر سکیں۔

پاکستان کا تصور ایک آزاد مسلم اکثریتی قوم کے طور پر ایک الگ مذہبی تشخص کے تحفظ کی اس خواہش سے ابھرا۔ دو قومی نظریہ جو 19ویں صدی میں سرسید احمد خان نے پیش کیا تھا اور بعد میں قائد اعظم نے اس کی حمایت کی تھی نے پاکستان کی تخلیق کی نظریاتی بنیاد رکھی۔ اس نظریہ کے مطابق ہندو اور مسلمان مختلف ثقافتی، مذہبی اور سماجی شناختوں کے ساتھ الگ الگ قومیں تھیں۔ وہ اپنے حقوق اور مفادات کی آزادی کے ساتھ مل کر نہیں رہ سکتے تھے۔ اس نظریہ نے ایک علیحدہ مسلم ریاست کے مطالبے کو مزید مستحکم کیا کیونکہ اس نے ہندوستان کی تقسیم کا ایک منطقی اور اخلاقی جواز فراہم کیا۔

برطانوی نوآبادیاتی حکمرانوں نے وسیع ہندوستانی سلطنت پر تسلط برقرار رکھنے کے لیے “تقسیم کرو اور حکومت کرو” کی پالیسی کا استعمال کیا۔ انہوں نے وہاں موجود مذہبی، نسلی اور لسانی فالٹ لائنوں کا فائدہ اٹھا کر مختلف برادریوں کے درمیان تفرقہ کے بیج بوئے۔ تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان پولرائزیشن میں بھی حصہ ڈالا جس سے ایک علیحدہ مسلم ریاست کا خیال مسلم آبادی کے لیے زیادہ پرکشش بنا۔مسلمانوں اور ہندوؤں کے آباد علاقوں کے درمیان معاشی تفاوت نمایاں تھا۔ پنجاب، سندھ اور بنگال جیسے مسلم اکثریتی علاقوں نے برطانوی حکمرانوں اور ہندو اشرافیہ کے ہاتھوں پسماندہ اور معاشی طور پر استحصال کا شکار ہونے کا عنصر محسوس کیا۔ پاکستان کا مطالبہ جزوی طور پر اقتصادی آزادی کی خواہش تھی جہاں مسلمان غالب ہندو اکثریتی خطوں کے زیر سایہ ہوئے بغیر اپنے وسائل اور ترقی کو کنٹرول کر سکیں۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کی مشترکہ بنیاد تلاش کرنے اور اپنے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے میں ناکامی نے پاکستان کے مطالبے کو اور بڑھا دیا۔ نمائندگی، حکمرانی، اور ثقافتی طریقوں جیسے مسائل پر اتفاق رائے کی کمی نے دونوں برادریوں کے درمیان خلیج کو بڑھا دیا جس سے تقسیم ہی واحد قابل عمل حل دکھائی دی۔

کئی اہم تاریخی واقعات نے پاکستان کی تخلیق کی سمت کا تعین کیا۔ 1928 کی نہرو رپورٹ اور اس کے بعد سائمن کمیشن جو کہ مسلمانوں کے مفادات کی مناسب نمائندگی کرنے میں ناکام رہے نے مختلف مذہبی برادریوں کے لیے علیحدہ انتخابی حلقوں کے مطالبے کو تقویت دی۔ مزید برآں 1946 میں کیبنٹ مشن پلان کی ناکامی جس کا مقصد اقلیتوں کے لیے تحفظات کے ساتھ ایک متحدہ ہندوستان کا قیام تھا نے کانگریس (ہندوؤں کے زیر اثر) اور مسلم لیگ کے درمیان ناقابل مصالحت اختلافات کو اجاگر کیا۔ پاکستان کا قیام ایک پیچیدہ عمل تھا جو متعدد سماجی، سیاسی، اقتصادی اور تاریخی عوامل سے متاثر تھا۔ ایک علیحدہ مسلم ریاست کی خواہش مسلمانوں کے مذہبی اور ثقافتی تشخص کے تحفظ اور ان کی معاشی اور سیاسی شکایات کو دور کرنے کی خواہش سے پیدا ہوئی۔ تقسیم کے دوران کے تشدد اور بے گھر ہونے کے باوجود پاکستان کی تخلیق برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

یوم پاکستان جو ہر سال 14 اگست کو منایا جاتا ہے پاکستان کی تاریخ اور اس کے باسیوں کے دلوں میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ یہ اس دن کی یاد میں منایا جاتا ہے جب پاکستان نے 1947 میں برطانوی استعمار سے آزادی حاصل کی تھی۔ یہ اہم موقع آزادی پسندوں کی قربانیوں اور مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن بنانے کے لیے لوگوں کے غیر متزلزل عزم کی یاد دہانی کا کام کرتا ہے۔ یوم پاکستان قوم کی ترقی اور خوشحالی کے لیے عزم کا وقت ہے۔

پاکستان کی تخلیق کا بیج 1906 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام کے ساتھ ہی بویا گیا تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی قابل قیادت میں ایک علیحدہ مسلم ریاست کا مطالبہ برسوں کے دوران زور پکڑتا گیا۔ 1940 کی قرارداد لاہور جسے پاکستان ریزولوشن کے نام سے جانا جاتا ہے نے پاکستان کی حتمی تخلیق کی بنیاد رکھی۔ برسوں کی انتھک جدوجہد کے بعد 14 اگست 1947 کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھرا۔ پاکستان کا قیام لاکھوں مسلمانوں کے لیے ایک تاریخی لمحہ تھا جو ان کے حق خود ارادیت اور مذہبی آزادی کے خواب کی تعبیر کی علامت تھا۔ہر سال زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی 14 اگست کو اپنے ملک کی آزادی کا جشن بڑے جوش و جذبے اور حب الوطنی کے ساتھ منانے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔ دن کا آغاز سرکاری اور نجی عمارتوں پر قومی پرچم لہرانے سے ہوتا ہے۔

ہلال اور ستارے کے ساتھ سبز اور سفید پرچم پاکستان کے اتحاد اور خوشحالی کی نمائندگی کرتا ہے۔ پورا ملک پرچم کے رنگوں سے مزین ہوتا ہے اور سڑکوں کو جھنڈوں اور روشنیوں سے سجایا جایا ہے۔ حب الوطنی کے گیت اور قومی ترانے دلوں کو گرما دیتے ہیں اور ملک بھر میں مختلف ثقافتی تقریبات، پریڈ اور جشن کا اہتمام کیا جاتا ہے۔پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم قوم کی کامیابیوں اور مستقبل کے اہداف پر روشنی ڈالتے ہوئے تقاریر کرتے ہیں۔ قوم کی خوشحالی اور فلاح و بہبود کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں اور جدوجہد آزادی میں نمایاں کردار ادا کرنے والے رہنماؤں اور افراد کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔یوم پاکستان کا مقصد صرف جشن آزادی منانا ہی نہیں بلکہ پاکستانیوں کے درمیان قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کے احساس کو تقویت دینا بھی ہے۔ یہ دن اس بات کی یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے کہ پاکستان ایک متنوع قوم ہے جس میں مختلف نسلوں، زبانوں اور ثقافتوں کے لوگ ہیں۔ یہ ملک کے وسیع ثقافتی ورثے کی قدر کرنے اور تنوع کے درمیان اتحاد کو فروغ دینے کا وقت ہوتا ہے۔ مزید برآں یوم پاکستان جمہوریت، مساوات اور انصاف کے نظریات کے تحفظ کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے جن اصولوں پر قوم کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

یہ وقت ہے کہ ملک کو درپیش چیلنجز پر غور کیا جائے اور مل کر ان پر قابو پانے کے عزم کی تجدید کی جائے۔ جیسا کہ پاکستان اس اہم دن پر اپنی آزادی کا جشن مناتا ہےتو ساتھ ہی وہ مستقبل پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہے۔ یہ تعلیم، ٹیکنالوجی، صحت کی دیکھ بھال اور بنیادی ڈھانچے سمیت مختلف شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کو تسلیم کرنے کا وقت ہے۔ تاہم اس موقع پر ان شعبوں کی نشاندھی بھی ضروری ہے جن میں بہتری اور ترقی کی ضرورت ہے۔ غربت، ناخواندگی اور عدم مساوات کچھ ایسے چیلنجز ہیں جن سے پاکستان بدستور نبرد آزما ہے۔ یوم پاکستان ان مسائل کو حل کرنے اور مزید خوشحال اور جامع پاکستان کے لیے کام کرنے کی اجتماعی کوششوں کے لیے ایک محرک کے طور پر کام کرتا ہے۔اب آتے ہیں پاکستان کے دشمنوں کی طرف جو پاکستان پر مجرمانہ حملے کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے۔عمران خان اور ان کی پارٹی پاکستان اور اس کی فوج پر مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ وہ مسلسل یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ ان کی حکومت کو امریکہ کی طرف سے ہٹایا گیا۔ یاد رہے کہ عمران خان کا سیاسی کیرئیر پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف جھوٹ اور جھوٹے پروپیگنڈے سے بھرا پڑا ہے۔

مارچ 2022 میں امریکی نیوز ویب سائٹ انٹرسیپٹ نے امریکہ میں پاکستان کے سفیر کی طرف سے بھیجے گئے ایک سائفر کی تحریر کے بارے میں ایک کہانی شائع کی، جس میں امریکی معاون وزیر خارجہ کو اسد مجید کی طرف سے بھیجے گئے سفارتی پیغام کا مبینہ متن موجود تھا۔ حال ہی میں تحریک انصاف نے “امریکی” اخبار دی انٹرسیپٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایک “فوجی اہلکار” نے یہ سائفر لیک کر دیا ہے۔ وہی پرانی باتیں دہرائی جاتی ہیں لیکن اخبار خود لکھتا ہے کہ ’’ہمیں کسی بھی ذریعے سے سائفر کی تصدیق نہیں ملی‘‘۔ اس اکاونٹ پر کوئی بھی اور پی ٹی آئی کا کوئی بھی رکن جیسا کہ عادل راجہ خود کہانی بنا کر امریکی اخبار کو دے سکتا ہے کہ یہ سائفر کے الفاظ ہیں اور بتا دیں کہ ہمارا تعلق فوج سے ہے اور یہ اخبار اسے چھاپے گا۔ اگرچہ یہ اخبار خود واضح طور پر تسلیم کرتا ہے کہ انہیں کسی بھی معتبر ذرائع سے سائفر کی تصدیق نہیں ملی ہےاگر یہ سائفر بیانیہ درست ہوتا تو پی ڈی ایم حکومت یوکرین کی جنگ پر یوکرین کا ساتھ دیتی لیکن نہ صرف پاکستان غیر جانبدار رہا بلکہ اقوام متحدہ میں امریکی دباؤ کے باوجود پاکستان نے یوکرین کا ساتھ نہیں دیا۔ پھر عمران خان کو ہٹانے سے امریکہ کو کیا فائدہ ہوا (بقول ان کے) جبکہ فیصلے اور پالیسی غیر جانبدار رہی۔ یہاں یہ بات بھی واضح ہے کہ تحریک انصاف امریکہ میں اپنے لابی گروپوں کو بھاری رقوم دے رہی ہے اور پاکستان اور اس کے اداروں کو بدنام کرنے کے لیے تمام تر توانائیاں صرف کر رہی ہے۔ اس طرح تو عادل راجہ اس اخبار کے زریعے یہ بھی ثابت کر سکتا ہے کہ میرا تعلق فوج سے ہے کیونکہ یہ اخبار تسلیم کر رہا ہے کہ ہم نے اس سائفر کی تصدیق کسی معتبر ذریعے سے نہیں کی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بھی کہا ہے کہ امریکا چیئرمین تحریک انصاف اور سابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے خلاف کسی سازش میں ملوث نہیں ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے حوالے سے امریکا پر لگائے گئے الزامات جھوٹے ہیں اور جھوٹے رہیں گے۔ شواہد سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان محض اپنے سیاسی مفادات کے لیے سائفر ڈرامہ استعمال کر رہے ہیں۔ انہیں پاکستان کے وقار کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ انہیں صرف اپنے اور اپنے سیاسی فائدے میں دلچسپی ہے۔ 9 مئی کو سول اور ملٹری تنصیبات پر حملے کرنے والے یہ عناصر اب ایک بے بنیاد اور خود ساختہ سائفر ڈرامہ کو نمایاں کر کے پاکستان کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے عوام ان کے پاکستان کے خلاف ناپاک عزائم کو بخوبی پہچان چکے ہیں اسی لیے ان کی گرفتاری کے بعد اس بار کوئی ان کی حمایت میں باہر نہیں نکلا۔

حال ہی میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی مبینہ ڈائری بھی سامنے آئی ہے جس میں ہوشربا اور چشم کُشا انکشافات سامنے آئے ہیں۔مبینہ ڈائری میں بشریٰ بی بی چیئرمین پی ٹی آئی کو سیاسی ڈکٹیشن دے رہی ہیں، بشریٰ بی بی یہ تک بتا رہی ہیں کے پی ٹی آئی کی سیاسی حکمتِ عملی کس وقت کیا اور کیسی ہو گی، بشریٰ بی بی یہ بھی بتا رہی ہیں کہ کون کیسے عدلیہ، فوج اور حکومت پر دباؤ ڈالے گا؟ بشریٰ بی بی کی مبینہ ڈائری میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگر گورنر راج لگائیں تو قانونی چارہ جوئی اور شہر بند کرنے کی تیاری کی جائے، اگر گورنر راج لگائیں تو پہیہ جام ہڑتال کی جائے۔ مبینہ ڈائری میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اتنا پریشر دینا ہے کہ عدالت کوئی نیگیٹو فیصلہ نہ دے سکے یعنی بہت لوگ ہوں، پہلے اعلان نہیں کرنا اور پارٹی کو نہیں بتانا کہ آپ کتنے دنوں کے لیے آ رہے ہیں، عدالتی فیصلے والے روز صبح سے عوامی فضا بنا دینی ہے کہ عدالت کوئی منفی فیصلہ نہ کر سکے، بہتر یہ ہے کہ بڑے بڑے وکیلوں سے بیان دلوائیں، بس ایک پریشر رکھنا ہے۔ عمران خان کی اہلیہ کی مبینہ ڈائری میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ وکیلوں نے جو کچھ اہم سوال کرنے ہیں اور خان نے نہیں بولنے وہ یہ ہیں، ہم جو بھی درخواست لے کر جاتے ہیں انصاف کے لیے وہ کیوں نہیں سنی جاتی؟ بندیال آ گیا ہے، نواز نے کہا تھا کہ اب دیکھتے ہیں یہ گورنمنٹ کیسے رہے گی۔ کتنی ستم ظریفی ہے کہ ایک طرف تو پاکستان کو ٹی ٹی پی کی طرف سے دہشت گردی کی لہر کا سامنا ہے اور دوسری طرف یہ آستین کے سانپ ہیں جو ملک کے اندر سے دشمن کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ لوگ اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

قارئین، 14 اگست کو منایا جانے والا یوم پاکستان تمام پاکستانیوں کے لیے انتہائی فخر اور اہمیت کا دن ہے۔ یہ برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی سے سخت جدوجہد کے بعد حاصل کی گئ آزادی اور ایک آزاد مسلم ریاست کے قیام کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ دن بڑے جوش و خروش اور حب الوطنی کے ساتھ منایا جاتا ہے جو اتحاد اور ترقی کے جذبے کو تقویت دیتا ہے۔ پاکستان آزادی کے بعد کے اپنے سفر پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے اور مستقبل کا راستہ طے کرنے کی تگ ودو میں ہے کیونکہ ماضی کی قربانیوں کو یاد رکھنا اور ایک مضبوط، خوشحال اور ہم آہنگ قوم کی تعمیر کے لیے مل کر کام کرنا بہت ضروری ہے۔ یوم پاکستان ان اقدار اور اصولوں کی مستقل یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے جو ایک عظیم قوم کی بنیاد رکھتے ہیں۔ یہ دن ملک اور اسکی بہادر مسلح افواج کے ان اندرونی دشمنوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کرتا ہے جو ملک اور اس کے اداروں کے خلاف مسلسل بدنیتی پر مبنی حملوں میں مصروف ہیں۔ قوم یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ اندرونی ریاست دشمن عناصر کو سخت سبق سکھا کر حقیقی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں